جدید عورت کی مظلومی
Al-Risala, October 1987, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سیاح امریکہ گیا۔ ایک بار وہ وہاں کے ایک کلب میں تھا جہاں لڑکے اور لڑکیاں مل کر رقص کر رہے تھے۔ سیاح کنارے کی ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ایک امریکی لڑکی آئی اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے اداس لہجے میں کہا: مسٹر سیاح، کیا میرے اندر گلیمر ”کیوں نہیں، تمہارے اندر تو گلیمر ہے“ سیاح نے جواب دیا۔ وجہ ہے کہ کوئی لڑکا مجھے ڈیٹ نہیں دیتا“ لڑکی نے کہا۔
ڈیٹ (Date) کے معنی انگریزی زبان میں تاریخ کے ہوتے ہیں۔ مغربی ملکوں میں یہ لفظ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک رواج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ ہے ایک صنف کا دوسری صنف کو کسی مقررہ تاریخ کو مدعو کرنا۔ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کا تجربہ کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ڈیٹ دے کر ایک دوسرے کو اپنے پاس بلاتے ہیں۔ مغربی زندگی میں یہ رواج اتنا زیادہ عام ہو گیا ہے کہ جس لڑکی کو کوئی لڑکا، ڈیٹ نہ دے وہ اپنے آپ کو کچھ کم سمجھنے لگتی ہے۔ اس کا خیال یہ ہو جاتا ہے کہ شادی کے بازار میں اس کی کوئی قیمت ہی نہیں ۔
ڈیٹنگ کا یہ طریقہ ابتداء صرف گفتگو اور ملاقات تک محدود تھا۔ اب بڑھتے بڑھتے وہ باقاعدہ جنسی تعلقات تک پہنچ گیا ہے۔ مغربی لڑکوں کے لیے یہ ایک مہذب طریقہ بن گیا ہے کہ وہ ڈیٹ دے کر ایک لڑکی کو ایک تنہا کمرہ میں بلائیں اور پھر وہاں اس کے ساتھ جبری طور پر بدکاری کریں۔
اس سلسلہ میں امریکی میگزین ٹائم (۲۳ مارچ، ۱۹۸۷) نے ایک سبق آموز رپورٹ شائع اس کا عنوان بامعنی طور پر یہ ہے : جب ڈیٹ زنا کاری میں تبدیل ہو جائے ۔ سوسن (Susan) ۲۲ سال کی ایک غیر شادی شدہ خاتون ہے۔ اس کی ملاقات ایک مرد سے جب دونوں رخصت ہونے لگے تو مرد نے اس کو ڈیٹ دی۔ اس کے مطابق دونوں ایک کمرے میں جمع ہوئے۔ ۴۵ منٹ تک وہ ٹیلی وزن دیکھتے رہے اور ادھر اُدھر کی باتیں
اس کے بعد مرد اس کے پاس آگیا اور آگے کے افعال کرنا شروع کر دیئے۔ عورت ٹھہرو ٹھہرو کہتی رہی۔ مگر مرد نہیں مانا۔ اس نے کہا کہ تم محض تکلف میں ایسا کہہ رہی ہو، ورنہ حقیقتًہ تم مجھے کو روکنا نہیں چاہتی ہو :