Al-Risala · September 1987

ایمان ہر موقع پر اپنا پھل دیتا ہے

Al-Risala, September 1987, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

سورہ ابراہیم کی مذکورہ آیت میں ایمان کو ستھرے درخت سے مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ہر موسم میں اپنا پھل دیتا ہے ۔ ( توتی اكلھاكل حين باذن ربھا ) پھل دار درخت کا یہ قاعدہ ہے کہ جب اس کا موسم آتا ہے تو اس کی شاخوں پر پھل نکلنے لگتے ہیں ۔ مومن کا حال بھی اخلاق اور عمل کے دائرہ میں یہی ہوتا ہے ۔ مومن کا زندہ شعور ، اس کا خدا کو حاضر و ناظر جاننا ، اس کا یہ یقین کہ مرنے کے بعد خدا کی عدالت میں کھڑا ہونا ہے ۔

مومن کو اتنا احساس اور اتنا ذمہ دار بنا دیتی ہیں کہ وہ ہر موقع پر وہی کرتا ہے جو اس کے ایمان کا جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو اس سے وہی اخلاق اور کردار ظاہر ہوتا ہے جو خداوند ذوالجلال پر زندہ یقین رکھنے والے آدمی سے ظاہر ہونا چاہیے ۔ جب اس کے سامنے کوئی سچائی ظاہر ہوتی ہے تو وہ کسی تحفظ کے بغیر کھلے دل سے اس کا اقرار کر لیتا ہے۔ جب خدا کی عبادت کی پکار بلند ہوتی ہے تو وہ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر خدا کے آگے سجدے میں گر پڑتا ہے۔ جب اس کے مال میں سے خدا کا حصہ مانگا جاتا ہے تو وہ بلا تاخیر اس کو ادا کر دیتا ہے۔ جب کوئی حق دار اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ پورے انصاف کے ساتھ اس کو اس کا حق پہنچا دیتا ہے ۔ جب وہ کسی سے ایک بات کا وعدہ کرتا ہے تو اس کو پورا کیے بغیر اس کو چین نہیں آتا ۔

اس طرح مومن کا ایمان ہر موقع پر ایک ربانی لوزین کر ظاہر ہوتا ہے ۔ وہ ہر معاملہ میں ربانی کردار کی صورت میں نمایاں ہوتا ہے ۔ وہ ہر موقع پر وہی کرتا ہے جو اس کو کرنا اور وہ نہیں کرتا جو اس کو نہیں کرنا چاہیے ۔

Printed page