درد ناک انجام
Al-Risala, October 1987, pp. 17–20
By Maulana Wahiduddin Khan
پلین ٹروتھ (The Plain Truth) ایک مشہور امریکی میگزین ہے ۔ وہ ۸۵۰۰۰۰ کی تعداد میں چھپ کر ساری دنیا میں بھیجا جاتا ہے ۔ اس ماہنامہ کی اشاعت ستمبر ۱۹۸۶ء میں صفحہ اول پر ایک امریکی لڑکی کی تصویر ہے جو حیرانی کے عالم میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اس لڑکی کا نام سالی (Sally) ہے۔ میں اس لڑکی کا ایک خط شائع ہوا ہے ۔ یہ ایک چھوٹا سا خط ہے ۔ مگر وہ جتنا چھوٹا ہے اتنا ہی زیادہ وہ درد ناک ہے۔ وہ مختصر خط یہ ہے :
When I was 8 years old I first had sex with a boy of 15. I did it because I lack love and attention from my parents. I need love, and my parents never show me any. Nothing really changed at home, and at 15 I became pregnant. My boy friend blamed me and left. I had nowhere to turn, I was trapped, so I had an abortion. Now I'm afraid to date anyone, and I cry myself to sleep ترجمہ : جب میری عمر آٹھ سال تھی اس وقت میں نے پہلی بار ایک پندرہ سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی فعل میں نے ایسا اس لیے کیا کہ میں اپنے والدین کی طرف سے محبت اور توجہ پانے سے محروم تھی ۔ محبت کی ضرورت تھی، مگر مجھے کبھی اپنے والدین کی محبت نہ مل سکی۔ میرے اس حال کے باوجود) گھر کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اور میں پندرہ سال کی عمر میں حاملہ ہوگئی۔ میرے دوست لڑکے نے مجھ کو ملزم ٹھہرایا اور مجھ کو چھوڑ دیا۔ کوئی صورت میرے لیے باقی نہ رہی۔ میں پھنس کر رہ گئی۔ چنانچہ میں نے حمل ساقط کرا لیا۔ اب میں کسی لڑکے سے تعلق قائم کرنے سے ڈرتی ہوں۔ ہر رات کو میں روتی رہتی ہوں یہاں تک کہ سو جاتی ہوں۔ امریکہ میں ہر دو منٹ میں ایک کم عمر لڑکی حاملہ ہو جاتی ہے) پلین ٹروٹھ کے مذکورہ شمارہ میں نیو یارک کے اخبار نویس جارج ڈون کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں ۱۵ سے ۱۹ سال کے درمیان کی ہر ایک ہزار لڑکیوں
میں ۹۶ لڑکیاں حاملہ پائی گئی ہیں۔
یہ انجام ہے فطرت سے انحراف کرنے کا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مرد اور عورت کی شکل میں پھر مرد اور عورت کے تعلق کا ایک نظام مقرر کیا ۔ وہ نظام یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک خاص عمر کو پہونچ کر نکاح کرلیں ۔ پھر وہ مل کر ایک گھر بنائیں۔ اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش کریں۔ طرح انسانی نسل چلائی جائے ۔ مگر جدید مغرب نے آزادی کے تصور کو اتنا بڑھا یا کہ عورت اور مرد کے باہمی تعلق کو بھی ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد کر دیا ۔ اس کے نتیجہ میں مغرب کے معاشرہ میں بے شمار خرابیاں پیدا ہو گئیں جن میں سے ایک وہ ہے جس کی ایک مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ اختلاط اور بے قید تعلق فطرت کے سراسر خلاف ہے ۔ معاملہ میں عورت " وحدت " کو پسند کرتی ہے ۔ جب کہ مرد کا معاملہ طبعاً کسی قدر مختلف ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ آزادانہ صنفی تعلق وفا دارانہ صنفی تعلق میں مانع بن جاتا ہے جو مرد سے زیادہ عورت کے لیے نفسیاتی ہلاکت کے ہم معنی ہے۔ اس کی سب سے زیادہ قیمت عورت کو بھگتنی پڑتی ہے ۔ آسٹریلیا کی مشہور آزادی پسند خاتون مسزِجر مین گریر (Ms Germaine Greer) نے بڑی عمر کو پہونچ کر یہ اعتراف کیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں آزادی نسواں کے لیے ان کا جوش و خروش حقیقت پسندانہ نہ تھا۔ انھوں نے ایک انٹرویو (انڈین ایکسپریس ۴ جنوری ۱۹۸۷) میں کہا : What is worrying today is the results of the sexual liberation movement —the number of teenaged girls who have been on the pill since they were 12 and 13, the number of teenaged girls who get pregnant by the time they are 15 and 16. What is happening to them? Sex means something quite different for men. They can love and leave. When the time comes to go to university, they can take off quite easily. Women have a different sensibility. They love with their heads, hearts and loins. And a broken love affair leaves them quite shattered. I have seen it happen to people close to me. And it is آج جو چیز پریشان کن ہے وہ آزاد صنفی تحریک کے نتائج ہیں۔ کم عمر لڑکیاں جو ۱۲ اور ۱۳ سال کی عمر سے مانع حمل گولیوں پر رہنے لگتی ہیں اور وہ لڑکیاں جو ۱۵ اور ۱۶ سال کی عمر میں حاملہ ہو جاتی ہیں، ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ صنفی تعلق مرد کے لیے کافی مختلف معنی رکھتا ہے ۔ کر سکتے ہیں کہ محبت کریں اور چھوڑ دیں۔ جب یونیورسٹی جانے کا وقت آتا ہے تو وہ نہایت آسانی
