Al-Risala · November 1987

ایک سفر

Al-Risala, November 1987, pp. 25–26

By Maulana Wahiduddin Khan

کئی مہینہ پہلے کی بات ہے، مجھ کو جا منیر (ضلع جلگاؤں) سے ایک خط ملا جس میں بتایا گیا تھا کہ شری ایشور لال جی جین (سابق ایم ایل اے) اپنے دادا آنجہانی راج مل لکھی چند للوانی (وفات ۱۹۷۳ء) کی یاد میں "لکچر سیریز" کی تقریب کر رہے ہیں ۔ اس کا سلسلہ ایک ہفتہ تک جاری رہے گا۔ اس سات روزہ پروگرام میں وہ ایک اسلامی عالم کا بھی لکچر رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے راقم الحروف کا انتخاب کیا ہے۔ خط و کتابت جاری رہی یہاں تک کہ یہ طے ہو گیا کہ مجھ کو اپریل کو جامنیر پہنچ کر مذکورہ لیکچر دینا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت یہ سفر ہوا۔

پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت ایک خاص تاریخ یا وقت پر کسی مقام کا سفر کرنا ایک عام بات ہے ۔ ساری دنیا کا کام اسی طرح ہو رہا ہے۔ مگر جب اس پر غور کیا جائے کہ ایسا کیوں کر ممکن ہوتا ہے تو معلوم ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس نے پیشگی طور پر مقررہ پروگرام کے تحت سفروں کو انسان کے لیے ممکن بنا دیا ہے۔ یہ ہے سورج اور چاند اور زمین کی گردش کا نظام ۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو تعیین وقت کے ساتھ کوئی کام کرنا نا ممکن ہو جائے ۔ عظیم نعمت ہے جس کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: اللہ ہی جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور عطا کیا اور اس کی منزلیں مقرر کر دیں تا کہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرو (یونس (۵)

۸ اپریل کی صبح کو فلائٹ نمبر ۴۱۴ کے ذریعہ دہلی سے روانگی ہوئی ۔ یہ بوئنگ ۷۳۷ تھا ۔ "بوئنگ" امریکہ کی مشہور جہاز ساز کمپنی ہے ۔ موجودہ زمانہ میں جہاز سازی کی صنعت میں امریکہ کو اجارہ داری حاصل ہے ۔ دنیا کے بیشتر سفر امریکی کمپنیوں کے جہاز ہی پر ہوتے ہیں ۔ کی مخالف کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے پرواز کریں تب بھی اغلب ہے کہ آپ امریکہ ہی کے بنے ہوئے جہاز پر سفر کر رہے ہوں گے ۔

عباسی خلیفہ ہارون رشید نے بادل کے ایک ٹکڑے کو آسمان میں تیرتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا

چاہے جہاں جاکر برس، تیرا اخراج میرے ہی پاس آئے گا (امطری حیث شئت فسیاتینی خراجك) ، اگر امریکہ کہنا چاہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ تم جو بھی سفر کرو خواہ میرے موافق یا میرے خلاف ، کیٹلکس آخر کار میرے ہی پاس آئے گا ۔

تقریباً یہی صورتِ حال ہمارے ملک میں اکثریتی فرقہ کی ہورہی ہے ۔ ہندوستان کے تمام بارتی شعبوں پر اکثریتی فرقہ کا قبضہ ہو چکا ہے ۔ پچھلے سوسالہ عمل کے نتیجہ میں یہاں اکثریتی فرقہ لی حیثیت " دکاندار " کی ہوگئی ہے اور اقلیتی فرقہ کی حیثیت " خریدار " کی۔ یہ سب سے بڑا حادثہ ہے جو اقلیتی فرقہ کی جدید تاریخ میں اس کے ساتھ پیش آیا ہے ۔

۴ مارچ کو راجدھانی میں اقلیتی فرقہ کی ایک " عظیم الشان ریلی " تھی ۔ یہ ریلی اکثریتی فرقہ کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کی گئی تھی ۔ ریلی میں شرکت کرنے والے کچھ لوگ مجھ سے ملنے کے لیے آئے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی ریلی میں کتنے آدمی شریک ہوئے ۔ پُر فخر طور پر کہا کہ کم از کم پانچ لاکھ ۔ میں نے پوچھا کہ شتر کا ، کا خرچ فی کس کتنا ہوگا ۔ ان کا اندازہ تھا کہ فی کس اوسط خرچ ایک سو روپیہ ہو گا ۔ میں نے کہا کہ پانچ لاکھ آدمی اگر فی کس ایک سو روپیہ خرچ کریں تو کل کتنی رقم ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ پانچ کروڑ ۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے صرف ایک دن میں پانچ کروڑ روپے خرچ کر دیئے ۔ اب اگر اس صورتِ حال کو سامنے رکھا جائے کہ اس ملک میں دولت کی گردش یک طرفہ ہوگئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اقلیتی فرقہ نے صرف ایک دن میں پانچ کروڑ روپے اپنی جیب سے نکال کر اکثریتی فرقہ کی جیب میں ڈال دیئے ۔ اقلیتی فرقہ کو تو کچھ نہیں ملا ۔ مگر اس فرقہ کو اس کا پورا حصہ مل گیا جس کے خلاف آپ نے احتجاج کیا تھا ۔

ہندوستان بظاہر بیل گاڑی کے سفر کے دور سے نکل کر ہوائی جہاز کے سفر کے دور میں داخل ہوگیا ہے ۔ مگر ترقی یافتہ ملکوں سے تقابل کیجئے تو ہندوستان کی ہوائی سروس نہایت ناقص نظر آئے گی ۔ حتی کہ یہاں کے ہوائی جہازوں میں بعض اوقات ایسے عجیب و غریب لطیفے پیش آتے ہیں جو ترقی یافتہ ملکوں میں ناقابل تصور سمجھے جاتے ہیں ۔

یکم اپریل ۱۹۸۷ء کے اخبارات میں ایک خبر حسب ذیل سنسنی خیز سرخی کے ساتھ شائع

Printed page