Love Carefully
Al-Risala, October 1987, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
’احتیاط کے ساتھ محبت کیجئے‘ کی نصیحت کو اگر ہم لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہوگی کہ نکاح کے ساتھ محبت کیجئے، بے نکاح محبت کا طریقہ چھوڑ دیجئے ۔
ڈی ایچ لارنس (D. H. Lawrence) کا ناول "لیڈی شیٹرلی کا محبوب"
(Lady Chatterly's Lover) پہلی بار ۱۹۲۸ میں چھپا۔ اس میں آزادانہ جنسی تعلق کی وکالت کی گئی تھی۔ اس وقت اس ناول کو فحش سمجھا گیا اور جلد ہی اس کو بند (Ban) کر دیا گیا۔ اس کے بعد حالات بدلے اور ۱۹۵۹ میں دوبارہ اس ناول کو چھاپنے اور فروخت کرنے کی قانونی اجازت دے دی گئی۔ اس ناول نے امریکی نوجوانوں پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے اندر آزادانہ جنسی تعلقات عام ہو گئے۔ مگر اب دوبارہ آواز اٹھ رہی ہے کہ اس ناول پر پابندی لگائی جائے ۔
یہ ایڈز کا کرشمہ ہے۔ آزادانہ جنسی تعلقات نے ایڈز کی پر اسرار مگر حد درجہ مہلک بیماری پیدا کی ہے۔ اور اب مغرب کے لوگ مجبور ہورہے ہیں کہ آزادانہ جنسی تعلق کے بارے میں اپنے خیالات پر نظر ثانی کریں (۲۲)
ٹائم کے الفاظ میں، ہر جنسی ترغیب پر دوڑنے والے لوگ، جلد یا بدیر، جنسی احتیاط اور پابندی کے ایک نئے دور کی حقیقت سے دوچار ہوں گے :
Swingers of all persuasions may sooner or later be faced with the reality of a -new era of sexual caution and restraint (p. 24). مذکورہ تبصرہ کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ فطرت کے حقائق انسان کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ آزادانہ جنسی تعلق کے طریقہ کو چھوڑ دے اور پابند جنسی تعلق کے طریقہ کو اختیار کرے۔ شریعت خداوندی میں عورت اور مرد کے درمیان جنسی تعلق کو نکاح کی قید کے ساتھ وابستہ کیا گیا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے آزادی پسند لوگوں نے کہا کہ یہ انسان کے اوپر غیر ضروری قسم کی پابندی ہے ۔ اس سلسلہ میں بے شمار لٹریچر شائع کیا گیا۔ یہاں تک کہ مغربی ممالک میں
آزادانہ جنسی تعلق ایک عمومی رواج کی صورت اختیار کر گیا۔
لوگ خوش تھے کہ انھوں نے شریعت اور مذہب کی پابندی سے آزاد ہو کر لامحدود عیش کا راز دریافت کر لیا ہے ۔ مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں پہنچ کر آزادانہ جنسی تعلق نے نئے نئے امراض پیدا کر دیئے ۔ اور بالآخر " ایڈز " کی مہلک بیماری نے لوگوں کو یہ ماننے پر مجبور کر دیا کہ شریعتِ خداوندی کا طریقہ ہی فطری طریقہ ہے ۔ اس کے مقابلہ میں آزادانہ جنسی تعلق انسانی صحت کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹائم میگزین کے مذکورہ شمارہ (صفحہ ۴۴) میں ایک مرد اور ایک عورت کو اس حال میں دکھایا گیا ہے کہ ان کو ایک خوفناک سانپ نے چاروں طرف سے لپیٹ لیا ہے ۔
قرآن میں ہدایت کی گئی تھی کہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق قیدِ نکاح میں لا کر کرو نہ کہ بدکاری کے طور پر کرنے لگو (محصنین غیر مسافحین، مائدہ ۵) مفسرین نے قرآن کی اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے کہ عورتوں کے ساتھ نکاح کے ذریعہ تعلق قائم کرو نہ کہ زانی بن کر (یعنی متزوجین غیر زانين تجربات نے بتایا کہ یہی طریقہ صحیح فطری طریقہ مناکحت اور مسافحت میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک اگر زندگی ہے تو دوسرا موت ۔ ایک طریقہ انسانی سماج کے لیے رحمت ہے تو دوسرا طریقہ انسانی سماج کے لیے عذاب ۔ ٹائمس آف انڈیا (۱۹ مارچ ، ۱۹۸۷) نے ایڈز روک (AIDS Check) کے عنوان کے تحت ایک امریکی رپورٹ شائع کی ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو بعض تدبیریں اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے جس کے ذریعہ وہ ایڈز کی مہلک بیماری سے بچ سکتے ہیں ۔ ان تدبیروں میں سب سے زیادہ خاص تدبیر جنسی پرہیز ہے ؛ یہ واقعہ انسانی قانون پر خدائی شریعت کی برتری کا کھلا ہوا ثبوت ہے ۔ کو ماننے والا ایک شخص اگر خدا نخواستہ مسافحت کا طریقہ اختیار کرے اور اس کو ایڈز کی بیماری لگ جائے تو اس کو اصول شریعت سے انحراف کا نتیجہ کہا جائے گا۔ اس کے برعکس مغربی
تہذیب کا ایک انسان مسافت کرکے ایڈز میں مبتلا ہو تو وہ عین اس کے اصول کی غلطی کا نتیجہ پہلے واقعہ کی صورت میں ایک انسان کی غلطی ثابت ہوتی ہے جب کہ دوسرے واقعہ کی صورت میں خود تہذیب جدید کے اصول کی غلطی ۔