ملت کی کہانی
Al-Risala, November 1987, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ دو مثالیں محض منفرد مثالیں نہیں ۔ یہی موجودہ مسلمانوں کی پوری کہانی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی وہ اصل کمزوری کیا ہے جس نے ان کو موجودہ زمانہ میں بربادی سے دو چار کر رکھا ہے ۔ وہ پچھلی نصف صدی سے صرف ایک ہی کام کر رہے ہیں ۔ نشانہ بنا کر ان کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنا۔ وہ اپنی داخلی اصلاح اور اپنے اندرونی استحکام کے میدان میں کوئی حقیقی کام انجام نہ دے سکے ۔
قرآن کا یہ فیصلہ (آل عمران (۱۲۰) ہے ، اور تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے کہ جب بھی کوئی خارجی طاقت کسی گروہ کو نقصان پہنچائے تو یہ در حقیقت خود نقصان پذیر گروہ کی داخلی کمی کی بنا پر ممکن ہوتا ہے۔ خربوزے کا کٹنا چھری کی سنگ دلی سے زیادہ خربوزے کی اپنی کمزوری (Vulnerability) کا نتیجہ ہے۔
چنانچہ تمام عقل مند لوگ ہمیشہ یہی کرتے ہیں کہ جب وہ کسی خارجی عنصر کی طرف سے کسی نقصان سے دوچار ہوتے ہیں تو فوراً وہ اپنے کمزور پہلو (Vulnerable point) کی تلاش میں لگ جاتے ہیں، تاکہ اس کی اصلاح کرکے خارجی زیادتیوں کے خلاف بند بناسکیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ انتہائی نادانی کے ساتھ صرف دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرتے رہتے ہیں ۔ وہ اپنی داخلی کمیوں کو درست کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر اب تک ان کے احوال درست نہ ہوسکے۔
اس معاملہ میں پوری مسلم ملت نے حبل اللہ کو کھو دیا ہے۔ وہ اسلام کی تعلیم سے بہت دور جا پڑے ہیں ۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے، تو موجودہ مسلمان سب کے سب دو طبقوں میں بٹے ہوئے ایک وہ جنھوں نے احتجاجی سیاست کو بطورِ قبادتی پیشہ کے اختیار کر رکھا ہے۔ وہ لوگ جو کلی یا جزئی طور پر اس قسم کی سیاست سے الگ ہیں ۔ تا ہم وہ پہلے طبقہ کے خلاف کھل کر نکیر نہیں کرتے ، وہ ان پر مشخص اور متعین تنقید نہیں کرتے ۔ اور اگر بالفرض کبھی کچھ کہتے ہیں تو ان کا یہ کہنا انھیں اس سے نہیں روکتا کہ وہ حدیث کے الفاظ میں، اس کے اکلیل اور خلیط
اور شریک نہ بنیں ۔ گویا کہ پوری ملت اس وقت یک ہی کام میں مشغول ہے، اور وہ احتجاجی سیاست ہے، ایک طبقہ اس میں براہ راست طور پر ملوث ہے اور دوسرا طبقہ بالواسطہ طور پر۔ یہ بے حد خطر ناک علامت ہے۔ کیوں کہ قرآن و حدیث کے مطابق یہ وہ چیز ہے جو قوموں کو غضب الہی کا مستحق بنا دیتی ہے ۔
یہ کھلی ہوئی اسلام کی خلاف ورزی ہے۔ کیوں کہ اس طرح کے معاملات میں اسلام کا طریقہ احتجاج نہیں ہے بلکہ احتساب ہے۔ اس طرح کے قومی امور میں ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اپنی داخلی کوتاہیوں کو تلاش کر کے ان کی اصلاح میں سرگرم ہوں، نہ یہ کہ کسی خارجی عنصر کو "ظالم" قرار دے کر اس کے خلاف شور و غل میں مشغول ہو جائیں ۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کی غلط روش کو واضح کرنے کے لیے میں اسلامی تاریخ سے دو مثالیں پیش کرتا ہوں ۔
