Al-Risala · October 1987

اصل مسئلہ

Al-Risala, October 1987, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سیاست کو، ایک لفظ میں ، احتجاج یا پروٹسٹ کی سیاست کہا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر ہندو قوم یا " ہندو حکومت " کو نشانہ بنا کر اس کے خلاف پر جوش تقریر کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس طرز عمل نے مسلمانوں کو ایک نئے قسم کا پروٹسٹنٹ فرقہ بنا کر رکھ دیا ہے۔

اگر ان حضرات سے کہیے کہ آپ اس احتجاجی سیاست میں کیوں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں تو وہ جواب دیں گے کہ یہ ہمارا دستوری حق ہے۔ اس ملک میں باقاعدہ دستور کی حکومت ہے۔ ہمارے دستوری حقوق ہم کو نہ دیئے جائیں تو خود دستور ہی ہم کو یہ حق دیتا ہے کہ ہم پر امن ذرائع کو کام میں لے کر اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔

یہ بات گو فہم کے اعتبار سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہے۔ اس دنیا میں ہندوستان کے تحریری دستور کے اوپر ایک اور غیر تحریری دستور ہے۔ یہ غیر تحریری دستور پہلے دستور سے زیادہ یہ غیر تحریری دستور یہ ہے کہ جب دستور اور حقیقت واقعہ کے درمیان ٹکراؤ ہو تو حقیقت واقعہ باقی رہے اور دستور کے الفاظ ہوا میں گم ہو کر رہ جائیں ۔ یہاں میں اس کی ایک واضح مثال دیتا ہوں۔ ہندوستان کا دستور جو ملکی قیادت کے اتفاق رائے کے ساتھ ۲۶ جنوری ۱۹۵۰ کو نافذ کیا گیا تھا۔ اس کی دفعہ ۳۴۳ میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ پندرہ سال کی مدت تک انگریزی زبان یونین کی سرکاری زبان رہے گی۔ اس کے بعد اس کی سرکاری زبان ہندی دیوناگری رسم الخط میں ہو جائے گی :

For a period of fifteen years the English language shall continue to be the official language of the Union. Thereafter the official language shall be Hindi in Devanagari script. اس دستوری دفعہ کے مطابق ہندی زبان کو پندرہ سال کے اندر یونین کی سرکاری زبان بننا مگر دو سنگین حقیقتیں اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئیں۔ ایک یہ کہ ہندی زبان ابھی اتنی زیادہ

ترقی یافتہ نہیں ہے کہ وہ کامیاب طور پر دور جدید کی ایک ریاست کی سرکاری زبان بن سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندی زبان کے تمام بڑے بڑے علم بردار اپنے بچوں کو ہندی اسکول کے بجائے انگلش اسکول میں پڑھانا پسند کرتے ہیں ۔

دوسری بڑی وجہ وہ تھی جو جنوبی ہند کی طرف سے پیدا ہوئی ۔ جنوبی ہند جو ہندوستان کا نصف حصہ ہے ، اس کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ہندی کو انڈین یونین کی سرکاری زبان بنایا گیا تو تمام مرکزی شعبوں میں شمالی ہند کا غلبہ ہو جائے گا اور وہ پیچھے ہو کر رہ جائیں گے ۔ چنانچہ جنوبی ہند میں اس کے خلاف شدید رد عمل ہوا۔ یہاں تک کہ نئی دہلی کے پالیسی ساز لیڈروں کو دستور کی اس دفعہ کو تاریخ کے سرد خانہ میں ڈال دینا پڑا۔

ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ کو دستوری حقوق نہ ملنے کا مسئلہ کہنا اس کی سنگینی کو گھٹانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ خود مسلمانوں کے اپنے پچھڑے پن کا مسئلہ ہے ۔ مسلمان اس ملک میں دراصل اپنے پچھڑے پن کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور اس کو غلط طور پر وہ دوسروں کے ظلم اور تعصب کے خانہ میں ڈال دینا چاہتے ہیں ۔

جو صورت حال حقیقت کے زور پر پیدا ہوئی ہو، اس کو آپ قانون کے زور پر ختم نہیں کر سکتے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی بے شعوری ہے ۔ اسی بے شعوری کی وجہ سے وہ اب تک تعلیم کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے ۔ اسی بنا پر وہ اس راز کو نہیں جانتے کہ مواقع کو استعمال کرنے کے لیے مسائل کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ تقریریں کرنے اور بڑے سے بڑے الفاظ بولنے کو کام سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ یہ محض لفظ بازی ہے نہ کہ کوئی واقعی کام ۔

اسی شعوری پچھڑے پن کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر چیز میں پیچھے ہو گئے ہیں ۔ شعور آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ حالات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھے ۔ وہ اپنے لیے صحیح منصوبہ بنائے ۔ وہ لوگوں کی مخالفانہ کارروائیوں کی کاٹ کر سکے ۔ وہ اپنے امکانات کو سمجھے اور ہوش مندی کے ساتھ ان کو استعمال کرے۔ دنیا میں آدمی کو دوسروں کے ظلم اور تعصب کے باوجود اپنے لیے راہ نکالنی پڑتی ہے، مسلمان اس صلاحیت کو کھو چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حالات کے خلاف صرف چیخ پکار کر رہے ہیں ، وہ ابھی تک اپنے لیے کوئی راستہ دریافت کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔

Printed page