فطرت سے دور ہو کر
Al-Risala, October 1987, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کا بچہ تمام جانداروں کے بچے میں سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے ۔ اس کو جسمانی پرورش اور ذہنی تربیت دونوں مقصد کے لئے لمبے عرصہ تک اپنے ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہے کہ قدرت نے انسان کے اندر اپنے بچے کے لئے خصوصی کشش رکھی ہے ۔
قدیم زمانہ میں کسی بچے کے لئے اپنے باپ یا ماں سے محروم ہونا صرف ہنگامی اسباب سے ہوتا تھا ۔ جنگ یا کسی اتفاقی حادثے سے قبل از وقت موت ۔ عام حالات میں یقین کیا جا سکتا تھا کہ بچوں کو اپنے والدین کی سر پرستی پختگی کی عمر تک حاصل رہے گی ۔
جدید ترقی یافتہ سماج میں یہ استثنا اب عموم بن گیا ہے ۔ اور یہ نتیجہ ہے جدید تصور زندگی کا جس نے نکاح کے رشتہ کو غیر مقدس بنا دیا ہے ۔ اب یا تو نکاح کے بغیر لڑکے پیدا ہوتے ہیں یا نکاح کے جلد ہی بعد طلاق کی شکل میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہے ــــــــ بچوں کی اپنے ماں باپ سے جدائی ۔ بچوں کا اپنے والدین کے جیتے جی یتیم ہو جانا ۔ اس بڑھتی ہوئی ”یتیمی“ نے جدید معاشرہ کے لئے طرح طرح کے پیچیدہ مسائل پیدا کر دئے ۔ اس میں سے ایک وہ ہے جس کو محرومی کا بونا پن (Deprivation dwarfism) کا نام دیا گیا ہے ۔ سلسلہ میں مغرب کے طبی ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ (ایوننگ نیوز ، ۲۷ جون ۱۹۸۴) سامنے آئی ہے ۔ اس رپورٹ میں مغربی طرز حیات کے نتائج کے بارہ میں بہت سے انکشافات کیے گیے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ سے محرومی کی بنا پر جن بچوں کو ابتدائی عمر میں محبت نہیں ملتی ان میں مختلف قسم کا نقص پیدا ہو جاتا ہے ۔ مثلاً جسمانی نشو و نما میں کمی ۔ دماغ کا ہلکا پن ۔ حتیٰ کہ یہ چیزیں بعض اوقات ان کی قبل از وقت موت کا باعث ہو جاتی ہیں ۔
محرومی کا بونا پن نامی بیماری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ ٹھیک طرح سو نہیں پاتا ، اس کا نظام ہضم ٹھیک طرح کام نہیں کرتا ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسپتالوں میں جہاں چھوٹے بچے بیڈ پر ڈال دئے جاتے ہیں ، پیٹھ کے بل دیر دیر تک پڑے رہنے سے ان کے سر کا پچھلا حصہ گنجا ہو جاتا ہے کیوں کہ وہاں کوئی ماں بار بار کروٹ بدلنے کے لئے موجود نہیں ہوتی ۔ ماں باپ سے محروم ہو کر دار الاطفال میں پرورش پالنے والے
بچے اپنے ذہنی اور جسمانی ارتقاء سے محروم رہتے ہیں۔
ڈاکٹر گارڈنر (Dr. Gardner) کا کہنا ہے کہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دماغ کی اعلیٰ سطح سے ارتعاشات (Impulses) اٹھتے ہیں۔ یہ ارتعاشات جسمانی نظام میں داخل ہو کر مختلف قسم کے ہارمون پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو زندگی کی نشوونما کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو پروٹین کو شکر میں تبدیل ماں باپ کی محبت سے محروم ہو کر جو بچے پرورش پاتے ہیں ان میں یہ قدرت کی علیٰ کم ہو جاتا ہے۔ یہ ہوتا ہے کہ ان کا جسم حاصل شدہ پروٹین کو پوری طرح استعمال نہیں کر پاتا جو ان کے نشوونما کے لئے انتہائی
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فطرت کے راستے سے ہٹنا کس قدر تباہ کن ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی دنیا سے ہٹ کر اپنے لئے کوئی دوسری دنیا نہیں بنا سکتا۔ اس کے لئے لازم ہے کہ اسی دنیا کے ساتھ مطابقت کرے۔ اگر وہ فطرت کی شاہراہ کو چھوڑ کر اپنے لئے کوئی دوسری شاہراہ بنا نا چاہے گا تو وہ صرف ناکامی اور بربادی پر ختم ہوگا۔ اس کے سوا اس کا کوئی انجام نہیں۔