Al-Risala · September 1987

اعتراف

Al-Risala, September 1987, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں کسی آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل چیز دوسرے کے فضل و کمال کا اعتراف کرنا ہے ۔ ہر آدمی اپنے آپ میں اتنا زیادہ گم رہتا ہے کہ اس کو دوسرے کی خوبی دکھائی مگر ایک سچا مومن اس کمزوری سے پاک ہوتا ہے ۔ ایمان در حقیقت خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کی دریافت ہے ۔ جب یہ ایمان کسی کو گہرائی کے ساتھ ملتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی اپنی ذات اس کی نظر سے حذف ہو جاتی ہے ۔ اس کا ایمان اس سے اس کی انا کو چھین لیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کے اندر اعتراف کا مادہ کمال درجہ میں پیدا ہو جاتا ہے دوسرے کا اعتراف کرنے میں آدمی کی اپنی انا رکاوٹ بنتی ہے ۔ جس شخص کی انا مٹ چکی ہو اس کے لیے کیا چیز ہوگی جو دوسرے کے فضل و کمال کا اعتراف کرنے میں رکاوٹ بنے ۔ لبید ایک صحابی ہیں ۔ وہ عرب کے ایک شاعر تھے ۔ انہوں نے جب قرآن کو سنا تو وہ فوراً اس کے مومن بن گئے ۔ اس کے بعد ان کی شاعری چھوٹ گئی ۔ کسی نے پوچھا کہ آپ نے شاعری کیوں چھوڑی تو انہوں نے کہا : اَبْعَدُ الْقُرْآنِ (کیا قرآن کے بعد بھی) حضرت لبید کے اس جملہ کی اہمیت سمجھنے کے لیے ہم کو ۱۴ سو برس پیچھے جانا پڑے گا۔ حضرت لبید نے یہ جملہ اس وقت کہا جب کہ قرآن ابھی اتر رہا تھا ۔ جب قرآن کو ماننے والے جب دنیا میں قرآن کی وہ عظمت قائم نہیں ہوئی تھی جو بعد کو پیش آنے والے تاریخی واقعات کے نتیجہ میں قائم ہوئی۔ اس وقت یہ کہنا کہ ”کیا قرآن کے بعد بھی“ ایک بے حد

مشکل کام تھا۔ اس کے لیے صحابہ والا ایمان درکار تھا جو آدمی کی خودی کو اس سے چھین لے تاکہ وہ اپنی ذات کے باہر کی حقیقتوں کو کھلے طور پر دیکھنے لگے۔

Printed page