مثل صحابہ ایمان
Al-Risala, September 1987, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں اور اطرافِ مدینہ میں یہود آباد تھے۔ یہ آیت انہیں یہودیوں کے ذیل میں آئی ہے۔ یہ یہودی ان تاریخی نبیوں کو مانتے تھے جو پچھلے زمانہ میں ان کی نسل میں آئے اور جن کا ذکر ان کی کتاب بائبل میں موجود ہے ۔ مگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کا انکار کرتے تھے جو ان یہودیوں کے اپنے زمانہ میں عرب میں پیدا ہوئے ۔ کے برعکس صحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ وہ تمام پیغمبروں کا اقرار کرتے تھے ۔ اس پر کہا گیا کہ یہودی اگر صحابہ کی طرح مومن بنیں ، وہ پچھلے پیغمبروں کو ماننے کے ساتھ وقت کے پیغمبر کو بھی ۔ مانیں تو وہ خدا کی نظر میں مومن ہیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایمان دو قسم کا ہے ۔ ایک مثلِ یہود ایمان ۔ دوسرا مثل صحابہ ایمان۔
اللہ تعالیٰ کو مثل صحابہ ایمان مطلوب ہے ۔ اس کو مثل یہود ایمان مطلوب نہیں ۔ اب دیکھئے کہ دونوں میں فرق کیا تھا۔ وہ فرق صرف فہرست کے مکمل ہونے یا نامکمل ہونے کا یعنی اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کی فہرست انبیاء مکمل ہے اور یہود کی فہرست انبیاء یہ فرق حقیقت کا فرق تھا نہ کہ سادہ معنوں میں محض ظاہری فہرست کا ۔ یہود حضرت ابراہیم ، حضرت یعقوب ، حضرت موسیٰ کو مانتے تھے ۔ ان پیغمبروں کا معاملہ یہ تھا کہ وہ گزرے ہوئے دور کے پیغمبر تھے ۔ یہود کی قومی روایات میں ان کو عظمت کا مقام مل چکا تھا۔ ہر یہودی جو پیدا ہوتا وہ اول دن سے ان پیغمبروں کا نام اس حیثیت سے سنتا کہ وہ اس کی قوم کے عظیم بزرگوں میں سے تھے ۔ وہ ان کو ابتدا ہی سے عظیم پیغمبر کی حیثیت سے جانتا تھا ۔
اس کے برعکس محمد بن عبداللہ کا معاملہ یہ تھا کہ مدینہ کے یہود پہلی بار ان سے متعارف ہوئے تو اس طرح متعارف ہوئے کہ وہ اپنے وطن سے نکال دیئے گئے ہیں اور پناہ گزیں کے طور پر مدینہ پہنچے ہیں ۔ پہلے پیغمبروں کے نام کے ساتھ عظمت کی پُر اسرار داستانیں شامل تھیں جب کہ محمد بن عبداللہ النّران کو بس ایک عام انسان کے روپ میں دکھائی دیتے تھے۔ ہے کہ پہلے پیغمبروں کا پیغمبر ہونایہود کی سمجھ میں آیا اور محمد بن عبداللہ کا پیغمبر ہونا ان کی سمجھ میں نہ آسکا ۔ آپ کے بارے میں یہود کا پہلا تاثر ہی ان کے لیے آخری تاثر بن گیا ۔ صحابہ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے بھی اگرچہ آپ کو پہلی بار اسی روپ میں دیکھا جس روپ میں یہود نے آپ کو دیکھا تھا مگر صحابہ اس ظاہری مشاہدہ پر نہیں رکے بلکہ انہوں نے آپ کو اندر تک دیکھنے کی کوشش کی۔ یہود آپ کو ظاہر کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے، صحابہ نے آپ کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھا۔ یہود آپ کو آپ کے حال کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے، صحابہ نے آپ کو آپ کے مستقبل کے اعتبار سے دیکھا ۔ یہود آپ کو محمد بن عبداللہ کے روپ میں دیکھ رہے تھے صحابہ نے آپ کو محمد رسول اللہ کے روپ میں دیکھا ۔ گویا کہ صحابہ نے جوہر شناسی کا ثبوت دیا اور یہود جوہر شناسی کا ثبوت دینے سے عاجز رہے صحابہ نے حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھا اور اس کو پہچان کر اس کا ساتھ دیا۔ جب کہ یہود نے
یہ ثابت کیا کہ وہ حقیقت کو مجرد سطح پر پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایک لفظ میں یہود کا کیس تقلید آباء کا کیس تھا اور صحابہ کرام کا کیس جو ہر شناسی کا کیس۔ یہی وہ فرق ہے جس نے ایک گروہ کو اللہ کی نظر میں مومن ٹھہرایا اور دوسرا گروہ اللہ کی نظر میں غیر مومن ہو کر رہ گیا۔ معلوم ہوا کہ صحابہ والا ایمان معرفت والا ایمان ہے ۔ صحابہ نے مجرد سطح پر حقیقت کو پہچانا اور اُس کا ساتھ آج بھی وہی ایمان حقیقی ایمان ہے جو آدمی کے اندر مجرد سطح پر حقیقت کو دیکھنے کی نظر پیدا کر دے۔
یہ فرق بے حد بنیادی فرق ہے ۔ اِسی سے وہ تمام اعلیٰ خصوصیات پیدا ہوتی ہیں جو ہم صحابہ کرام کی زندگیوں میں دیکھتے ہیں۔