Al-Risala · October 1987

تہذیبِ جدید کے مسائل

Al-Risala, October 1987, pp. 10–12

By Maulana Wahiduddin Khan

"مغربی سماج میں اگر بگاڑ ہے تو مسلمانوں کے موجودہ سماج میں بھی بگاڑ ہے۔ اس کے باوجود آپ مغربی تہذیب کو غلط اور اسلام کو صحیح کیسے کہتے ہیں؟ " ایک شخص نے کہا۔ مگر یہ اعتراض درست اس لیے کہ جس اعتبار سے ہم مغربی تہذیب اور اسلام کے درمیان تقابل کر رہے ہیں اس میں دونوں کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ مسلم سماج کا بگاڑ اسلام سے انحراف کا نتیجہ ہے جبکہ مغربی سماج کا بگاڑ عین اس کے اصولوں پر عمل کرنے کا نتیجہ۔

مسلمانوں کے درمیان جو بگاڑ ہے وہ اصول اور عمل کے درمیان فرق ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ اصول اور حقیقت واقعہ کے درمیان ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے معاشرتی زندگی کے بارے میں مذہبی اصولوں کے بالمقابل کچھ دوسرے اصول وضع کیے۔ اور قدیم اصول کے مقابلہ میں جدید اصول کی معقولیت کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ زمین کے قابل لحاظ حصہ پر مغربی اقوام کا سیاسی اور مادی غلبہ قائم ہو گیا۔ انھیں یہ حیثیت حاصل ہوگئی کہ وہ قدیم اصولِ حیات کو رد کر کے جدید اصولِ حیات کی بنیاد پر انسانی معاشرہ کی تشکیل کریں ۔

مغربی اقوام کے غلبہ کے ساتھ ہی یہ عمل شروع ہو گیا۔ اب اس تجربہ پر ۱۰۰ سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ مگر عملی تجربہ اصول کی صداقت کو ثابت نہ کر سکا۔ اس تجربہ نے صرف یہ بتایا کہ مغرب نے انسانی زندگی کے جو نئے اصول وضع کیے تھے وہ فطرت سے مطابقت نہ رکھتے تھے۔ حقیقت واقعہ کا یہ ٹکراؤ بہت جلد ظاہر ہو گیا۔ مغربی زندگی میں شدید قسم کی ابتری پیدا ہو گئی جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مسلم سماج میں آج جو بگاڑ پایا جاتا ہے اس کا حل یہ ہے کہ مسلم سماج کو سابقہ اسلامی اصولوں کی طرف لوٹایا جائے۔ مگر یہی بات مغرب کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ مغرب کا سماج اگر پیچھے کی طرف لوٹایا جائے تو اس کا لوٹنا عین انھیں اصولوں کی طرف لوٹنا ہو گا جن پر آج بھی وہ پوری طرح قائم ہے۔ جن لوگوں نے آزادانہ جنسی اختلاط کا نظریہ پیش کیا یا جنھوں نے

