عبرت و نصیحت کا مزاج
Al-Risala, September 1987, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ایمان وہ ہے جو بس جامد عقیدہ ہو جو آدمی کے ذہنی اسٹور میں بہت سی چیزوں میں سے ایک چیز کے طور پر پڑا ہوا ہو۔ وہ آدمی کی زندگی کا کل نہ ہو بلکہ وہ اس کا صرف ایک جز ہو۔ ایمان وہ ہے جو آدمی کے اندر اتنی گہرائی کے ساتھ اترے کہ وہی اس کی فکر و نظر بن جائے۔ چیز کو اسی خاص زاویہ سے دیکھے۔ وہ ہر چیز میں اپنے ایمان کی جھلک پانے لگے۔ اس کا ایمان اس کا ایک جز نہ ہو بلکہ وہی اس کا کل بن جائے ۔
کوئی حقیقت جب گہرائی کے ساتھ کسی کو ملتی ہے تو وہ اس کی سوچ بن جاتی ہے۔ اسی قسم کی ایک عظیم حقیقت ہے ۔ یہ ناممکن ہے کہ ایمان ایک زندہ حقیقت کے طور پر کسی کے اندر داخل ہو اور وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات پر چھا نہ جائے۔
صحابہ کرام کا ایمان اسی قسم کا زندہ ایمان تھا ۔ ان کا ایمان ان کے پورے فکر و خیال پر چھا وہ ہر چیز میں اسی کا عکس دیکھنے لگے تھے۔ ہر چیز جو ان کی نگاہ سے گزرتی وہ ان کے ایمان کے سانچے میں ڈھل جاتی تھی۔ ہر مشاہدہ ان کے ذہنی خانہ میں داخل ہو کر ایمانی سبق کا ذریعہ بن جاتا تھا۔
ایک صحابی کا واقعہ ہے ۔ وہ اپنے گھر کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک گاڑی گزری جس میں دو جانور جتے ہوئے تھے۔ چلتے چلتے ایک جانور بیٹھ گیا اور دوسرا جانور کھڑا رہا۔
بیٹھ گیا تھا اس کو گاڑی والے نے ڈنڈے سے مارا۔ اس کو دیکھ کر صحابی نے کہا، اِنَّ فِي هٰذَا لَعِبْرَةً (اس کے اندر بھی نصیحت ہے) یعنی جو جانور چلتا رہا وہ بچ گیا اور جس جانور نے سستی دکھائی اس پر یہی معاملہ انسان کے ساتھ آخرت میں ہوگا۔ جو انسان خدا کی ڈیوٹی پوری کرے گا وہ نجات پائے گا اور جو انسان خدا کی ڈیوٹی نہیں پوری کرے گا اس کو سزا ملے گی۔ گاڑی کا واقعہ بظاہر ایک دنیوی واقعہ تھا مگر صحابی نے اس دنیوی واقعہ میں آخرت کی جھلک دیکھ لی۔ ایک مادی مشاہدہ صحابی کے ذہنی خانہ میں داخل ہو کر روحانی واقعہ میں اسی فکری تبدیلی کا دوسرا نام نصیحت ہے ۔