غیر فطری مساوات کا نتیجہ
Al-Risala, October 1987, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
"کوئی شخص جو مجھ کو جانتا ہو وہ یقین نہیں کر سکتا کہ میں نے کیا کیا ہے ۔ ایک ۳۵ سالہ امریکی نے کہا، جو کہ بظا ہر ایک سنجیدہ اور معصوم چہرہ والا آدمی ہے۔ اس نے اپنی عورت کو مارنے کی کہانی بیان کی جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ اس نے گلا گھونٹ کر اس کو بے ہوش کر دیا۔ اس نے اس کو کیچڑ میں دھکیل دیا۔ اس نے چھری سے اس کا گلا کاٹ دینا چاہا، وغیرہ ۔ "میں نے کیسے ایسا کیا؟ " اس نے تعجب کے ساتھ کہا۔ "لوگ مجھ کو ایک اچھے آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ میرا اپنا ایک بزنس ہے ، میں شراب نہیں پیتا، میں سگریٹ نہیں پیتا۔ دوسری عورتوں کا پیچھا نہیں کرتا ! " اس کے باوجود ایسا ہوا کہ اس شخص نے بار بار اپنی بیوی
امریکی ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ (مارچ ۱۹۸۷) میں اس طرح کے بہت سے امریکیوں کی کہانی بیان ہوئی ہے۔ ڈائجسٹ کے اس مضمون کا عنوان ہے ۔ لوگ کیوں ان عورتوں کو مارتے ہیں جن سے وہ محبت کرتے ہیں :