ایمان ایک اضافہ پذیر حقیقت ہے
Al-Risala, September 1987, pp. 33–34
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ ابراہیم میں ایمان اور مومن کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہو اہے کہ کلمہ ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ستھرا درخت ۔ اس کی جڑ زمین میں قائم ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں (الم تر كيف ضرب الله مثلا كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها فى السماء)
درخت کی ایک انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے ۔ بیج سے اکھوا ، اکھوا سے تنہ ، تنہ سے شاخیں ، شاخوں سے پتیاں اور پھر پورا درخت ۔ یہ خاص صفت جو درخت کو حاصل ہے یہی مومن کی بھی صفت اس دنیا میں ہوتی ہے ۔ وہ ہر آن بڑھتا رہتا ہے ۔ سے شروع ہو کر بڑھتے بڑھتے سر سبز درخت بن جاتا ہے ۔
ایمان کس طرح بڑھتا ہے ۔ اس کے بڑھنے کی صورت بھی وہی ہوتی ہے جو درخت کے بڑھنے کی صورت ہے ۔ درخت زمین اور فضا سے معدنیات ، گیسیں اور پانی لے کر اپنے وجود کو بڑھاتا
رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ فضا کی مضر گیس ( کاربن ) بھی اس کے خدائی کارخانہ میں داخل ہو کر اس کے وجود کا جز بن جاتی ہے اور وہ مفید گیس ( آکسیجن ) کی صورت میں باہر نکلتی ہے ۔ یہی مومن کا حال اس دنیا میں ہوتا ہے ۔
مومن اپنے ماحول میں پیش آنے والے واقعہ اور ہر مشاہدہ کو اپنے لیے غذا بناتا رہتا اس پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ فریاد کرنے کے بجائے صبر کرتا ہے ۔ گویا مصیبت اس کے ایمانی کار خانہ میں داخل ہو کر مثبت نفسیات کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ اسی طرح مومن کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ فخر نہیں کرتا بلکہ اس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر خدا کا شکر ادا کرتا ہے ۔ جو چیز عام انسانوں کو خدا سے غفلت اور سرکشی کی طرف لے جاتی ہے وہ مومن کو خدا سے قریب کرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔ حتیٰ کہ مومن کو اگر کسی سے شکایت ہوتی ہے تو وہ اس کو معاف کر دیتا گویا جو واقعہ عام انسان کو انتقام کی آگ میں جلانے کا باعث بنتا ہے ۔ وہ مومن کو خدا کی رحمت کے سائے میں پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے ۔
اسی طرح مومن جب زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہنی خانہ میں داخل ہو کر یہ سب چیزیں خدا کی نشانیاں بن جاتی ہیں وہ مخلوقات کے آئینہ میں خالق کو دیکھ لیتا ہے ، گویا جو مشاہدہ عام انسان کے لیے صرف مادی فائدہ یا Exploitation کا ذہن پیدا کرتا ہے وہ مومن کے ایمانی کارخانہ میں خدا کی یاد کی صورت میں ڈھل جاتا ہے ۔ اسی طرح ہر معاملہ اور ہر مشاہدہ مومن کو ربانی غذا دیتا رہتا ہے اور اس کے ایمان ویقین میں برابر اضافہ کرتا رہتا ہے ۔