سے روانہ ہوسکتے ہیں ۔ عورتیں مرد سے مختلف حساسیت رکھتی ہیں ۔ وہ اپنے دماغ ، اپنے دل اور اپنے وجود کے ساتھ محبت کرتی ہیں ۔ ایک ٹوٹا ہوا محبت کا رشتہ انھیں بالکل توڑ کر رکھ دیتا ہے، میں نے یہ بات اپنے قریب کے لوگوں میں ہوتے ہوئے دیکھی ہے ۔ اور یہ دہشتناک ہے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سوسائٹی میں بھی بگاڑ پایا جاتا ہے اور مغرب کی سوسائٹی میں مگر دونوں میں ایک فرق ہے ۔ مسلمانوں کا بگاڑ اسلامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ خود ان کے اصولوں پر عمل کی پیداوار ہے ۔ کیلی فورنیا کے ایک کروڑ پتی رابرٹ گراہم (Dr Robert Graham) نے ایک انوکھا بینک قائم کیا۔ اس کا نام انھوں نے نوبیل اسپرم بینک (Nobel Spermbank) رکھا۔ اس "بینک" میں نوبیل انعام یافتہ افراد کے مادہ منویہ کو حاصل کر کے محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے عورتوں کو بار آور کیا جائے اور زیادہ اعلیٰ ذہانت (Above-average intelligence) والے بچے پیدا کیے جائیں ۔ بانی کا کہنا تھا کہ یہ بینک اس نے نااہل شوہروں (Infertile husbands) کے لیے قائم کیا ہے۔ تاہم جدید خواتین کی اباحیت پسندی اس پابندی کو ختم کر رہی ہے ۔ سی خواتین نکاح کے بغیر بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں ، نیز وہ چاہتی ہیں کہ ان کی اولاد اعلیٰ استعداد کی مالک ہو، ایسی خواتین آزادانہ طور پر اس بینک کی خدمات حاصل کر رہی ہیں ۔ انھیں خوآئین میں سے ایک کیلی فورنیا کی ڈاکٹر آفتن بلیک (Afton Blake) ہے۔ اس کی عمر اس وقت ہم ہم سال ہے۔ اس نے مذکورہ نوبیل اسپرم بینک سے رابطہ قائم کیا۔ لیے جس قسم کی اولا د چاہتی تھی ، اس کے مطابق اسے مشورہ دیا گیا کہ وہ نمبر ۲۸ (28 Number) کا مادہ حاصل کرے ۔ واضح ہو کہ اس بینک میں جن لوگوں کے مادہ منویہ جمع کیے گیے ہیں ان کو ان کے نام سے پکارا نہیں جاتا ۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک کو ایک نمبر دیا گیا ہے اور اسی خاص نمبر سے اس کو یاد کیا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر بلیک " نمبر ۲۸ " کے مادہ کو اپنے رحم میں داخل کر کے حاملہ ہوئی۔ مقررہ وقت پر اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس لڑکے کا نام اس نے ڈورون (Doron) رکھا۔
لفظ ہے جس کے معنی تحفہ یا عطیہ کے ہواتے ہیں۔ یہ بچہ اب چار سال سے زیادہ کا ہو چکا ہے اور وہ اب اسکول جانے لگا ہے۔ اس کی تصویر ہندستان ٹائمز ، ستمبر ۱۹۸۶ (میگزین صفحہ) پر شائع ہوئی ہے۔ ڈیلی ٹیلی گراف کا نمائندہ آئن بروڈی (Ian Brodie) مذکورہ خاتون سے اس کے لاس اینجلس (کیلی فورنیا) کے مکان پر ملا۔ اس کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر بلیک کی خوشیاں دھیرے دھیرے غم میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ باپ کے بغیر بچہ کی ولادت اس کے لیے طرح طرح کے مسئلے پیدا کر رہی ہے۔ ان مسائل کی طویل فہرست میں سے ایک یہ ہے کہ نو مولود اب بولنے لگا وہ بار بار پوچھتا ہے کہ میرے باپ کہاں ہیں ۔ ڈاکٹر بلیک نے بتایا کہ ایک بار ایسا ہو جب کہ ڈورون مجھ سے غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ وہ باہر جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے : There was one occasion when Doron got angry with me. He said he was going off to live with his dad. خاتون کے لیے شوہر کے بغیر اولاد حاصل کرنا پہلے ایک دلچسپ تجربہ معلوم ہوتا تھا، مگر اب وہ نازک مسائل کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ نو مولود ڈورون اپنے لیے ایک باپ سے محروم ہے :