خدا کی نسبت سے دیکھنا
Al-Risala, September 1987, pp. 40–42
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابومسعود ایک صحابی تھے ۔ ایک بار وہ اپنے غلام پر خفا ہو گئے اور اس کو ڈنڈے سے مارنے لگے ۔ اتفاق سے اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس طرف سے ہوا۔ نے دیکھا کہ ابو مسعود اپنے غلام کو مار رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: ابا مسعود أنَّ اللهَ اقْدَرُ عليكَ مِنْكَ عَلى ھٰذا الغلام (اے ابومسعود، جان لو کہ اللہ تمہارے اوپر اس سے زیادہ قادر ہے جتنا تم اس غلام کے اوپر قادر ہو) حضرت ابومسعود نے جب اس تنبیہ کو سنا تو ان کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر پڑا۔
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ شخص جو اس سے پہلے اپنے غلام کو مار رہا تھا، اس کے بعد کیوں ایسا ہوا کہ ڈنڈا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابو مسعود معاملہ کو پہلے بندے اور بندے کی نسبت سے دیکھ رہے تھے ۔ اب اس یاد دہانی کے بعد وہ معاملے کو خدا اور بندے کی نسبت سے دیکھنے لگے ۔
جب وہ معاملے کو بندے اور بندے کی نسبت سے دیکھ رہے تھے تو وہ اپنے اور غلام کے درمیان فرق پارہے تھے ۔ میں مالک ہوں اور وہ ملازم ، میں طاقت ور ہوں اور وہ کمزور، میں امیر ہوں اور وہ غریب ، میں صاحب حیثیت ہوں اور وہ بے حیثیت ۔ مگر جب یہ ذہن ختم ہوا اور انہوں نے معاملہ کو خدا اور بندے کی نسبت سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ان میں اور غلام میں کوئی فرق نہیں ۔ اب انہوں نے اپنے آپ کو بھی وہیں کھڑا ہوا پایا جہاں انہوں نے اس سے پہلے اپنے غلام کو کھڑا کر رکھا تھا ۔ کیونکہ خدا کے نزدیک دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ انسانوں کے درمیان ہمیشہ فرق ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب معاملہ کو بندے اور بندے کی نسبت سے دیکھا جائے تو ایک اور دوسرے کے درمیان فرق دکھائی دیتا ہے۔ یہی فرق تمام ظلم اور فساد کا سبب ہے۔ جو آدمی اپنے آپ کو بڑا محسوس کرتا ہے وہ چھوٹے اور کمزور پر ظلم کرنے لگتا ہے ۔ لیکن اگر معاملات کو خدا اور بندے کی نظر سے دیکھا جانے لگے تو سارا فرق مٹ جاتے
کیوں کہ خدا کی نظر میں سب حقیر اور کمزور ہیں۔ یہ ذہن خود بخود ظلم و زیادتی کے مزاج کو چھین
صحابہ کرام کا حال یہی تھا ۔ وہ ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتے تھے ۔ وہ انسان کی طرف بڑھتے ہوئے سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھ ہر ظلم سے رکے رہتے ان کا قدم زیادتی کی طرف بڑھنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ ہر انسان کے ساتھ اس کا خدا کھڑا ہوا ہے ۔
دوسرے مسلمانوں کا ایمان بھی اسی وقت ایمان ہے جب کہ وہ اس قسم کا زندہ ایمان جب ان کے اوپر خدا کی عظمت اس طرح چھا جائے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو اس کے زیر اثر محسوس کرنے لگیں۔ جب بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے بھی وہ یہ سوچ کر سنبھل جائیں کہ وہ خدا سے معاملہ کر رہے ہیں ۔ کیوں کہ بندہ کمزور ہے مگر خدا تو کمزور نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ وہ ہے جس کو غزوہ بنی المصطلق کہتے ہیں ۔ یہ غزوہ 5ھ میں پیش آیا۔ اس غزوہ کے بعد ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنا کر مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ کو بد نام کرنا شروع کیا ۔ بعد کو قرآن ( سورہ نور) میں آیت اتری جس نے حضرت عائشہ کی کامل برأت کر دی ۔
