زمانہ با تو نہ سازد تو باز مانہ ستیز
Al-Risala, November 1987, pp. 15–24
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے کہا کہ ہمیں لڑکر اپنا حق وصول کرنا ہے۔ اس لڑائی “ کا پہلا میدان ملکی انتخاب قرار انھوں نے کہا کہ ہمیں کانگریس (بالفاظ دیگر ہندو قیادت کو انتخابی میدان میں شکست ہم جب اس طرح اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے تو تمام لیڈر سہم جائیں گے اور اپنے آپ کو امکانی سیاسی نقصان سے بچانے کے لیے ہمارے تمام مسائل حل کر دیں گے۔ ۱۹۴۶ء کے الیکشن میں ضرررسانی کے اس نسخہ کا تجربہ کیا گیا مگر یہ نسخہ مسلمانوں کے لیے ایک
فی صد بھی مفید ثابت نہ ہو سکا۔ تاہم لیڈروں کی اس جماعت نے خود اپنے مسئلہ کے لیے جو نسخہ استعمال کیا وہ انتہائی کارگر ثابت ہوا۔ یہ نسخہ کسی شاعر کے کلام سے لینے کے بجائے قرآن سے لیا گیا تھا۔ یہ نسخہ وہی تھا جس کو قرآن میں تالیف قلب کہا گیا ہے۔
لیڈروں کی اس جماعت کو ایک ہمسایہ یونیورسٹی کے ہند و طلبہ سے خطرہ پیدا ہوا۔ انھوں نے ضرر رسانی کے بجائے نفع رسانی کی تدبیر استعمال کی۔ انھوں نے ان ہند و طلبہ سے ملاقاتیں کیں، اپنے یہاں ان کی دعوتیں کیں، ان کو ہیرو بنا کر انھیں انعامات دیے۔ اس طرح ان کے دل کو جیت کر اپنے مسئلہ کو حل کر لیا۔ اس پورے واقعہ کی تفصیل "حل یہاں ہے" نامی کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔
اب میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دوں گا کہ مسلمان لیڈر اگر ٹکراؤ کی باتیں کریں تو ان کی بات بالکل نہ سنو بلکہ وہی کرو جو وہ خود کرتے ہیں۔ یعنی اپنے غیر مسلم پڑوسیوں سے اچھے تعلقات بناؤ۔ ان سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آؤ، ان کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرو۔ ان سے تمہیں ناخوش گواری کا تجربہ ہو تب بھی تم اپنی طرف سے ان کے سامنے خوش گوار رد عمل پیش کرو، اور اس کے بعد تمہارے مسائل اسی طرح حل ہو جائیں گے جس طرح لیڈر صاحبان کے مسائل حل ہو گئے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ شمالی ہند کے ایک مقام پر مسلمانوں کا ایک جلسہ تھا، میں بھی اس میں شریک تھا۔ ایک باریش مسلمان لیڈر نے تقریر کی ۔ انھوں نے جوش و خروش کے ساتھ بابری مسجد کا ذکر کیا اور کہا کہ "بابری مسجد خون مانگ رہی ہے "۔ جب تقریر ختم ہوئی تو مذکورہ بزرگ لیڈر صاحب کے پاس گیے اور کہا کہ اجازت ہو تو ایک بات پوچھوں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں یہ فرمایا ہے کہ بابری مسجد خون مانگ رہی ہے۔ اس سلسلہ میں صرف اتنا اور جاننا چاہتا ہوں کہ کس کا خون، میرے بچوں کا یا آپ کے بچوں کا۔ لیڈر صاحب نے کہا کہ میرا تو صرف ایک بچہ ہے اور وہ اس وقت عرب میں زیر تعلیم ہے۔ مذکورہ صاحب نے کہا تو گویا آپ اپنی اولاد کو تو تعلیم و ترقی کے میدان میں سرگرم کیے ہوئے ہیں اور دوسروں کی اولاد کو کٹنے مرنے کے میدان میں سرگرم کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر لیڈر صاحب بگڑ گئے۔
