بے قیدی کا تجربہ
Al-Risala, October 1987, pp. 37–38
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکی میگزین نیوز ویک (۲۱ جنوری ۱۹۸۵) صفحہ ۳۵ پر ایک تصویر ہے۔ میں امریکی خواتین کا ایک جلوس دکھائی دے رہا ہے۔ جلوس کے آگے ایک نوجوان عورت ایک بینر اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے:
Keep your laws and your morality off my body اپنے قوانین اور اپنے اخلاق کو میرے جسم سے دور رکھو۔
مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے لوگ اس وقت دوگروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک وہ جو کھلے عام اسقاط کے قائل ہیں۔ یہ لوگ اپنے کو " اسقاط نواز" نہ کہہ کر اپنے کو انتخاب نواز (Pro-choice) کہتے ہیں۔ دوسرا اگر وہ جو اسقاط کا مخالف ہے وہ اپنے آپ کو زندگی نواز (Pro-life) کہتا ہے۔
جدید مغربی مفکرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو سب سے بڑی چیز دریافت کی ہے وہ آزادی مگر بے قید آزادی کا تجربہ جو جدید مغرب میں ہوا وہ بتا تا ہے کہ آزادی خیر اعلیٰ نہیں ہو سکتی۔
آزادی اگر خیر اعلیٰ ہو تو وہ اس قبیح انجام تک کیسے پہنچ جاتی ہے جس کا ایک نمونہ اوپر کے اقتباس میں نظر آتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آزادی بے حد قیمتی چیز ہے۔ مگر انسان کے لئے خیر اعلیٰ پابند آزادی ہے نہ کہ مطلق آزادی۔ یعنی انسان کے مقابلہ میں آزادی مگر خدا کے مقابلہ میں پابندی۔ انسان خدا اور بندے کے درمیان ہے۔ جہاں تک اپنے جیسے انسانوں کا تعلق ہے، ان کے مقابلہ میں بلاشبہ ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری شدید تر حقیقت یہ ہے کہ خدا کے مقابلہ میں انسان مکمل طور پر پابند ہے۔ خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی آزادی حاصل اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو اپنی آزادی کا استعمال اس طرح کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں خدا کے احکام کا پابند رہے۔ یہی پابندی آزادی کے صحیح استعمال کی ضمانت