ہر حال میں انصاف
Al-Risala, September 1987, pp. 42–47
By Maulana Wahiduddin Khan
عبدالرحمن بن عوف ایک صحابی تھے ۔ اور حضرت خالد بن ولید بھی ایک صحابی تھے ۔ کے درمیان کسی دنیوی معاملہ میں شکایت پیدا ہوگئی ۔ شکایت اتنی بڑھی کہ وہ عرصہ تک ختم نہ ہوسکی ۔
اس درمیان میں ایک شخص حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس آیا ۔ اس نے ان کو خوش
کرنے کے لیے حضرت خالد کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اس نے یہ تاثر دینا چاہا کہ حضرت خالد دینی اعتبار سے کمزور ہیں۔ ان کا اسلام زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ۔ یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن عوف سنجیدہ ہو گئے ۔ انہوں نے مذکورہ آدمی سے کہا : مہ فان ما بیننا لہم مبلغ دینا ۔ (دور ہو ، ہمارے اور ان کے درمیان جو بات ہے وہ ہم دونوں کے دین تک نہیں پہنچے گی) یعنی ہمارے اور ان کے درمیان دنیا کے معاملہ میں جو شکایت ہے اس کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک دوسرے کے اسلام کو ناپنے لگیں ۔ اس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کو دینی حیثیت سے برا کہنے لگیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا مزاج یہ تھا کہ اگر کسی شخص سے ایک معاملے میں شکایت پیدا ہو جائے تو اس کو بس اسی معاملے تک محدود رکھا جائے ۔ ایک معاملے کی شکایت کو لے کر آدمی کو ہر معاملہ میں کنڈم نہ کیا جائے ۔ وہ قرآن کی اس ہدایت کے سختی سے پابند تھے کہ : ولا یجرمنکم شنآن قوم علی الا تعتد لوا اعدلوا هو اقرب للتقوی ( المائدہ : ۸) یعنی کسی کی دشمنی تمہیں یہاں تک نہ لے جائے کہ تم اس کے ساتھ انصاف نہ کرو ۔ بلکہ دشمن کے ساتھ بھی انصاف کرو ۔ یہی راستہ تقویٰ سے قریب ہے ۔
یہ ایمانی طریقہ جو صحابہ کرام کا تھا ، یہی عام مسلمانوں کو بھی اختیار کرنا ہے ۔ اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے مطابق ایمان کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک مثلِ یہود ایمان اور دوسرا مثلِ صحابہ ایمان ۔ مثلِ یہود ایمان دوسرے لفظوں میں نسلی اور تقلیدی ایمان وہ جامد پتھر کی مانند ہے جس میں کوئی جان نہیں ہوتی ۔ اس سے کردار اور عمل کی شاخیں نہیں اس سے روحانی ترقی کے چشمے جاری نہیں ہوتے ۔ ایسا ایمان آدمی کی دل کی گہرائیوں میں داخل نہیں ہوتا ۔ ایسا ایمان الگ رہتا ہے اور آدمی کی زندگی الگ ۔ اس کے برعکس مثلِ صحابہ ایمان ایک معرفت ہے ۔ وہ ایک ڈسکوری ہے ۔ وہ ایک فکری انقلاب ہے ۔ جب کسی آدمی کے اندر یہ ایمان پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے پورے وجود کو ہلا دیتا ہے ۔ اس کی ہستی خدا کے نور میں نہا اٹھتی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے سوچنے
اور عمل کرنے کی پوری دنیا بدل جاتی ہے ۔ وہ ظاہری چیزوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ حقیقت کو مجرد سطح پر دیکھنے لگتا ہے۔ گرد و پیش کی ہر چیز اس کے ایمان کی غذا بن جاتی ہے۔ اس کے لیے اتنی بڑی چیز ہوتا ہے کہ اس کے بعد ہر چیز اس کی نظر میں چھوٹی ہو جاتی ہے ۔ نفرت اور انتقام کی نفسیات سے بلند ہو جاتا ہے۔ اس کا ایمان اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ انصاف پر قائم رہے۔ وہ کبھی صراط مستقیم سے ادھر اُدھر نہ ہٹے ۔ دھلی ، یکم جولائی ۱۹۸۵ کاتب کی ضرورت ادارہ الرسالہ کو کاتب کی ضرورت ہے ۔ خواہش مند حضرات اپنی کتابت کے نمونہ کے ساتھ درخواست روانہ فرمائیں۔
تذکیر القرآن جلد دوم (سوره کہف _ سوره ناس) صفحات ۸۰۰