اصل یہ ہے کہ ہمارے تمام لیڈر صرف الفاظ کا جہاد کر رہے ہیں۔ وہ دوسروں کو جوش
دلاتے ہیں کہ وہ آگ کے سمندر میں کود پڑیں۔ مگر خود اپنے بچوں کو لے کر دور ساحل پر کھڑے یہی سادہ سا راز ہے جس نے ان لیڈروں کو فسادات کی تباہی سے بچا رکھا ہے۔ مسلمانوں کو بھی یہی کرنا چاہیے کہ وہ لیڈر کے الفاظ کو الفاظ سے زیادہ اہمیت نہ دیں۔ بھی وہی کریں جو لیڈر لوگ کرتے ہیں، وہ ہرگز وہ نہ کریں جو لیڈر لوگ کہتے ہیں، اور اس کے بعد وہ ہر تباہی سے مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔
ایک مقامی مسلمان لیڈر ہیں۔ پہلے وہ اپنے محلہ میں بالکل بے محابا طریقہ سے رہتے تھے۔ کسی کی بات انھیں برداشت نہیں ہوتی تھی۔ وہ بات بات میں دوسروں سے لڑنے کے لیے تیار
اس کے بعد ان کی شادی ہوئی۔ جلد جلد تین بچے پیدا ہو گئے۔ یہ بچے کچھ بڑے ہوئے تو گھر کے باہر محلہ میں چلنے پھرنے اور کھیلنے لگے۔ اب لیڈر صاحب کے اندر ایک نیا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے سوچا کہ میں اکثر گھر سے باہر رہتا ہوں۔ گھر میں کوئی دوسرا مرد نہیں ہے۔ اکثر کھیلنے کے لیے یا کسی کام کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ اگر میں پہلے کی طرح محلہ والوں سے لڑائی جاری رکھوں تو اس کا خمیازہ میرے بچوں کو بھگتنا پڑے گا۔ جس شخص کو بھی مجھ سے شکایت پیدا ہوگی وہ اس کا انتقام میرے چھوٹے بچوں سے لے گا۔ اس سوچ کا آنا تھا کہ لیڈر صاحب بالکل بدل جس محلہ میں پہلے وہ لڑ بھڑ کر رہنے کا نظریہ اپنالے ہوئے تھے وہاں اب وہ میٹھے بول بول کر اور مل جل کر رہنے کے نظریہ پر عمل کرنے لگے۔
ان کی اس تبدیلی کو دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا: جناب اب تو آپ بالکل بدل گئے۔ ہی نہیں ہوتا کہ آپ وہی شخص ہیں جو پہلے تھے ۔ لیڈر صاحب نے مسکرا کر جواب دیا : بھائی ، میرے بچوں نے مجھ کو بزدل بنا دیا۔
ہمارے تمام لیڈر قوم کے بچوں کو بہادری کا سبق دیتے ہیں۔ مگر خود اپنے بچوں کے لیے وہ بزدل بنے ہوئے ہیں۔ زندگی کا یہی وہ راز ہے جس نے تمام لیڈروں کو ذاتی نقصان سے بچا رکھا اب قوم کو چاہیے کہ وہ لیڈروں کی پر جوش تقریروں پر دھیان نہ دے۔ وہ خود بھی " بزدلی" کے اسی نسخہ کو اپنائے جس کو اپنا کر ہمارے تمام لیڈر ترقی اور کامیابی کے منازل طے کر رہے ہیں۔
اس کے بعد کوئی نقصان پہنچانے والا ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
لیڈر صاحبان عام طور پر مسلمانوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ تم کو دب کر نہیں رہنا ہے، اگر تم دب گئے تو لوگ تم کو اور زیادہ دبائیں گے۔ یہاں تک کہ تمہارا خاتمہ ہی کر دیں گے۔ لیڈر حضرات اس وقت دبنے کے طریقے پر عمل کرکے اپنے مسئلہ کو حل کرتے ہیں جب کہ خود ان کا ذاتی معاملہ زد میں آگیا ہو۔