اس وقت مدینہ میں ایک مہاجر مسلمان تھے جن کا نام مسطح بن اثاثہ تھا ۔ وہ بھی منافقوں کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر اس الزام میں شریک ہو گئے ۔ مسطح حضرت ابو بکر کے دور کے عزیز تھے ۔ ان کی غربت کی وجہ سے حضرت ابو بکر ہر ماہ ان کی مدد کیا کرتے تھے ۔ حضرت ابو بکر کی صاحبزادی تھیں ۔ قدرتی طور پر ان کو اس واقعہ کے بعد مسطح سے سخت شکایت مسطح کے اس فعل کے بعد حضرت ابو بکر نے قسم کھائی کہ اب میں مسطح کی کوئی مدد نہیں اس پر قرآن میں یہ آیت اتری کہ ۔ تم میں جو لوگ وسعت والے ہیں ان کو نہیں چاہیے کہ وہ قسم کھا لیں کہ وہ مسکینوں کی مدد نہیں کریں گے ۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کیا تم اس کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے ۔ اور اللہ بہت معاف کرنے
ہر ابن سعد بن جبیر و مخدوم اسلم بن یسیر نے لکھا کہ سورہ نور میں حضرت ابو بکر نے اس آیت کے بعد کہا : بلی واللہ انی لاحب ان یغفر اللہ لی ، ہاں خدا کی قسم میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کر دے ، اور مسطح کو جو اعانت وہ دیا کرتے تھے اس کو دوبارہ جاری کر دیا۔ بلکہ بعض روایات کے مطابق اس میں اضافہ کر دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ذاتی شکایت کے معاملہ میں صحابہ کا طریقہ کیا تھا۔ ان کی شکایت کبھی نفرت اور انتقام کی اس حد تک نہیں پہنچتی تھی جو دل سے نکل ہی نہ سکے۔ اور نہ ایسا ہوتا تھا کہ شکایت پیدا ہونے کے بعد وہ شکایت والے آدمی کے لیے ظالم بن جائیں ۔ اور اس کے خلاف ہر کارروائی کو اپنے لیے جائز سمجھ لیں۔ صحابہ کرام ہر معاملے کو آخرت کے لحاظ سے دیکھتے تھے۔ کے قصور کو معاف کرتے تھے تاکہ خدا ان کے قصور کو معاف کرے ۔ وہ دوسروں کی کوتاہی سے درگزر کرتے تھے تاکہ خدا ان کی کوتاہی سے درگزر فرمائے ۔ آخرت کا مسئلہ ان کے ذہن پر اتنی شدت سے چھایا ہوا تھا کہ اس کے مقابلہ میں دوسرا ہر مسئلہ انہیں ہلکا نظر آتا تھا۔ وہ آخرت کی خاطر سب کچھ چھوڑ سکتے تھے ۔ وہ آخرت کی خاطر ہر رنج کو بھلا دیتے تھے ۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اس اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دے سکے کہ انہوں نے برائی کے بدلے بھلائی کا سلوک کیا ۔ انہوں نے تکلیف پہنچانے والوں کو دعائیں دیں۔ جنہوں نے ان کو ستایا ان کے لیے وہ رحمت کا چشمہ بن گئے ۔ یہی ایمان مثل صحابہ ایمان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو جو ایمان مطلوب ہے وہ وہی ہے جو مثل صحابہ ایمان ہو۔ جس شخص کو یہ تمنا ہو کہ آخرت میں خدا اس کے ایمان کو قبول کرے اس کو چاہیے کہ وہ صحابہ کے نمونے کو پکڑے ، وہ صحابہ کے طریقہ کی پیروی کرے ۔ ایمان کے معاملے میں صحابہ کی تقلید کرنے والا بن جائے ۔