And in the end he found himself alone' (p. 10).
Al-Risala, October 1987, pp. 45–36
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائم (۱۸ مئی ۱۹۸۷) کے الفاظ میں ایکٹرس سے جنسی تعلق ان کے لیے ان کی سیاسی موت (Political death) کے ہم معنی بن گیا۔ ۳ مئی کو اس معاملہ کا انکشاف ہوا اور صرف پانچ دن
بعد نہ مری کو انھوں نے ان الفاظ کے ساتھ صدارتی مقابلہ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا : ٹائم نے اس سلسلہ میں اپنی طویل رپورٹ کا خاتمہ ان الفاظ پر کیا ہے کہ امریکی اب اپنے لیڈروں کے بارہ میں وہی گہری معلومات جاننا چاہتے ہیں جو کسی وقت کلارک گیبل (ایکٹر) اور ایلزبتھ ٹیلر (ناول نگار) کی رومانیت کے لیے مخصوص تھیں۔ ہتھیاروں کے کنٹرول کے مسائل سے نبرد آزما ہونے اور معاشی مسائل سے نمٹنے سے زیادہ امریکی عوام ایسے افراد چاہتے ہیں جن پر وہ بھروسہ کر سکیں، جن کا فیصلہ اور جن کی دیانت داری ان کے لیے اطمینان بخش ہو :
یہی بات سابق صدر امریکہ لنڈن جانسن کے پریس سکریٹری جارج ریڈی (George Reedy) نے اس طرح کہی کہ صدارت کے امیدوار کے لیے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ اس کا کیریکٹر ہے۔ یہ سب سے زیادہ عورتوں کے ساتھ اس کے تعلق کے معاملہ میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس عہدہ پر ایک ایسا آدمی ہوتا ہے جو آپ سے کہتا ہے کہ آپ اپنے بنک اکاؤنٹ کے معاملہ میں اس پر بھروسہ کریں، اسی طرح آپ کے بچوں، آپ کی زندگی اور آپ کے ملک کے معاملہ میں بھی چار سال اگر خود اس کی اپنی بیوی اس پر اعتماد نہ کر سکے تو یہ بات کس چیز کا پتہ دیتی ہے :
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص ایسا کرے کہ وہ نکاح کے دائرہ سے باہر جنسی تعلق قائم کرے، وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے اندر ذہنی ڈسپلن نہیں ہے ۔ وہ اپنے جذباتی محرکات پر قابو رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایسا شخص اپنے کردار کے اعتبار سے ہرگز اعتبار کے قابل نہیں ۔ اس کے اندر ایک ایسی نفسیاتی کمزوری ہے جس کی بنا پر شدید اندیشہ ہے کہ وہ اپنی کسی ذاتی خواہش کے لیے بڑے سے بڑے قومی مفاد کو قربان کر دے۔ ایسا شخص عام زندگی میں بھی بھروسہ کے قابل نہیں ، کجا کہ ریاست کے اعلیٰ منصب کے لیے اس پر بھروسہ کیا جائے ۔ تجربات بتاتے ہیں کہ جنسی تعلقات کے معاملہ میں خدائی حد کو توڑنا سادہ معنوں میں صرف ایک مذہبی برائی نہیں ہے ، وہ مہلک قسم کی سماجی برائی بھی ہے ۔ وہ صرف ایک گناہ نہیں ، وہ ایک جرم بھی ہے ۔ بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے سب سے بڑا جرم ۔ ے پے ، پے ٫ ہوت ۔
تعبیر کی غلطی مولانادی الدین خان مطبوعات الاسلامی دیلی بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ ہم میں سے ہر شخص خدا وندِ عالم کے سامنے اُس دن حقیقت آخری حد تک کھل چکی ہوگی۔ خوبصورت الفاظ کی دیواریں جو آج لوگوں نے اپنے گرد کھڑی کر رکھی ہیں ، سب اس روز ڈھ جائیں گی۔ لوگ اس طرح ننگے ہو جائیں گے کہ درخت کے پتے بھی نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے آپ کو چھپا سکیں ۔ مبارک ہے وہ جس کے لئے وہ دن سعی مشکور کی خوش خبری لے کر آئے ۔ بد نصیب ہے وہ جس کا دین اس روز قبول نہ کیا جائے اور خدا اُس سے کہہ دے ــــ تم جس بات کے علم بردار بنے ہوئے تھے وہ محض تمھارے دماغ کی اُپج تھی ، وہ میری بات ہی نہیں تھی ۔
صفحات ۳۴۴ قیمت ۳۵ روپیہ