ناکامی میں کامیابی
Al-Risala, November 1987, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر سلیم علی (۱۹۰۶ء ۔ ۱۹۹۶ء) کو علم طیور (Ornithology) میں غیر معمولی مقام ملا۔ ہندوستان نے ان کو پدما بھوشن کا خطاب دیا۔ برطانیہ نے ان کو گولڈ میڈل سے نوازا۔ ان کو گولڈن آرک عطا کیا۔ عالمی ادارہ وائلڈ لائف نے ان کو انعام کے طور پر ۵۰ ہزار ڈالر دیے۔ ہندوستان کی تین یونیورسٹیوں نے اعزازی طور پر ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔ وہ راجیہ سبھا کے ممبر بنائے گئے وغیرہ۔ ڈاکٹر سلیم علی کو یہ غیر معمولی کامیابی ایک غیر معمولی ناکامی کے ذریعہ وہ بمبئی کے ایک گنجان علاقہ کھیت واڑی میں پیدا ہوئے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں روزگار کی ضرورت ہوئی۔ مگر جب وہ روزگار کی تلاش میں نکلے تو ان کے الفاظ میں ’’ہر ادارے اور ہر دفتر میں ان کے لیے جگہ نہیں (No vacancy) کا بورڈ لگا ہوا تھا‘‘ اس ناکامی نے ان کے لیے نئی کامیابی کے راستے کھول دیے۔
ایک روز انھوں نے ایک چھوٹی چڑیا پکڑی۔ اس کو دیکھا تو اس میں ایک غیر معمولی خصوصیت اس کی گردن پیلے رنگ کی تھی۔ انھوں نے اس کی تحقیق شروع کردی۔ علم طیور کے موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں ۔ ان کی دل چسپی بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے ایک دستی دوربین حاصل کی۔ اب ان کا کام یہ ہوگیا کہ ادھر اُدھر جاکر چڑیوں کا مشاہدہ کریں اور ان کے حالات اپنی ڈائری میں لکھیں۔ آخر کار انھوں نے علم طیور میں اتنی مہارت پیدا کی کہ خود اس فن کو نئی جہتوں اور نئی وسعتوں سے آشنا کیا۔ ان کی دو کتابیں بہت مشہور ہیں۔ ایک کتاب میں انھوں نے برصغیر ہند کی ۱۲۰۰ چڑیوں کے حالات لکھے ہیں۔ ان کی دوسری کتاب طیورِ ہند (Indian Birds) ہے جو گیارہ بار چھپ چکی ہے ۔ اور عالمی سطح پر پڑھی جاتی ہے۔
ڈاکٹر سلیم علی کو زمینی ادارہ میں جگہ نہیں ملی تھی، انھوں نے آسمانی مشاہدہ میں اپنے لیے زیادہ بہتر کام تلاش کر لیا۔ ان کو ملکی ملازمت میں نہیں لیا گیا تھا، مگر اپنی اعلیٰ کارکردگی کے ذریعہ وہ عالمی اعزاز کے مستحق قرار پائے۔
اسی طرح انسانوں کے درمیان ان کے غیظ وغضب سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ان کی انا کو نہ چھیڑا جائے ۔ انا کو چھیڑنے کے بعد ہمیں لازماً فریق ثانی کی غضب ناکی کا شکار ہونا پڑے گا، خواہ یہ فریق ثانی ہندو ہو یا مسلمان ۔ خواہ وہ غیر قوم کا ہو یا خود اپنی قوم کا۔ کسی نے نہایت صحیح کہا ہے کہ ۔ ہر آدمی کے اندر ایک شیطان سویا ہوا ہے، اس شیطان کو سویا رہنے دو۔ کیوں کہ اگر تم اس کو جگاؤ گے تو وہ سب سے پہلے تم کو اپنی خونخواری کا نشانہ بنائے گا۔