عورت کو ہر مردانہ شعبہ میں داخل کرنے پر اصرار کیا یا جنھوں نے یہ کہا کہ نکاح کا ادارہ ایک غیر ضروری بندھن ہے ۔ وہ آخر اپنے اصولوں کی طرف لوٹیں تو کس چیز کی طرف لوٹیں گے ۔ وہ اسی چیز کی طرف لوٹیں گے جس پر آج بھی وہ قائم ہیں اور جس کے ہولناک نتائج سے وہ بالفعل دوچار ہو رہے ہیں ۔ مسلمانوں کے بگاڑ کا حل یہ ہے کہ وہ اسلام کے چھوڑے ہوئے اصول کو دوبارہ اختیار کریں۔ جب کہ مغربی معاشرہ کے بگاڑ کا حل یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کردہ اصول کو ترک کر دے ۔ اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے یہاں ہم کچھ واقعاتی مثالیں پیش کریں گے ۔ الٹی طرف سفر امریکہ کا انگریزی ہفتہ وار ٹائم (Time) نہایت کثیر الاشاعت میگزین ہے ۔ ملکوں میں پڑھا جاتا ہے ۔ اس میگزین نے اپنی اشاعت ۲۶ جنوری ۱۹۸۷ میں امریکہ کے بارہ میں ایک دل چسپ رپورٹ شائع کی ہے ۔ یہاں ہم اس کا خلاصہ درج کرتے ہیں ۔ پچھلے ۲۵ سال کے اندر امریکہ میں خاتون کارکنوں کی تعداد بہت بڑھی ہے ۔ اس وقت بچہ پیدا کرنے کی عمر کی خواتین کی ۶۵ فی صد تعداد دفتروں میں کام کرتی ہے ۔ سے ۹۰ فی صد عورتیں وہ ہیں جو کار کردگی کے دوران حاملہ پائی گئی ہیں ۔ عورتوں کے لیے یہ زبر دست مسئلہ ہے ۔ کام کا بھاری بوجھ اٹھانا اور اسی کے ساتھ بیک وقت بچوں کی ماں بننا :

the heavy burden of holding down a job and having children at the same time. اسی قسم کی ایک امریکی خاتون لیلین گارلینڈ (Lillian Garland) ہے ۔ وہ کیلی فورنیا کی ایک کمپنی میں بطور ریسپشنسٹ کام کر رہی تھی ۔ ملازمت کے دوران وہ حاملہ ہو گئی ۔ نے ۱۹۸۲ میں عارضی طور پر دفتر سے چھٹی لے لی ۔ اس کے یہاں بچی پیدا ہوئی ۔ ڈاکٹر نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ تین مہینہ تک دفتر نہ جائے ۔ اس نے ایسا ہی کیا ۔ مگر تین مہینہ کے بعد جب وہ دوبارہ دفتر آئی تو اس کو بتایا گیا کہ اب کمپنی میں اس کے لیے جگہ نہیں ہے ۔ اس کی جگہ دوسرے کارکن کے ذریعہ پر کر لی گئی تھی ۔

ر لینڈ نے ۵۰ ڈالر ماہانہ کی سروس کھودی ۔ وہ ایسے وقت میں بے روزگار ہوگئی جب کہ بچی کی پیدائش کے نتیجہ میں اس کے اخراجات کافی بڑھ چکے تھے ۔ اس نے امریکہ کی فیڈرل کورٹ میں اپیل کی کہ کمپنی نے اس کو ملازمت سے برخوست کرکے اس کے ساتھ امتیاز (Discrimination) کا برتاؤ کیا ہے ۔ مقدمہ چلتا رہا ۔ گارلینڈ کے وکیل اور کمپنی کے وکیل نے ایک دوسرے کے خلاف دلائل پیش کیے ۔ یہاں تک کہ پانچ سال بعد جنوری ، ۱۹۸ میں امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس تھر گڈ مارشل (Thurgood Marshall) نے فیصلہ دیا کہ خاتون کا رکن اگر حاملہ ہو جائے تو جس ادارہ میں وہ کام کر رہی ہے اس کو چاہیے کہ وہ اس کو چار مہینہ کی باضابطہ

اس فیصلہ نے امریکہ میں زبر دست بحث چھیڑ دی ہے ۔ ایک طرف آزادی نسواں کی حامی خواتین خوش ہیں کہ بچے کی پیدائش اور نگہداشت کے مسئلہ میں انھیں قانون کی حمایت حاصل ہو گئی۔ دوسری طرف امریکہ کے سنجیدہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ خواتین کے لیے مضر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اس قسم کا تحفظ صرف خواتین کے حق میں امتیاز کو بڑھانے والا ثابت ہوتا ہے۔ یہ تدبیر ایسی ہے جو ہمیشہ الٹا نتیجہ ظاہر کرتی ہے :

Printed page