It is a pattern of coercive control (p. 136).
Al-Risala, October 1987, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
ریڈرز ڈائجسٹ کی مذکورہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے :
“Any batterer can tell you why he hit her,” says Ellen Pence, director of the Domestic Abuse Intervention Programme. “He wanted control over her, he wanted his own way” (p. 140.)
کوئی بھی مارنے والا مرد آپ کو بتائے گا کہ اس نے عورت کو کیوں مارا۔ ڈی اے آئی پی کے ڈاکٹر ایلن پینس نے کہا: " اس نے عورت کے اوپر کنٹرول حاصل کرنا چاہا۔ اس نے چاہا کہ اس کی اپنی مرضی چلے "
مذکورہ بیان کی روشنی میں غور کیجئے تو یہ صورتِ حال براہِ راست طور پر جدید مغربی تہذیب کا نتیجہ ہے ۔ جدید مغربی تہذیب نے عورت کو مرد کے برابر قرار دیا۔ اس نے عورتوں کے لیے علیحدہ روزگار کا انتظام کرکے انھیں یہ موقع دیا کہ وہ مردوں سے آزاد اپنی مستقل معاشی بنیاد حاصل کرسکیں ۔ اس بنا پر عورتوں کے اندر برابری کا احساس شدت کے ساتھ پیدا تاہم یہ احساس مصنوعی تھا۔ کیوں کہ مذکورہ معاشی بندو بست کے باوجود مغربی تہذیب کے لیے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ وہ فطرت کی اس تقیسم کو بدل دے کہ مرد پیدائشی طور پر صنف قوی ہے اور عورت پیدائشی طور پر صنف ضعیف ۔
اس مصنوعی مساوات کے نتیجہ میں ان ملکوں کی گھریلو زندگی ایک تضاد کا شکار ہو گئی۔ ان گھروں میں ایسی عورتیں رہنے لگیں جو اپنی جسمانی بناوٹ کے اعتبار سے تو مرد کے مقابلہ
میں اسی طرح کمزور تھیں جس طرح ہر دور کی عورتیں کمزور رہی ہیں۔ مگر مزاج کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو مردوں کا ہمسر سمجھ رہی تھیں۔ مرد صنف قوی ہونے کی وجہ سے عورتوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتا تھا۔ مگر عورتوں نے اپنے مصنوعی مزاج کی بنا پر کنٹرول قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کش مکش کا نتیجہ یک طرفہ طور پر عورتوں کے حق میں بُرا ثابت ہوا۔ عورت اور مرد دونوں اگر واقعةً حیاتیاتی طور پر یکساں ہوتے تو کبھی مرد عورت کو مارتا اور کبھی عورت مرد کو مارتی۔ مگر چونکہ یہاں معاملہ یکسانیت کا نہ تھا، اس لیے وہی صورت پیش آئی جو خربوزے اور چھری کے ٹکراؤ میں پیش آتی ہے۔ مرد ہمیشہ مارنے والا ثابت ہوا ۔ عورت ہمیشہ مار کھانے والی ۔
اس معاملہ میں جدید عورت کی مظلومی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ وہ بھاگ کر بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق ایک عورت نے کہا کہ اگر کوئی عورت بھاگنا چاہے تو اس کا شوہر اس کو دھمکی دیتا ہے کہ میں تم کو پکڑلوں گا اور تمہیں مار ڈالوں گا۔ ضربیں اور موتیں اس وقت پیش آتی ہیں جب کہ عورتیں باہر بھاگ جانا چاہتی ہیں: If you try to leave, a husband may threaten, “I'll find you and kill you." Many of the worst injuries and deaths happen as women try to get away (p. 137). فطرت کی تقسیم میں مرد کو عورت کے اوپر قوام بنایا گیا ہے۔ اب اگر اس تقسیم کو مصنوعی طور پر بدلنے کی کوشش کی جائے تو اس کا انجام وہی ہوگا جس کی ایک تصویر مذکورہ بالا رپورٹ میں دکھائی دیتی ہے۔ جدید تہذیب سے پہلے کبھی ایسا نہ تھا کہ عورتیں اس طرح اپنے گھروں میں ماری جائیں۔ یہ صرف دورِ جدید کی خصوصیت ہے۔ اور یہ براہِ راست طور پر اس مصنوعی نظریہ مساوات کا نتیجہ ہے جو تاریخ میں پہلی بار مغربی تہذیب میں اختیار کیا گیا ۔ تاریخ کے پچھلے دور میں بھی عورت کو مارنے کے واقعات ہوتے تھے مگر وہ استثنائی طور پر صرف نچلے طبقات میں پیش آتے تھے۔ لیکن جدید حالات نے ان کو بڑھا کر اعلیٰ طبقات کے دائرہ تک پہنچا دیا۔ اس نے ایسے واقعات کو مہذب انسانوں کا مسئلہ بنا دیا جب کہ اس سے
پہلے وہ صرف غیر مہذب انسانوں کے مسئلہ کی حیثیت رکھتا تھا۔