آزمودہ حل
Al-Risala, November 1987, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کو ہمارے لیڈر "مسلم کش فسادات" کہنا پسند کرتے ان کے نزدیک یہ بعض ہندوؤں کی بعض مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہیں ہے بلکہ یہ یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔ مگر اس واقعہ کا سب سے زیادہ حیرت ناک پہلو یہ ہے کہ اس عمومی مسلم کشی سے مسلم لیڈر صاحبان ہمیشہ مکمل طور پر محفوظ رہتے ہیں، خواہ وہ بے ریش لیڈر ہوں یا ایک مسلم اخبار نے بالکل درست طور پر لکھا ہے :
" اس (فساد) میں قصور عام لوگوں سے زیادہ مسلمانوں کے آرام پسند لیڈروں کا ہے جو مسلمانوں سے قربانی و ایثار کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن ان میں قربانی دینے کا کوئی حوصلہ نہیں ہے۔ کے دوران مسلمانوں کو جو قربانی دینی پڑی یا زبردستی ان سے جو قربانی وصول کی گئی اس کی مثال شاید ہی دنیا کی دوسری کوئی ملت پیش کر سکے۔ لیکن ان چالیس برسوں میں ایک بھی مسلمان لیڈر کو خراش تک نہیں آئی ۔ " نقیب (پٹنہ) ۲۰ جولائی ۱۹۷۸ء مسلم لیڈروں کے اپنے بیان کے مطابق اس ملک میں تقریباً نصف صدی سے مسلم کشی اور مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات ہو رہے ہیں۔ مگر بے ریش اور باریش مسلم لیڈروں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جو ہلاکت اور بربادی کے اس عمومی طوفان کا شکار ہوا ہو۔ اس قتل عام میں فرزندانِ ملت تو مسلسل ذبح ہورہے ہیں، مگر فرزندانِ قیادت پوری طرح محفوظ ہیں ۔
اس تجربہ کی روشنی میں میں مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس پورے معاملہ پر از سر نو کیوں کہ اس تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر ہلاکت خیز فسادات کے باوجود یہاں ایک مجرب نسخہ ان کے لیے موجود ہے۔ وہ خود بھی وہی کریں جو ان کے لیڈر نصف صدی سے کر رہے مسلمان لیڈر جس تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو مسلم کش فسادات کی زد سے بچاتے ہوئے ہیں اسی تدبیر کے ذریعہ عام مسلمان بھی اس وبا سے اپنے آپ کو بچائیں ۔ اس معاملہ میں اپنے بچاؤ کا اس سے زیادہ کارگر نسخہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
اب دیکھیے کہ مسلمان لیڈر صاحبان کس طرح اپنے آپ کو مسلم کش فسادات کی زد سے بچائے
ایک لفظ میں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام لیڈر صاحبان اپنی ذات کے معاملہ میں عین اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں جس کی تلقین الرسالہ میں مسلسل طور پر کی جارہی ہے۔ البتہ جب وہ دوسروں کے سامنے آتے ہیں تو وہ اس کے برعکس تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ اسٹیج پر وہ الرسالہ کے مخالف ہیں، مگر اپنی ذاتی زندگی کے معاملہ میں وہ الرسالہ کی بات کو مبالغہ آمیز حد تک پکڑتے ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے یہودی پیشواؤں کے بارے میں اپنے شاگردوں سے کہا تھا : فقیہہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن ان کے سے کام نہ کرو۔ کیوں کہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں ۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ ان کو اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں (متی ۲۳: ۱- ۳)
موجودہ حالات میں ہمارے لیڈر اور رہنما جو کچھ کر رہے ہیں وہ برعکس طور پر ہمارے لیے مطلوب ہوگیا ہے۔ ہندو مسلم مسئلہ کے ضمن میں یہ لیڈر عام مسلمانوں کو ٹکراؤ کا سبق دیتے ہیں، مگر خود اپنی ذات اور اپنی اولاد کے معاملے میں وہ ہم آہنگی کے طریقہ پر عمل کر رہے ہیں۔ اس لیے میں حضرت مسیح کے الفاظ کو بدل کر مسلمانوں سے کہوں گا کہ تمہارے لیڈر اس معاملہ میں جو باتیں کہتے ہیں ان کو نہ سنو، البتہ وہ خود جس طریقہ کو اپنائے ہوئے ہیں اسی کو تم بھی اپنا لو۔ اور پھر تم بھی اسی طرح محفوظ رہوگے جس طرح تمہارے تمام لیڈر محفوظ ہیں ۔