احد کے موقع پر مکہ کے لوگ چڑھائی کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے ۔ حنین میں قبیلہ ہوازن نے دھوکا دے کر مسلمانوں کے اوپر حملہ کر دیا تھا ۔ ان دونوں مواقع پر مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ۔ اس اعتبار سے بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ دونوں معاملات میں مسلمانوں کے نقصان کی ساری ذمہ داری فریق ثانی پر ڈال کر صرف اسی کو برا بھلا کہا جائے ۔ مگر اس کے باوجود قرآن نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ اس نے ایک طرفہ طور پر مسلمانوں کو تنبیہ کی کہ تمہاری فلاں فلاں کمزوریوں نے فریق ثانی کو یہ موقع دیا کہ وہ تمہارے خلاف اپنے دشمنانہ منصوبہ میں کامیاب ہو سکیں ۔ غزوہ احد۳ھ میں ہوا، اور غزوہ حنین 8ھ میں ۔ یہ دونوں واقعات خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آئے ۔ چنانچہ ان دونوں کے بارے میں قرآن میں تبصرہ نازل اس لحاظ سے یہ دونوں معیاری نمونے ہیں جن پر ہمیں اپنے مسائل کو جانچنا چاہیے ۔ اس اعتبار سے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ قرآن کا انداز سراسر اس کے برعکس ہے جو موجودہ زمانہ میں مسلم قائدین نے اختیار کر رکھا ہے۔ موجودہ مسلم قائدین کی روش کے خلاف، قرآن نے فریق ثانی کے "ظلم اور سازش " کے بارہ میں کچھ نہیں کہا۔ اس نے دونوں لڑائیوں کے نقصان کی ذمہ داری خود مسلمانوں کی بعض کمزوریوں پر ڈالی۔ احد کے واقعہ کے بارے میں قرآن نے یہ کہا کہ تمہارے اختلاف و نزاع (آل عمران ۱۵۲) کی وجہ سے تمہیں یہ
نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح حنین کے بارہ میں قرآن نے اعلان کیا کہ اس موقع پر تمہیں جس نقصان سے دوچار ہونا پڑا، اس کا سبب تمہارا فخر اور عجب (التوبہ ۲۵) تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اگر خدائی پکڑ سے ڈرتے ہوں اور قرآن وسنت کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں تو ان کے لیے کامیابی کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ وہ اپنے مصائب کا الزام دوسروں کو دے کر ان کے خلاف چیخ پکار کا موجودہ مشغلہ مکمل طور پر بند کر دیں۔ برعکس ان کے تمام مفکرین اور رہنما صرف اس ایک مہم میں لگ جائیں کہ وہ مسلمانوں کی ان داخلی کمزوریوں کو دور کریں جس کی وجہ سے دوسروں کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ انہیں اپنے مخالفانہ عزائم کا نشانہ بنائیں اور ہمیشہ اپنے مقصد میں کامیاب رہیں ۔ جس دن مسلمانوں کی داخلی کمزوریاں ختم ہوں گی ، اسی دن اغیار کے تمام مخالفانہ منصوبے بے زمین ہو کر رہ جائیں گے اور آخر کار اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔ بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ ہم میں سے ہر شخص خدا وند عالم کے سامنے اُس دن حقیقت آخری حد تک کھل چکی ہوگی۔ خوبصورت الفاظ کی دیواریں جو آج لوگوں نے اپنے گرد کھڑی کر رکھی ہیں، سب اس روز ڈھ جائیں گی۔ لوگ اِس طرح ننگے ہو جائیں گے کہ درخت کے پتے بھی نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے آپ کو چھپا سکیں ۔ مبارک ہے وہ جس کے لئے وہ دن سعی مشکور کی خوش خبری لے کر آئے۔ بد نصیب ہے وہ جس کا دین اس روز قبول نہ کیا جائے اور خدا اُس سے کہہ دے ــــ تم جس بات کے حکم بردار بنے ہوئے تھے وہ محض تمھارے دماغ کی اپج تھی، وہ میری بات ہی نہیں تھی ۔
صفحات ۳۴۴ قیمت ۳۵ روپیہ مکتبہ الرساله، نئی دہلی