ایمانِ معرفت ہے
Al-Risala, September 1987, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایمان کو معرفت کہا گیا ہے (مما عرفوا من الحق ، المائدہ ۸۳) اسی طرح حدیث میں ایمان کو علم کہا گیا ہے ۔ ارشاد ہوا ہے کہ جس شخص نے جان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا (من علم انہ لا اله الا الله دخل الجنة ، مسلم) معرفت اور علم کسی چیز کو شعوری طور پر پانے کا نام ہے۔ جب آدمی کسی چیز کو شعوری طور پر پائے تو ایسا پانا محض بے اثر عقیدہ یا جامد نظریہ نہیں ہوتا۔ وہ آدمی کے پورے وجود میں سما جاتا ہے۔ کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے ۔
اس قسم کے ایمان کا ایک واقعہ قرآن میں ساتویں پارہ کے شروع میں مذکور ہے ۔ کے علاقہ سے دس عیسائیوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے مدینہ آیا۔ نے ان کو قرآن کے کچھ حصے سنائے ۔ اس کو سن کر ان کے ذہن کی گرہیں کھل گئیں۔ خدا کو پہچان لیا۔ ان پر یہ منکشف ہوا کہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اس انکشافِ حقیقت کے بعد ان کا جو حال ہوا وہ قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوا ہے : اور جب انہوں نے سنا اس کلام کو جو رسول کی طرف اترا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں ، اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، ہم ایمان لائے ، تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے (و اذا سمعوا
آدمی کو لرزا دیتا ہے ۔ خدا کی ہیبت سے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی آواز پست ہو جاتی اس کے چلتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں ۔ اس کی زندگی ایسی پابند زندگی بن جاتی ہے جیسے خدا اس کے رات اور دن کا نگراں بن گیا ہو ۔
بعض مفسرین نے مومنین کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ وہ غیب پر اس طرح یقین رکھتے ہیں جس طرح وہ مشاہدہ پر یقین رکھتے ہیں ۔ (يؤمنون بالغيب كما يؤمنون بالشهادة) تفسیر ابن کثیر جلد اول ، صفحہ ۴۱ ۔
گویا قیامت میں خدا کو دیکھ کر لوگوں کا جو حال ہوگا وہ حال مومن کا بغیر دیکھے ہوئے اسی دنیا میں ہو جاتا ہے ۔ غیر مومن قیامت میں خدا کو دیکھ کر ڈھ پڑیں گے ، مومن اسی آج کی دنیا میں خدا کے سامنے ڈھ پڑتا ہے ۔ قیامت میں خدا کے فرشتے لوگوں کو عدالت الہی کی ترازو میں کھڑا کریں گے مومن اسی دنیا میں اپنے آپ کو عدالت الہی کی ترازو میں کھڑا کر لیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ غیر مومن پر قیامت میں گزرے گا وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے ۔ اسی زلزلہ خیز تجربہ کا نام ایمان ہے ۔