Al-Risala · October 1987

Miami woman is linked to Hart.

Al-Risala, October 1987, pp. 44–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے فوراً بعد ریڈیو ، ٹیلی وژن ، اخبارات ہر جگہ اس کا چرچا ہونے لگا۔ مسٹر ہارٹ کی تصویریں مس ڈونا رائس کے ساتھ چھپنے لگیں ۔ مسٹر ہارٹ جہاں جاتے وہاں ان سے پوچھا جاتا کہ کیا وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ مسٹر ہارٹ عوامی عدالت میں زنا کاری کے ملزم کی حیثیت سے کھڑے کر دیئے گئے :

Hart stood in the public dock accused of adultery (p. 6). میامی ہرالڈ میں اگر یہ خبر چھپتی کہ مسٹر ہارٹ فلاں مکان میں اپنی بیوی کے ساتھ رات بھر رہے تو کوئی اس پر دھیان نہ دیتا۔ مگر اخبار نے جب یہ خبر چھاپی کہ مسٹر ہارٹ نے میامی کے فلاں مکان

میں ایک غیر عورت کے ساتھ رات گزاری تو ہر طرف ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ یہ واقعہ اس بات کا تجرباتی ثبوت ہے کہ غیر عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا فطرت انسانی کے خلاف ہے۔ اگر یہ فعل انسانی فطرت کے خلاف نہ ہوتا تو ہنگامہ کرنے والے کبھی اپنے منصوبہ میں کامیاب نہیں ہو سکتے

مسٹر ہارٹ نے اس مصیبت سے بچنے کے لیے اپنی ساری ذہانت صرف کر دی۔ نے انکار کیا۔ پھر ٹالنے والے جوابات دیتے رہے۔ انھوں نے اپنی بیوی لی ہارٹ (Lee Hart) کو راضی کیا کہ وہ ۱۳۰۰ میل کا سفر طے کر کے ٹیم ٹائرس سے ڈنور (Denver) پہنچیں اور اخبار نویسوں کے سامنے اپنا یہ بیان دیں کہ یہ بات اگر مجھے پریشان نہیں کرتی، تو میں نہیں سمجھتی کہ کسی اور کو اس سے پریشان ہونا چاہیے :

If it doesn't bother me, I don't think it ought to bother anyone else (p. 7). مسٹر ہارٹ نے جب دیکھا کہ معاملہ کو چھپانے کے بارہ میں ان کی ساری تدبیروں کے باوجود راز کھل گیا ہے تو آخر کار انھوں نے اعتراف کر لیا ۔ اب انھوں نے کہا کہ زنا کوئی قانونی جرم نہیں ہے۔ ایک گناہ ہے۔ اور وہ میرے اور میری بیوی اور میرے اور خدا کے درمیان ہے : Adultery is not a crime. It's a sin. And that is between me and Lee, and me and God (p. 7). تاہم مسٹر ہارٹ کی یہ باتیں امریکی عوام کو مطمئن نہ کر سکیں ۔ او پینین پول میں اس سے پہلے امکانی صدر کی حیثیت سے ان کا نام سر فہرست رہتا تھا۔ اب پول کے ذریعہ عوام کی پیشگی رائے معلوم کی گئی تو اچانک ان کا نام بالکل نیچے آگیا۔ اس کے بعد مسٹر ہارٹ نے اپنے آپ کو ملک میں تنہا پایا :

Printed page