خبر نامہ اسلامی مرکز ۳۴۔
موجودہ حالات کے بارہ میں الرسالہ کا نقطہ نظر خدا کے فضل سے عام ہورہا ہے۔ اس کی نئی مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی روزنامہ ٹیلی گراف (۱۰ جون ۱۹۸۷) نے صدر اسلامی مرکز کی ایک تحریر نمایاں طور پر شائع کی ہے۔ اور اس کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا ہے: Cure for communalism اسی طرح ہفت روزہ نئی دنیا (۲۹ جون ۱۹۸۷) کے ایڈیٹر نے مولانا وحید الدین خاں کی ایک تحریر مکمل طور پر نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ تحریر بہت اہمیت رکھتی ہے۔ میں کہا گیا تھا کہ موجودہ مسائل کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان موجودہ نزاع کو یک طرفہ طور پر ایڈیٹر نئی دنیا نے اس نقطہ نظر کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "جو قائدین مسلمانوں کی لاشوں پر اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں وہ اس حکمت عملی کی مخالفت کرتے اور اسے ناقابل عمل اور بزدلانہ قرار دیتے ہیں۔ موجودہ غم وغصہ کے ماحول میں جب کہ مسلمانوں کا دل غم سے چور ہو چکا ہے، جذباتی اور ٹکراؤ کی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ حالات میں عوام کا ایک طبقہ گفتار کے غازی قائدین کو سر آنکھوں پر بٹھا تاہے ۔ دور اندیشی سے مستقبل کی تعمیر کی صلاح دینے والوں کو گالیوں سے نوازتا ہے۔ اس بات کی گواہ ہے کہ آخر کار عوام کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون انھیں تباہی اور بربادی کے دلدل میں لے جا رہا ہے اور کون ہوش اور دانش مندی سے پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے دلدل سے بچ کر گزرنے کی راہ دکھا رہا ہے"۔
الرسالہ انگریزی کے ذریعہ ہماری آواز تیزی سے ملک کے اعلیٰ طبقہ تک پہنچ رہی ہے۔ ہم کو انگریزی روزنامہ ناردرن انڈیا پتریکا کے مینیجنگ ڈائرکٹر مسٹر ٹمل کاتی گھوش کا خط (۲۷ جون۱۹۸۷) الٰہ آباد سے موصول ہوا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ انھیں الرسالہ انگریزی کا جون ۱۹۸۷ کا اشو ملا۔ اس کو دیکھ کر انھوں نے اس کو بہت پسند کیا ہے اور چاہتے ہیں کہ اس کو مستقل طور پر اپنے مطالعہ میں رکھیں۔ اس لیے انھیں ہر ماہ انگریزی الرسالہ پابندی کے ساتھ روانہ کیا جائے۔
انگلینڈ سے مسٹر ایڈورڈوٹنر (Edward Witners) نے اپنے خط (۲۵ جون ، ۱۹۸۱) میں الرسالہ انگریزی کے بارہ میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور دو سال کا زر تعاون بھیجتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے نام پابندی کے ساتھ الرسالہ انگریزی جاری رکھا جائے ۔ روزنامہ انقلاب میں مسٹر مترسیتارختی نے " خاتون اسلام " پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” مولانا وحید الدین خاں کی شخصیت ہندوستانی مسلمانوں کے آئندہ سنہرے دور کی ضمانت ان کا الرسالہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے جس کے ہم ایسے کا فر بھی مستقل قاری ہیں۔ ان کا تازہ ترین کارنامہ ۱۹۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب جس کا نام انھوں نے خاتون اسلام رکھا ہے ، ہم ہندوستانیوں کے ذہنوں پر جو مغربی کلچر کا احساسِ برتری چھایا ہوا ہے ، اس احساسِ برتری کے قفل پر موصوف کی یہ تصنیف بھر پور طاقت سے چلایا ہوا ایک ہتھوڑا ثابت ہوئی ہے “ تفصیلی تبصرہ انقلاب ( ۹ مئی ، ۱۹۸۱) میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لیے صدرِ اسلامی مرکز نے افریقہ کا سفر کیا۔ یہ سفر جون ، ۱۹۸۱ میں ہوا۔ اس کی مفصل روداد آئندہ کسی شمارہ میں انشاء اللہ شائع کر دی جائے گی ۔