ایک لیڈر صاحب کا ایک ادارہ تھا۔ اس ادارہ کے احاطہ میں امرود کا ایک باغ تھا۔ قریب کے محلہ کی ایک گائے اس باغ میں گھس آئی۔ مسلم باغبان نے گائے کو بھگانے کے لیے اتفاق سے اس کو گردن کے پاس سخت چوٹ آگئی۔ اس کے بعد جب وہ بھاگنے لگی تو باغ کے کنارے کے خار دار تار میں پھنس کر وہ اور زیادہ زخمی ہو گئی۔ یہ گائے جب اپنے ہندو مالک کے گھر پہنچی تو اس کے خون آلود جسم کو دیکھ کر ہنگامہ کھڑا جب معلوم ہوا کہ مسلم ادارہ کے آدمی نے اس کو مارا ہے تو محلہ کے لوگ سخت مشتعل ہو گئے۔ ایک بڑا مجمع ادارہ کے احاطہ میں گھس آیا۔ وہ اشتعال انگیز نعرے لگارہا تھا اور یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ مارنے والے آدمی کو ان کے حوالہ کیا جائے۔ اس دوران میں وہ آدمی باغ چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور ادارہ کے ایک کمرے میں چھپ گیا تھا۔ ادارہ والوں نے دیکھا کہ اس وقت یہ مجمع سخت غصہ میں ہے، اس لیے اس وقت آدمی کو ان کے حوالے کرنا مناسب نہ ہوگا۔ وہ مجمع کی اشتعال انگیزی سے مشتعل نہیں ہوئے ۔ انھوں نے حکیمانہ گفتگو کرکے اس کو ایک دن کے لیے ٹال دیا۔ اور کہا کہ آپ ہمیں ایک دن کا موقع دیجئے ۔ ہم اس آدمی کو تلاش کر کے کل تک ضرور اس کو آپ کے حوالے کر دیں گے ۔
مجمع کو واپس کرنے کے بعد ادارہ کے لوگوں نے باغبان کو بلایا اور اس سے کہا کہ دیکھو، ایک طرف تمہاری ذات ہے اور دوسری طرف ایک پورا مسلم ادارہ ہے اگر وہ تم کو نہیں پاتے ہیں تو وہ اپنا غصہ سب لوگوں پر اتاریں گے ۔ تم ہمت کر کے اللہ کے بھروسہ پر ایسا کرو کہ گائے کے مالک کے یہاں جاکر حاضر ہو جاؤ اور اپنی غلطی کا اقرار کر لو۔ ان سے کہو کہ یہ میری ذاتی غلطی ہے، آپ مجھ کو جو سزا چاہیں دیں۔ اگر وہ لوگ کچھ جذبہ میں آکر تمہیں ڈانٹیں ماریں تو اس کو بھی برداشت
کر لینا ۔ چنانچہ اگلے دن وہ آدمی گائے کے مالک کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ میں حاضر ہو گیا واقعہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے ۔ آپ جو فیصلہ کریں وہ مجھ کو منظور ہے ۔ انسان بہر حال انسان ہے ۔ باغبان جب اس طرح حاضر ہو گیا اور اس نے سیدھے طور پر غلطی کا اعتراف کر لیا تو گائے والوں کے جذبات بھی ٹھنڈے پڑ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ خیر اب جاؤ۔ اگر کل تم مل گئے ہوتے تو ہم تم کو مارے بغیر نہیں چھوڑتے ۔ اب گائے کو ہم نے اسپتال میں داخل کر دیا ہے ۔ اگر وہ مرگئی تو البتہ تمہیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی ۔ (جمعیتہ ویکلی ، دھلی، ۲۷ اکتوبر ۱۹۷۶)
اس طرح ایک معاملہ جو ایک مسلم ادارہ بلکہ پورے شہر میں آگ لگا سکتا تھا، وہ نہایت آسانی سے وہیں کا وہیں ختم ہو گیا۔ ادارہ والوں نے جس تدبیر کا تجربہ اپنے ذاتی معاملہ میں کیا اسی کا سبق اگر وہ پوری قوم کو اس طرح کے معاملات میں دیں تو کتنے ہوتے ہوئے حادثات ہونے سے رہ جائیں۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے قائدین اپنے ذاتی معاملات کو حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ حل کرتے ہیں ۔ اور ملت کو یہ سبق دیتے ہیں کہ تم خدا کے فوجدار ہو ، کسی کی پروا کیے بغیر مجاہدانہ طور پر لڑ جاؤ ۔ تاہم مسلمانوں کو میں یہ مشورہ دوں گا کہ اس معاملہ میں وہ لیڈروں کی تقریروں کو ہرگز نہ سنیں ، وہ ان کے عمل کو دیکھیں ۔ یہ لیڈر صاحبان جس طرح خاموش تدبیر سے اپنے ذاتی معاملہ کو حل کرتے ہیں ، اسی طرح وہ بھی اپنے معاملات کو حل کریں ، اور اس کے بعد انشاءاللہ وہ ہر فساد سے محفوظ ہو جائیں گے ۔
عرب کے سفر میں میری ملاقات ایک ہندوستانی مسلمان سے ہوئی۔ پہلے وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان لیڈری کرتے تھے ۔ اس کے بعد انھیں عرب میں ایک اچھا کام مل گیا اور وہ وہاں منتقل ہو گئے ۔ آج کل وہ عرب میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ہندوستان کیسا وحشی ملک ہے ۔ وہاں آئے دن فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ مسلمان کی جان و مال محفوظ نہیں ۔ آپ دیکھئے ہم لوگ یہاں کتنے سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔
میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے ۔ یہاں کا نظام آپ کو جو کچھ دے رہا ہے اس کا آپ
نے ذکر کیا، مگر آپ خود یہاں کے نظام کو جو کچھ دے رہے ہیں، اس کا ذکر کرنا آپ بھول گئے۔ میں نے کہا کہ آپ جس ڈھنگ سے عرب میں رہتے ہیں، اگر ہندوستان کے مسلمان اسی ڈھنگ سے ہندوستان میں رہیں تو وہ ہندوستان میں بھی اسی طرح با عزت طور پر رہ سکتے ہیں جس طرح آپ عرب میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ عرب میں آپ کے پرسکون طور پر رہنے کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ یہاں کے نظام کے ساتھ کامل توافق (Adjustment) اگر ہندوستان کے مسلمان اپنے ملک کے نظام سے اسی طرح توافق اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں تو ایک دن میں سارا جھگڑا ختم ہو جائے۔
میں نے کہا کہ ساری عرب دنیا میں وطنی کے مقابلہ میں خارجیہ جی کو نمبر ۲ کا شہری سمجھا جاتا مگر آپ اس کو برداشت کرتے ہیں۔ یہاں ایک ہندوستانی کے مقابلہ میں ایک امریکی کو کئی گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے مگر آپ اس امتیاز کو گوارا کیے ہوئے ہیں۔ یہاں آپ کو یہ اجازت نہیں کہ مسجد میں یا مسجد کے باہر لاؤڈ اسپیکر لگا کر تقریر کریں۔ یہاں آپ نہ کوئی آزاد اخبار نکال سکتے اور نہ کوئی آزاد رسالہ چھاپ سکتے ہیں مگر اس کے خلاف آپ جیل بھرنے کی مہم نہیں یہاں واضح طور پر بہت سے غیر شرعی امور پر عمل ہو رہا ہے۔ مگر ان کے بارہ میں آپ بالکل خاموش ہیں۔ آپ حضرات اس قسم کی چیزوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کرتے اور نہ ان مسائل پر کوئی جلوس نکالتے۔
میں نے کہا کہ عرب میں آپ کو جو پرسکون زندگی حاصل ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں کے نظام سے ہم آہنگی اختیار کر کے آپ نے اس کی ضروری قیمت ادا کر دی ہے۔ کے مسلمان یہ قیمت ادا کرنے پر راضی ہو جائیں تو وہاں بھی وہ عزت اور کامیابی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔
مسلمانوں میں سے جو لوگ عرب ملکوں میں جاتے ہیں، حتی کہ ان کے اکابر جو کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے لیے عرب کے سفر کرتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں عام ہندوستانی مسلمانوں کے لیے زبردست سبق ہے۔ یہ مسلمان اور یہ اکابر عرب میں جا کر جس طرح وہاں کے نظام سے موافقت کر کے رہتے ہیں، اسی طرح ہندوستانی مسلمان بھی ہندوستان کو اپنا ملک سمجھیں اور یہاں کے حالات
سے موافقت کر کے زندگی گزاریں۔ اس کے بعد انشاء اللہ ان کے لیے یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ ایک لیڈر صاحب ہیں۔ لیڈر ہوتے کے ساتھ وہ ایک اسلامی ادارہ بھی چلاتے ہیں۔ اور اس کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں۔ یہ لیڈر صاحب اپنی پرجوش تقریروں میں اکثر اقبال کا یہ شعر پڑھتے ہیں :
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں وہ جب تقریر کرتے ہیں تو ہمیشہ "اینٹی گورنمنٹ" لہجہ میں بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں وزیروں اور گورنروں کی پروا نہیں کرتا۔ میں صرف خدا کی پروا کرتا ہوں اور اسی سے ڈرتا ہوں۔ سے استغناء برتنا اور انھیں نظر انداز کرنا ان کا خاص کمال سمجھا جاتا ہے۔ ان کی اس قسم کی تقریروں کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے حلقہ کے لوگوں میں عام طور پر یہ ذہن بن گیا ہے کہ جو شخص حکمرانوں سے قریب ہو یا ان کے حق میں بھلائی کا کلمہ کہے تو وہ یقینی طور پر ابن الوقت اور موقع پرست ہے۔ مذکورہ لیڈر صاحب کا یہ انداز ہے جس کو وہ اپنی تقریروں میں برتتے ہیں۔ مگر خود اپنے عملی معاملات میں ان کا طریقہ سراسر اس سے مختلف ہے۔ مثلاً ان کے ادارہ اور شاہراہ عام کے درمیان کوئی سڑک نہیں تھی ۔ وہ چاہتے تھے کہ یہاں ایک ایسی سڑک بن جائے جو ادارہ کو شاہراہ عام سے جوڑ دے تاکہ سفر آسان ہو سکے۔
یہ بظاہر یہ ایک مشکل کام تھا، مگر ان کے زرخیز ذہن نے اس کا نہایت خوبصورت حل دریافت کر لیا۔ انھوں نے اپنے ادارہ کے احاطہ میں ایک " بین اقوامی " کانفرنس کی جس میں عرب کے کئی شیوخ بھی شریک ہوئے ۔ اب لیڈر صاحب اور ان کے ساتھیوں نے ایک باضابطہ دعوت نامہ تیار کیا جس میں ریاست کے ہند وچیف منسٹر کو "خصوصی مہمان" کے طور پر کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ چیف منسٹر صاحب نے بخوشی یہ دعوت قبول کر لی۔ وہ جب اپنی سرکاری کار سے کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تو انھیں غیر معمولی اعزاز دیا گیا۔ مگر انھیں یہ دیکھ کر شرم آئی کہ بیرونی ملکوں کے مہمان ان کے شہر میں آئیں اور ان کو اجتماع گاہ تک پہنچانے کے لیے معقول راستہ موجود نہ ہو۔ لیڈر صاحب کے ساتھیوں نے چیف منسٹر کے اس احساس سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جلد ہی وہاں ادارہ اور شاہراہ عام
