ایمان ایک فکری انقلاب
Al-Risala, September 1987, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان کوئی جامد عقیدہ نہیں ، ایمان ایک متحرک فکری سیلاب ہے ۔ ایمان ایک ربانی چشمہ ہے جو کسی بندہ خدا کے سینہ میں بہہ پڑتا ہے ۔ ایمان یہ ہے کہ ایمان آدمی کو اس طرح ملے کہ وہی اس اس کی زندگی بن جائے ۔ وہ ایسی روشنی ہو جس سے اس کا پورا وجود جگمگا اٹھے ۔ وہ ایسا رنگ ہو جس میں آدمی کے سارے معاملات رنگے ہوئے نظر آئیں ۔
ایمان خدا کی موجودگی کو پا لینے کا نام ہے ۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کی عظمتوں میں گم ہو جائے ، وہ احساس خداوندی میں نہا اٹھے ۔ ایمان آدمی کے جذبات کا حمد خدا وندی میں ڈھل جانا ہے ۔ میں رہتے ہوئے خدا تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے ۔
ایمان ایک بھونچال ہے جو خدا کی معرفت سے آدمی کے اندر اہل پڑتا ہے ۔ ایمان ایک دریا ہے جو خدا کے فیضان کو پا کر آدمی کے دل و دماغ میں جاری ہو جاتا ہے ۔ ایمان خدا کو پا لینا ہے ، اور خدا کو پا نا سب کچھ کو پا لینا ہے ۔ پھر کیا چیز ہے جو اس کے بعد آدمی کو نہ ملے ۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم واسماعيل و اسحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون فان امنوا بمثل ما امنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانماهم في شقاق فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم (البقرة ۳۷-۱۳۶)
کہدو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کلام پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور اس پر جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب پر اتارا گیا ۔ اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو اللہ کی طرف سے دیا گیا۔ ہم ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں۔ پس اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو انہوں نے اور اگر وہ پھر جائیں تو وہی ضد پر ہیں۔ اللہ تمہاری طرف سے ان کے لیے کافی ہو جائے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ۔