Al-Risala · October 1987

That almost always backfires.

Al-Risala, October 1987, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

لاس اینجلس کی مرچنٹس اینڈ مینو فیکچررس ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر ڈون بٹلر (Don Butler) نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک مہلک فیصلہ ہے۔ اگر کمپنیوں کو اس طرح حاملہ خواتین کو چار مہینہ کی باضابطہ رخصت دینی پڑی تو وہ دیوالیہ پن (Bankruptcy) کا شکار ہو جائیں گی۔ امریکی چیمبر آف کامرس کے اٹارنی لیمپ (Attorney Lamp) نے کہا کہ اس طرح عورت کے خلاف امتیاز اور بڑھ جائے گا اس لیے کہ بہت سی کمپنیاں یہ نہ چاہیں گی کہ وہ بچہ پیدا کرنے کی عمر میں عورتوں کو اپنے یہاں ملازم رکھیں :

Discrimination against women might increase. Many companies just won't hire women in their childbearing years (p. 21). گار لینڈ کے مذکورہ معاملہ کی حمایت میں ایک مشہور خاتون لیڈر بیٹی فریڈان (Betty Friedan)

نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں مردوں کے نمونہ پر پوری اتریں : Equality does not mean women have to fit the male model. یہ دلیل بھی کیسی عجیب ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عورتیں اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے اتنی مختلف ہیں کہ وہ مردوں کے "ماڈل" کے مطابق نہیں بن سکتیں تو اس عجیب و غریب صنفی برابری کی کیا ضرورت ہے کہ عورتوں کو مردوں کی طرح ہر جگہ کام کے لیے کھڑا کر دیا جائے ۔ اور پھر جبری قوانین کے ذریعہ اس مصنوعی برابری کو قائم رکھا جائے ۔

اسی طرح سلویا این ہیولٹ (Sylvia Ann Hewlett) نے کہا کہ امریکہ کی عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ ترین قانونی سطح پر اس حقیقت کا اعتراف کر لیا گیا کہ عورتوں کو دفاتر میں برابری کا مقام دلانے کے لیے ایک خاندانی سپورٹ کو وجود میں لانا ہو گا : This decision means that there is recognition at the highest legal levels that in order to get equal results for women in the workplace, you have to create family supporters (p. 21). یہ قدیم روایتی نظام کی معقولیت کا بالواسطہ اعتراف ہے۔ جدید تہذیب نے یہ معیار پیش کیا تھا کہ مرد کو عورت کا سپورٹر نہ ہونا چاہیے ۔ بلکہ عورت خود کمائے اور خود اپنی سپورٹر بنے ۔ مگر جب اس اصول کو عمل میں لایا گیا تو معلوم ہوا کہ عورت سپورٹر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اس سپورٹر کا نام "شوہر" تھا اور اب اس سپورٹر کا نام "کمپنی" ہے ۔ قدیم روایتی ماحول جو مذہب کے زیر اثر بنا تھا ، اس میں مرد بنیادی طور پر باہر کا کام کرتے تھے اور عورتیں بنیادی طور پر گھر کا کام ۔ یہ دراصل ایک طرح کی تقسیم کار تھی ۔ مگر جدید تہذیب نے اس کے متعلق کہا کہ یہ ایک صنف اور دوسری صنف کے درمیان امتیاز ہے۔ چنانچہ زور و شور کے ساتھ آزادی نسواں کی تحریک چلی ۔ عورتوں کو گھروں سے نکال کر دفتروں اور کارخانوں میں ڈال دیا گیا ۔

مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ اس نئے انتظام میں مختلف قسم کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ طور پر عورت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ حاملہ ہوتی ہے ۔ وہ بچہ پیدا کرتی ہے اور پھر ایک مدت تک

وہ باہر کے کام کے قابل نہیں رہتی۔ اس مشکل کے حل کے لیے قانون بنایا گیا کہ عورت کو حمل اور رضاعت کے دوران خصوصی چھٹی دی جائے۔ مگر اس قسم کا لفظی کھیل صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو قانون ساز مجالس میں بیٹھ کر قانون بناتے ہیں۔ اس اصول کا تحمل وہ لوگ نہیں کر سکتے جن کو عملاً ایک کارخانہ چلانا ہے یا ایک دفتر کا انتظام کرنا ہے۔ چنانچہ اب مالکوں اور خاتون ملازموں کے درمیان لامتناہی جھگڑے چھڑ گئے ہیں ۔

حکومتی ادارہ اب تک اس نزاع میں بظاہر خواتین کا ساتھ دے رہا ہے تاکہ اس کے تہذیبی اصول کی عظمت باقی رہے۔ مگر حقیقت کے خلاف یہ جانب داری قابل عمل نہیں۔ دفتروں اور کارخانوں سے کہے کہ وہ خاتون کارکنوں کو " چار ماہ " کی با تنخواہ چھٹی دیں تو کون ادارہ اس تہذیبی تعیش کو برداشت کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اداروں میں یہ رجحان بڑھے گا کہ جوان عورتوں کو ملازمت میں نہ لیا جائے اور جب عورتیں بوڑھی ہو چکی ہوں گی تو وہ اپنے آپ ملازمتوں میں جانے سے رک جائیں گی۔ اس طرح مغربی سوسائٹی میں وہی چیز شدید نصرورت میں پیدا ہو جائے گی جس کو ختم کرنے کے لیے آزادی نسواں کی تحریک چلائی گئی تھی۔ یعنی صنفی امتیاز۔

Printed page