کے درمیان ایک عمدہ سڑک تعمیر ہو چکی تھی ۔
اب میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ آپ کے لیڈر اگر حکمرانوں کے خلاف تقریر کریں تو آپ ہرگز ایسی تقریروں کو سنجیدہ طور پر نہ لیں۔ آپ سرکاری افسروں اور حکام سے اچھے تعلقات رکھیں اور اس کے بعد آپ کے سب کام اسی طرح بخوبی طور پر انجام پا جائیں گے جس طرح لیڈروں کے اپنے کام بخوبی طور پر انجام پا رہے ہیں ۔
-۸ شریمتی سبھدرا جوشی ( پیدائش ۱۹۱۹) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں ۔ انھوں نے کرسین کالج لاہور سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اور پھر ملکی سیاست میں شامل ہو گئیں ۔ گاندھی کی ساتھیوں میں سے ہیں ۔
سبھدرا جوشی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ۱۹۴۷ کے فسادات میں ہم دہلی کے مسلم محلوں میں کام کر رہے تھے ۔ دلی کا کانگریس پر ہمارا قبضہ تھا ۔ گاندھی جی آئے ۔ انھوں نے ہم سے پوچھا کہ کتنے مسلمان مارے گئے ۔ ہم نے بتایا : دس ہزار سے زیادہ مارے گئے ہیں۔ وہ بہت برہم ہوئے اور کہا کہ تم نے بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی ۔ ہم نے کہا ، ہم تو برابر کوشش کر رہے ہیں ، مگر حالات بہت زیادہ خراب ہیں ۔ انھوں نے غصہ میں پوچھا ، ان دس ہزار میں تمہارے کانگریسی ورکر کتنے مارے گئے ۔ ہم نے جواب دیا ایک بھی نہیں ۔ اس پر وہ بولے " پھر میں کیسے مان لوں کہ تم نے بچانے کی کوشش کی ہوگی " ( ماہنامہ شبستاں ، دہلی ، جون ۱۹۷۲) گاندھی جی کے اس تبصرہ کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ لیڈر لوگوں نے فساد زدہ عوام کو بچانے کا کام ہی نہیں کیا ، وہ بس دور دور سے اس کا کریڈٹ لیتے رہے ۔ اگر واقعہ وہ فساد زدہ عوام کو بچانے کی کوشش کرتے تو جس طرح دوسرے لوگ مارے گیے وہ بھی انھیں کے ساتھ
اس پہلو سے قطع نظر، اس واقعہ میں ایک اور سبق ہے ۔ وہ یہ کہ لیڈر لوگوں کے پاس کوئی ایسا نسخہ ہوتا ہے کہ عین اس وقت بھی لیڈروں میں سے کوئی لیڈر مارا نہ جائے جب کہ دوسرے لوگ دس ہزار سے زیادہ کی تعداد میں مار ڈالے گیے ہوں ۔ اب میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ لیڈروں کی زندگی کے اس پہلو کا مطالعہ کریں۔ اگر انھوں نے اس راز کو جان لیا تو انھیں یہ شکایت
کرنے کی ضرورت نہ رہے گی کہ ان کا جان و مال اس ملک میں غیر محفوظ ہے ۔ اگر آپ لیڈر صاحبان کی زندگی کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ لیڈروں کے محفوظ رہنے کا نسخہ وہی حکمت اور احتیاط کا طریقہ ہے جو الرسالہ میں پچھلے دس سال سے پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ لیڈر صاحبان بظاہر الرسالہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہیں مگر اپنی ذاتی زندگی میں وہ پوری طرح اس طریقہ کو اپنائے ہوئے ہیں۔ پھر آپ بھی کیوں نہ اسی حفاظتی طریقہ کو اپنا لیں۔ ایسا کر کے آخر کار آپ وہی کریں گے جو آپ کے لیڈر بہت پہلے سے کر رہے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان ایک ریاست میں سرکاری ملازم ہیں۔ ایک بار وہ اپنے محکمہ کے کام سے دہلی آئے ۔ درمیان میں انھیں اپنے "چیف" سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ چنانچہ انھوں نے دہلی سے ٹرنک کال کیا۔ جب وہ ٹیلی فون پر اپنے چیف سے بات کر رہے تھے تو میں نے سنا کہ ان کی زبان سے صرف " ہاں صاحب ، جی صاحب ، " ہاں صاحب ، جی صاحب" کے الفاظ نکل رہے ہیں۔ اس وقت اگرچہ وہ اپنے چیف سے سیکڑوں میل دور تھے۔ مگر حال یہ تھا کہ بات کرتے ہوئے کرسی سے اٹھے چلے جا رہے تھے ، جیسے کہ چیف صاحب خود ان کے سامنے موجود ہوں ۔
"ہندو چیف" سے جب ان کی بات ختم ہو گئی تو ان سے مسلمانوں کی موجودہ حالت پر گفتگو اس درمیان میں الرسالہ کا نام آیا۔ ان کا لہجہ فوراً بدل گیا۔ انھوں نے کہا آپ تو پوری قوم کو بزدل بنا دینا چاہتے ہیں۔ میں آپ کے الرسالہ کا سخت مخالف ہوں! نے پر جوش طور پر کہا کہ اسلام ہمیشہ اقدام کی تعلیم دیتا ہے۔ اور آپ مسلمانوں کو انفعالی روش کی طرف لے جانا چاہتے ہیں :
Islam stands for an active approach in all matters and forbids all that leads to a passive surrender. میں نے آہستگی سے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں جو فرق ہے وہ نقطہ نظر کا فرق نہیں ہے۔ بلکہ اصلی فرق یہ ہے کہ آپ ایک ڈبل اسٹینڈرڈ آدمی ہیں اور میں ڈبل اسٹینڈرڈ آدمی نہیں۔ ہی اصول ہے ، ایک معاملہ میں بھی اور دوسرے معاملہ میں بھی ۔
انھوں نے بگڑ کر کہا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے ذاتی معاملہ میں مفاہمت کے اصول پر قائم ہیں۔ اور دوسروں کو ٹکراؤ کے راستہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ سابقہ جن ہندوؤں داخلی افسران، سے پڑتا ہے ان کے ساتھ آپ مبالغہ آمیز حد تک اسی نرم روش کو اپنائے ہوئے ہیں جس کی تلقین الرسالہ میں کی جاتی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے معاملہ میں یہ چاہتے ہیں کہ ان کا سابقہ جن ہندوؤں سے پڑے ان کے مقابلہ میں وہ آخری حد تک کٹنے بن جائیں۔ مذکورہ مسلم دانشور اور ان کے جیسے دوسرے تمام مسلمانوں کے معاملات پوری طرح ان کے بچے اعلیٰ ڈگریاں لے کر بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا راز صرف یہ ہے کہ وہ زبان سے اگرچہ لڑائی بھڑائی کی باتیں کرتے ہیں، مگر عملاً اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو لڑائی بھڑائی سے سیکڑوں میل دور رکھتے ہیں۔ اب میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ بھی اسی طریقہ کو اپنا لیں۔ تصادم اور اقدام، جیسی باتوں کو وہ صرف کہنے کی بات سمجھیں وہ ہر گز انہیں اپنا عملی پروگرام نہ بنائیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا اور ان کے بچوں کا مستقبل بھی اسی طرح محفوظ رہے گا جس طرح ہمارے رہنماؤں اور دانشوروں کا مستقبل پوری طرح محفوظ ہے۔