میرٹھ کے حالات جاننے کے لیے صدرِ اسلامی مرکز نے ایک وفد کے ساتھ ۲۸ جون ، ۱۹۸۱ کو میرٹھ کا سفر کیا۔ اس سفر کے تاثرات اور مشاہدات انشاء اللہ آئندہ شائع کیے جائیں گے ۔ مندر مارگ (نئی دہلی) میں ۹ مئی ، ۱۹۸۱ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر صدرِ اسلامی مرکز نے قرآن کا درس دیا۔ درس کا موضوع ” نماز “ تھا۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں نماز کی اہمیت واضح کی گئی ۔
بعض مقامات پر یہ سوچ ابھری ہے کہ موجودہ فسادات کی اصل جڑ لوگوں کی بے شعوری ہے۔ ان فسادات کو ختم کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے شعوری کو ختم کر دیا جائے۔ ان مقامات پر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ الرسالہ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلایا جائے تاکہ لوگ باشعور بنیں ۔ یہ نہایت صحت مند رجحان ہے۔ فساد کی جڑ اسی طرح کٹ سکتی ضرورت یہ ہے کہ ہر جگہ یہی کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو الرسالہ پڑھایا جائے۔
فسادات کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے ایک بنیادی تجویز یہ ہے کہ ایک جیپ حاصل کی جائے اس میں لاؤڈ اسپیکر نصب ہو۔ اور اسی کے ساتھ ضروری تعمیری لٹریچر بھی موجود ہو۔ کے ذریعہ چند صالح مزاج کے آدمی بستیوں بستیوں کا سفر کریں اور ہر جگہ جا کر لوگوں کو سمجھائیں اور ان کے اندر تعمیری شعور پیدا کریں۔ اس اسکیم کے سلسلہ میں جو لوگ اپنا تعاون دینا چاہیں وہ مطلع فرمائیں۔
عرب ملکوں میں باہر کے لوگ کافی تعداد میں موجود ہیں اور ان کے درمیان دعوتی کام کے زبردست مواقع ہیں۔ کئی عرب ملکوں سے اس قسم کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ مثلاً ایک عرب ملک میں وہاں کے عرب نوجوان جو کمپنیوں میں کام کرتے ہیں وہ اپنی کمپنیوں میں کام کرنے والے مغربی افراد تک انگریزی الرسالہ پہنچارہے ہیں جن کو وہ بڑے شوق کے ساتھ پڑھتے
ایک عرب ملک سے ایک صاحب ایجنسی لکھتے ہیں: انگلش الرسالہ یہاں الحمد للہ یورپین افسران بڑی دل چسپی سے پڑھتے ہیں۔ ان کے درمیان انگریزی الرسالہ دن بدن مقبول ہوتا جا رہا انھوں نے انگریزی الرسالہ کی تعداد میں اضافہ کے لیے تحریر فرمایا ہے۔ ایک صاحب گلبرگہ سے لکھتے ہیں " ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ پابندی سے ہو رہا ہے۔ کثرت سے لوگوں کے ہاتھوں میں الرسالہ نظر آتا ہے۔ ماضی اور حال کا جائزہ لینے کے بعد یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ الرسالہ کا مستقبل بہت ہی زیادہ روشن ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ الرسالہ سے اپنی تمام اندرونی برائیوں کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ اور زندگی کی اندھیریوں میں ہمارے لیے الرسالہ ایک شمع کی مثال رکھتا ہے (غیاث رشاد ی)
ایک صاحب لکھتے ہیں : میں نے آپ کی کتاب تجدید دین کا گہرا مطالعہ کیا۔ واقعی یہ دین کی تجدید وہ تمام خیالات جو دین میں رخنہ پیدا کرتے ہیں ، اس کے مطالعہ سے دور ہو جاتے ہیں اور دین کا صحیح مفہوم دماغ میں آجاتا ہے۔ اس کتاب کو سمجھنے کے لیے وسیع النظری کی ضرورت ہے، کو تاہ ذہن اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ میں نے تذکیر القرآن کی پہلی جلد کا مطالعہ کیا موجودہ سائنسی دور کے لیے یہ بہترین تفسیر ہے ۔ (عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ ، سکندر آباد)