Sanction is given unto those who fight ...
Al-Risala, November 1987, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
اس ترجمہ سے بظاہر یہ نکلتا ہے کہ قرآن مسلمانوں کو لائسنس دے رہا ہے کہ وہ دوسروں کے خلاف لڑائی چھیڑیں اور ان سے جنگ و قتال کریں۔ اور اسی ترجمہ کو چندل چو پڑانے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ مگر یہ ترجمہ بجائے خود غلط ہے۔ قرآن کا اصل لفظ یقاتلون (ت پر زبر) ہے، مگر مترجم نے اس کے برعکس یقاتلون (ت پر زیر) کا ترجمہ کر دیا ہے۔ اس غلطی کی وجہ سے آیت کا مطلب بالکل الٹ گیا۔ اس آیت کا صحیح انگریزی ترجمہ یہ ہوگا : Sanction (to take up arms) is given to those who attacked ... قرآن کے اصل لفظ اور اس کے صحیح ترجمہ کے مطابق اس آیت میں دفاع کے طور پر لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر غلط ترجمہ کے نتیجہ میں یہ آیت جارحانہ جنگ کے ہم معنی بن گئی، اور چندل چو پڑا جیسے لوگوں کو موقع مل گیا کہ وہ اس غلط ترجمہ کو لے کر اسلام کو خونخوار مذہب ثابت کریں اور عدالت سے لے کر پریس تک اس کے خلاف پروپیگنڈے کی مہم چلائیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس واقعہ کے پیش آنے کے بعد خود مسلمانوں نے کیا کیا۔ نے چندل چو پڑا کے خلاف دھواں دھار مضامین شائع کیے اور مسلم لیڈروں نے اس کو ایک خطر ناک سازش ظاہر کرنے کے لیے خطابت کا سارا زور صرف کر دیا۔ مگر مسلمانوں میں سے کوئی بھی تنظیم یا کوئی بھی قابل ذکر شخصیت ایسی نہیں نکلی جس کو یہ واقعہ بے تاب کر دے کہ انگریزی زبان میں قرآن کا کوئی صحیح اور قابل اعتماد ترجمہ موجود نہیں۔ اور پھر وہ اس منصوبہ پر عمل شروع کر دے کہ ایک صحیح اور قابل اعتماد انگریزی ترجمہ تیار کر کے شائع کیا جائے تاکہ چندل چو پڑا جیسے
فتنوں کی جڑ ہمیشہ کے لیے کٹ جائے۔