Al-Risala · October 1987

Mixing Sex And Secrets

Al-Risala, October 1987, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ادارہ پنٹاگان ۲۷ ملین لوگوں کے جنسی اعمال کی بابت محکمہ دفاع کے سیکورٹی کلیرنس کے معاملہ میں پریشان ہے۔ جنوری ۱۹۸۷ء میں پنٹاگان نے اپنے ضوابط کی توسیع کرتے ہوئے فوج کے لوگوں، شہری کارکنوں اور ٹھیکہ کے ملازموں پر یہ شرط عائد کر دی ہے کہ وہ کلیرنس کے تحت یہ بتائیں کہ کیا وہ جنسی اعمال مثلاً زنا، اغلام اور محرمات کے ساتھ مباشرت میں مبتلا رہے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد یہ اطمینان حاصل کرنا ہے کہ وہ لوگ جن کی پہو نچ خلومت کے رازوں تک ہے ان میں یہ کمزوری نہیں ہے کہ ان کو بلیک میل کیا جا سکے :

The Pentagon has been fretting about the sexual practices of the 2.7 million people with Defense Department security clearances. In January (1987) the Pentagon expanded its rules to compel service personnel, civilian workers, and contract employees with clearances to divulge workers and contract employees with clearances to divulge whether they have engaged in such sexual acts as adultery, sodomy and incest. The rules are intended to ensure that those with access to secrets are not vulnerable to blackmail (p. 29). اباحیت پسند لوگوں کا دعویٰ تھا کہ نکاح سے باہر جنسی تعلقات محض گناہ" ہیں۔

وہ خدا کے نزدیک بڑے ہو سکتے ہیں، مگر انسانی معاملات میں ان سے کوئی نقصان واقع نہیں مگر تجربات نے بتایا کہ جو شخص جنسی تعلق کے معاملہ میں نکاح کے حدود کا پابند نہ ہو وہ ایک نا قابل اعتماد شخص بن جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسا اخلاقی رخنہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے داخل ہو کر دشمن ہمارے نازک ترین رازوں تک بہو نچ جائے ۔

Printed page