Is it Vayudoot or Yamadoot
Al-Risala, November 1987, pp. 27–29
By Maulana Wahiduddin Khan
وایو دوت پائلٹس ایسوسی ایشن کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ حالت پرواز میں دروازہ کھلنے کی وجہ یہ تھی کہ جہاز کے دروازے کا دستہ (Door handle) ناقص تھا۔ اور فالتو پرزوں کی کمی کی وجہ سے اس کو درست نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دوسری طرف اس سلسلے میں انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس ۵ اپریل ۱۹۸۷ء (صفحہ ۳) نے ایک رپورٹ شائع کی ہے اس کا ایک حصہ یہ
In fact, the management of Vayudoot believes that its hangar at Palam Airport is jinxed and on April 1 a ‘havan’ was performed to ward off evil spirits. All top executives, including the general manager attended the function. دراصل وایو دوت کی انتظامیہ کا یہ خیال ہے کہ پالم ایر پورٹ میں اس کے ہینگر کو نحوست
لگ گئی ہے۔ چنانچہ یکم اپریل کو وہاں ایک ہون کیا گیا تاکہ بدروحوں کو نکالا جاسکے۔ افسران مع جنرل منیجر اس تقریب میں موجود تھے۔
ہمارے ملک کے سرکاری مشنری میں جو بد نظمی پائی جاتی ہے اس کی کم از کم وجہ وہ توہم پرستی ہے جس کی ایک مثال مذکورہ بالا واقعہ میں نظر آتی ہے۔ "جہاز" کی ناقص کارکردگی کو اگر آپ مشین کا معاملہ سمجھیں تو آپ اپنی ساری توجہ اس کی مشین کو درست کرنے میں لگا دیں اس کے برعکس اگر آپ کا عقیدہ ہو کہ "جہاز" کی ناقص کارکردگی بدروحوں کے اثر سے پیدا ہوئی ہے تو آپ بد روحوں کو نکالنے کے لیے غیر متعلق قسم کے توہم پرستانہ اعمال میں مبتلا ہو جائیں گے ۔
جہاز کے اندر مطالعہ کے لیے ۷ اپریل کا انگریزی اخبار سٹیٹزمین رکھا ہوا تھا۔ میں نے اس کو اٹھا کر دیکھنا شروع کیا۔ اتنے میں میرے پاس بیٹھے ہوئے ہندو بھائی نے ایک خبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : " اس کو پڑھیے ؛ انھوں نے صرف اتنا ہی کہا۔ مگر خبر کو پڑھنے کے بعد میں سمجھ گیا کہ وہ کس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۔
یہ صفحہ اول کی ایک خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ۷ اپریل ، ۱۹۸۷ کو ہندو لوگ بہت بڑی تعداد میں رام لیلا گراؤنڈ میں جمع ہوئے اور اس بات کا عہد کیا کہ وہ اجودھیا کی رام جنم بھومی کو " آزاد " کرنے کے لیے ہر قیمت ادا کریں گے ۔ خواہ اس کی خاطر انھیں " خون کی ہولی " کھیلنی اس ملک کے مسلمان پچھلے دو سو سال سے جو تحریک چلا رہے ہیں وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قومی تحریک ہے، اور اس لیے وہ سراسر باطل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود انھیں اپنی تحریکوں میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ مسلم سکھ تحریک، مسلم۔ ہندو تحریک ، یہی مسلمانوں کی پچھلی دو سو سالہ تاریخ کا خلاصہ ہے۔ از روئے قرآن مسلمانوں کو اس ملک میں داعی۔ مدعو تحریک چلانا چاہیے تھا مگر انھوں نے اس کے برعکس تحریکیں انگریز ، مسلم۔ ہندو تحریکوں نے مسلمانوں کے اندر ان اقوام کے خلاف نفرت اور بیزاری پیدا کی ۔ حالاں کہ یہ قومیں ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی تھیں۔
اور مدعو کے لیے داعی کے دل میں صرف محبت اور خیر خواہی کا جذبہ ہونا چاہیے۔ کو اگر ہم محبت کا تحفہ دیتے تو اس کے جواب میں ہمیں بھی ہمارے موافق تحفہ ملتا۔ مگر جب ہم نے انھیں نفرت اور بیزاری کا تحفہ دیا تو اس کے جواب میں ان کی طرف سے بھی ہم کو وہی چیز ملی جو ہم نے انھیں دی تھی ۔
اخبار کی ایک سرخی یہ تھی کہ (اشتراکی) پولینڈ نے اپنی سرکاری کمپنیوں کو نجی ملکیت میں دینے کا فیصلہ کیا ہے :