چند مثالیں
Al-Risala, November 1987, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلمان لیڈر سے راقم الحروف کی گفتگو ہوئی انھوں نے کہا کہ آپ الرسالہ کے ذریعہ مسلمانوں کو بزدلی کا سبق دے رہے ہیں۔ حالاں کہ پیغمبر اسلام کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اسلام دشمنوں سے جنگ کی ۔ انھوں نے ہمیشہ اسلام دشمنوں کے خلاف تلوار اٹھائی۔ یہ گفتگو انگریزی میں ہورہی لیڈر کے اصل الفاظ یہ تھے :
He always took up arms against the enemies of Islam. میں نے کہا کہ آج کل ساری دنیا میں جہاد کے میدان کھلے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ مسلمانوں اور ”دشمنانِ اسلام“ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ آپ ہتھیار خریدیئے اور کسی جگہ کا انتخاب کر کے میدانِ
جہاد میں کود پڑیے۔ اب ان کا لہجہ بدل گیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا رہا ہوں تاکہ وہ ڈاکٹر اور انجینئر بن کر قوم کی خدمت کریں۔ کیا یہ جہاد نہیں ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مسلمان لیڈروں کے فسادات سے محفوظ رہنے کا ایک راز یہ ہے کہ وہ قوم کے بچوں کے سامنے پرجوش تقریریں کر کے انھیں لڑائی کے میدان میں بھیج رہے ہیں اور خود اپنے بچوں کو اس قسم کے جھگڑوں سے دور رکھ کر تعلیم کے میدان میں مصروف کیے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو بھی یہی کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو پرامن " جہاد " کے میدان میں اس کے بعد وہ بھی اسی طرح فسادات کی زد سے محفوظ رہیں گے جس طرح ان کے لیڈر اور لیڈرصاحبان کے بیٹے بیٹیاں محفوظ ہیں۔
ہمارے تمام لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ عمل کے بز دل ہیں اور الفاظ کے بہادر ۔ پالیسی سے ان کو یہ زبر دست فائدہ ہو رہا ہے کہ " قتل عام " کے ماحول میں بھی وہ اور ان کے گھر والے قتل ہونے سے پوری طرح بچے ہوئے ہیں۔ پھر کیوں نہ عام مسلمان بھی اسی پالیسی کو اختیار ایسا کر کے وہ صرف اپنے لیڈروں کی پیروی کریں گے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اس سلسلے میں ایک بے حد سبق آموز مثال وہ ہے جو راقم الحروف نے اپنی کتاب (حل یہاں ہے) میں درج کی ہے۔ یہ مثال تفصیلی صورت میں کتاب کے صفحہ ۴۲۔ ۴۵ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ مسلم لیڈر صاحبان کی ایک جماعت نے ۱۹۶۷ کے درمیان بڑے جوش و خروش کے اس تحریک کا مرکز شمالی ہند تھا۔ انھوں نے مسلم مسائل کے حل کا وہ نسخہ پیش کیا جس کو اقبال نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے :