Al-Risala · November 1987

Poland to privatize State companies

Al-Risala, November 1987, pp. 29–41

By Maulana Wahiduddin Khan

اسٹاک ہام کی ڈیٹ لائن کے ساتھ اس خبر میں پولینڈ کے ذمہ داروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پولینڈ بہت جلد اپنی کئی سرکاری کمپنیوں میں نجی افراد کو حصہ دار بننے کی پیش کش یہ ان اہم اصلاحی تبدیلیوں میں سے ہے جو پولینڈ میں وہاں کی اشتراکی معیشت کو نئی زندگی دینے کے لیے کی جارہی ہیں :

Poland will soon offer shares to private citizens in several State companies under major reforms to rejuvenate its socialist economy. موجودہ صدی کے آغاز میں اشتراکی حضرات نے نجی معیشت کے طریقہ کو ترقی میں رکاوٹ قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ اب اسی صدی کے آخر میں انھیں عملاً یہ اعتراف کرنا پڑا کہ ان کو نجی معیشت کے طریقہ کو دوبارہ اپنانا پڑے گا ورنہ ان کی قومی اقتصادیات برباد ہو کر رہ جائے گی ۔

۸ اپریل کو ۱۱ بجے ہم اورنگ آباد پہنچے۔ یہاں جناب منہاج خاں صاحب کی رہائشگاہ پر دو گھنٹے قیام رہا۔ اس کے بعد جامنیر کے لیے روانگی ہوئی ۔ اورنگ آباد ریاست مہاراشٹر کا ایک شہر ہے۔ اس کو ملک امبر نے ۱۶۱۰ء میں آباد کیا تھا۔ بعد کو اورنگ زیب نے اس کا نام اورنگ آباد کر دیا۔ ۱۹۵۸ء میں یہاں مرہٹوارہ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ اورنگ زیب کا مقبرہ بھی اورنگ آباد کے پاس ہے ۔ ایلورا کے مشہور غار بھی اسی کے پاس واقع ہیں ۔ اورنگ آباد کے مختصر قیام میں شہر کے متعدد افراد ملاقات کے لیے آگئے اور مختلف

موضوعات پر تبادلہ خیال رہا۔ بمبئی کا ایک اردو ہفت روزہ اخبار جو اپنے جذباتی بلکہ مشتعل انداز کے لیے مشہور ہے ، وہ اس علاقہ میں کافی پڑھا جاتا ہے۔ ایک صاحب نے اس اخبار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہاں کے لوگوں کا مزاج تو یہی اخبار بنا رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اخبار مزاج نہیں بنا رہا ہے، بلکہ وہ بنے ہوئے مزاج کو استعمال کر رہا ہے۔ ان اخباروں میں مزاج بنانے کی طاقت نہیں۔ وہ تو صرف مسلمانوں کے بگڑے ہوئے مزاج کو استعمال کر سکتے ہیں اور وہی کر رہے ہیں۔ اورنگ آباد کی آبادی تین لاکھ ہے۔ اس میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً ۳۵ فی صد ہے۔ ہر اعتبار سے اچھی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مگر میرے اندازہ کے مطابق ابھی تک وہ اپنی اس حیثیت کا مثبت استعمال نہ کرسکے۔ ان کی طاقت زیادہ تر آپس کے اختلافات اور بے فائدہ مظاہروں میں ضائع ہورہی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصل خرابی فخر کی نفسیات ہے۔ کی آیت لقد کان لكم فى رسول الله اسوة حسنة کو انھوں نے بدل کر اس طرح کر دیا ہے : لقد کان لكم في رسول الله مفخرة حسنة ۔ جن مقامات پر مسلمان مادی اعتبار سے غیر اہم ہوں وہاں وہ دبے ہوئے رہتے ہیں ۔ اور جہاں انھیں کچھ محفوظ حیثیت حاصل ہو جائے وہاں ان کا مخصوص ذہن فوراً ایک جزیرہ فخر تعمیر کر لیتا ہے ۔ دونوں ہی قسم کے مقامات پر مسلمان کوئی مؤثر کردار ادا کرنے سے محروم رہتے ہیں ۔ اول الذکر مقامات پر غیر ضروری احساس کمتری کی بنا پر اور ثانی الذکر مقامات پر غیر ضروری احساس برتری کی بنا پر ۔ اورنگ آباد سے جامنیر کا سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ اورنگ آباد اور جامنیر کے درمیان یہاں ظہر کی نماز پڑھی گئی ۔ یہاں کوئی پروگرام پہلے سے نہیں رکھا گیا تھا۔ کو میری آمد کی خبر ملی تو لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔ ان کے اصرار پر یہاں نماز ظہر کے بعد مختصر تقریر کی۔ معلوم ہوا کہ سلور میں کافی لوگ ہیں جو برابر الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ آگے بڑھے تو ایک اور مقام آیا جس کا نام پہور ہے۔ یہاں کے لوگ بھی خبر سن کر جمع ہو گئے تھے اور چاہتے تھے کہ ہم لوگ کچھ دیر وہاں ٹھہریں اور تقریر کا پروگرام رکھا جائے۔ مگر وقت کی کمی کی بنا پر ہم لوگ یہاں ٹھہر نہ سکے اور آگے روانہ ہو گئے۔ پہور میں بھی الرسالہ پڑھا جا رہا یہ اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ اب محض ایک رسالہ نہیں رہا ، اب وہ ایک تحریک بن چکا ہے۔

اس سفر میں مختلف مقامات پر چند پروگرام رہے۔ تا ہم یہ سفر اصلاً شری ایشور لال جین (معروف بابو جی) کی دعوت پر ہوا۔ انھوں نے اپنے دادا کے نام پر ایک ہفتہ کے لیے لکچروں کا انتظام کیا تھا۔ اس پروگرام کے آخری دن میری تقریر تھی۔ میری تقریر کا موضوع یہ تھا کہ نیشنل انٹیگریشن اور اس کے بارے میں اسلام کی رہنمائی۔

شری ایشور لال جین اس علاقہ کے نہایت ممتاز آدمی ہیں۔ مختصر قیام کے دوران ان سے ملک کے مسائل اور فرقہ وارانہ معاملات پر گفتگو ہوئی۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک صاف ذہن اور انصاف پسند آدمی ہیں۔ ہر موضوع پر انھوں نے صاف گوئی کے ساتھ باتیں کیں ۔ ہے کہ اکثریتی فرقہ کے بیشتر افراد اسی قسم کا مزاج رکھتے ہیں ، مگر اقلیتی فرقہ ابھی تک اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکا کہ وہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھائے۔ تقریر کا پروگرام ایک کالج کے میدان میں تھا۔ وسیع میدان تقریبا پورا بھرا ہوا تھا۔ ہندو صاحبان بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ بلکہ بعض لوگوں نے بتایا کہ پچھلے پروگراموں کے مقابلہ میں حاضرین کی تعداد اس دن زیادہ تھی۔ خود شری ایشور لال جین میری ڈیڑھ گھنٹہ کی ۸ اپریل اورنگ آباد، ۱۱ بجے ملاقات اور اظہار خیال برمکان جناب منہاج خاں صاحب جامیئر، بعد عصر خطاب (مسجد اور نماز کی اہمیت) شاہی مسجد میں جامیئر، بعد مغرب خطاب عام (نیشنل انٹیگریشن) شری ایشور لال جین کے جلسہ میں جامیئر، بعد عشاء خطاب (قومی یک جہتی) بمقام نیو انگلتش اسکول ۹ اپریل جلگاؤں، بعد نماز فجر درس قرآن جامع مسجد جلگاؤں جلگاؤں، ۹ بجے صبح خطاب (سیکولر ہندوستان میں مسلمانوں کا کردار) ضلع پریشد ہال جلگاؤں خطاب (تعمیر ملت) اینگلو اردو جونیئر کالج جلگاؤں خطاب (توحید اور آخرت) جامع مسجد اورنگ آباد، ۱۰ بجے شام ملاقات اور اظہار خیال مولانا آزاد کالج

تقریر کو نہایت توجہ کے ساتھ سنتے رہے اور آخر میں غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا۔ ان پروگراموں کی اطلاع مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھی۔ اس کو دیکھ کر اطراف کے علاقوں کے کچھ لوگ بھی آگئے اور اجتماعات میں شریک رہے ۔

شری ایشور لال جین کی منعقدہ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ نیشنل انٹیگریشن ہمارے ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر کوئی بڑی ترقی حاصل نں کی جاسکتی۔ مگر میں دو چیزوں میں فرق کرتا ہوں ۔ ایک ہے خود نیشنل انٹیگریشن کا مقصد ۔ دوسرا ہے انٹیگریشن کو حاصل کرنے کا طریقہ ۔ میں نیشنل انٹیگریشن کے مقصد سے صد فی صد اتفاق کرتے ہوئے اس طریقہ کار سے اتفاق نہیں رکھتا جو آجکل نیشنل انٹیگریشن کے لیے پیش کیا جار ہا ہے۔

حال ہی میں میں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی کتاب پڑھی۔ اس کا نام ہے: INDIA: The Roots of Crisis (1986)

اس کتاب میں انھوں نے نیشنل انٹیگریشن کے مقصد کو حاصل کرنے کی تدبیر یہ بتائی ہے کہ ملک میں کلچرل انٹیگریشن پیدا کیا جائے ۔ یعنی تمام لوگ ایک ہی کلچر کو اختیار کر لیں۔ ایک شخص کی بات نہیں ہے ۔ ملک میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ نیشنل انٹیگریشن کا ذریعہ کلچرل انٹیگریشن ہے۔ مثلاً ملک کے مختلف فرقوں میں سول میرج کا طریقہ رائج کر دیا جائے ، ہر فرقہ کے لوگ دوسرے فرقہ کے لوگوں سے شادی کریں وغیرہ ۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی چیزوں کا نیشنل انٹیگریشن سے کوئی تعلق نہیں۔ اور سکھوں میں عام طور پر آپس کی شادی کا رواج تھا ۔ پھر ان کے درمیان لڑائی کیوں ہوئی ۔ پاکستانی اور بنگلہ دیشی دونوں ایک مذہب کے لوگ ہیں پھر وہ ایک دوسرے سے کیوں لڑ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیشنل انٹیگریشن کا تعلق قومی مزاج سے ہے نہ کہ اس قسم کے رواجوں سے ۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر انسانیت کے احترام کا مزاج پیدا کیا جائے ۔ دوسرے آدمی کے جان و مال اور عزت کو قابلِ احترام سمجھے ۔ یہ مزاج آجائے تو اپنے آپ نیشنل انٹیگریشن پیدا ہو جائے گا ۔ اور اگر یہ مزاج نہ آئے تو کسی اور تدبیر سے نیشنل انٹیگریشن کا مقصد

حاصل ہونے والا نہیں۔

یہ حل جو بتایا جاتا ہے وہ فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ فطرت کا نظام تنوع کے اصول پر مثلاً پودوں اور درختوں کو دیکھئے ۔ ہر ایک کا الگ انداز اور ہر ایک کی الگ شان ہے ۔ اگر کوئی شخص تمام پودوں اور درختوں کو کاٹ کر ایک سائز کا بنانے لگے تو یہ سراسر نادانی کی بات دنیا کے باغ میں بڑے درخت بھی ہیں اور چھوٹے درخت بھی ۔ بڑا درخت اگر سایہ اور لکڑی دیتا ہے تو چھوٹے درختوں کی قطاریں ہریالی میں اضافہ کرتی ہیں ۔ پھول کے درخت اگر خوشبو دیتے ہیں تو اسی کے ساتھ گھاس بھی ایک اہم کام کرتی ہے ۔ اگر گھاس نہ ہو تو زمین پر ہری مخمل کا فرش

یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو ایک دوسرے پر فضیلت یعنی ایک انسان کو کوئی خصوصیت دی ہے اور دوسرے انسان کو کوئی دوسری خصوصیت عطا کی ہے ۔ ایک کا ذوق ایک ڈھنگ کا ہے تو دوسرے کا ذوق دوسرے ڈھنگ کا ۔ یہ تنوع زندگی کی جان ہے۔ کیوں کہ اسی کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے کہ زندگی کی مختلف ضرورتیں پوری ہوں اور ہمہ گیر اور ہمہ جہتی ترقی ممکن ہوسکے۔ انسانوں کے اس تنوع کو ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسے تمام انسانوں کے قد کو برابر کرنے کے لیے ان کے سروں کو تراشا جانے لگے ۔

اس قسم کا حل موجودہ دنیا میں ناممکن ہے۔ یہ خود انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ بذات خود ایک کائنات ہے۔ ہر آدمی کی فزیکل بناوٹ الگ ہوتی ہے۔ ہر آدمی کے انگوٹھے کا نشان الگ ہوتا ہے ۔ حتیٰ کہ اب یہ ثابت ہوا ہے کہ ہر انسان کے جسم کا ہر پارٹیکل دوسرے انسان کے جسم کے پارٹیکل سے جدا ہوتا ہے ۔ ایسی حالت میں آپ تمام لوگوں کو ایک ہی رنگ میں کیسے رنگ سکتے ہیں ۔ یہ تو خود نظام فطرت کے خلاف ہے ۔ جب خالق نے انسان کے اندر کثرت رکھی ہے تو آپ کثرت کو مان کر اپنا مسئلہ حل کر سکتے ہیں نہ کہ اس کو رد کر کے۔

اس بنا پر میں کہتا ہوں کہ نیشنل انٹیگریشن کا راز کلچرل انٹیگریشن میں نہیں ہے بلکہ کلچرل ایڈجسٹمنٹ میں ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں۔ ایک دوسرے کے معاملے میں روادار بنیں، اختلاف کے باوجود متحد ہونا سیکھیں۔ اس تمہید کے بعد میں نے تفصیل کے ساتھ

تاریخ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بتایا کہ ہندوستان کے حالات میں نیشنل انٹیگریشن کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

اس سفر میں بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ چند ملاقاتوں کا حال یہاں لکھا جاتا ہے ۔

الرسالہ کے ایک قاری نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کے ہر صفحہ پر کوئی نئی بات الرسالہ کی اس خصوصیت نے اس کو نہایت اثر انگیز بنا دیا ہے۔ جو شخص اس کو پڑھتا ہے وہ اس سے اثر لیے بغیر نہیں رہتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ نے میری زندگی بدل دی۔ پہلے میں قرآن کو پڑھتا تھا مگر اس کے معانی پر غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا تھا۔ مگر اب میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ عبادت میں ایک نئی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ کو دیکھتا ہوں تو اس میں مجھے خالق کا جلوہ نظر آتا ہے۔ حالاں کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ کئی لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ انھوں نے الرسالہ کے زیر اثر اپنے اختلافات ختم کرلیے اور جوق داروں کو ان کے جوق واپس کر دیے ۔

کچھ لوگوں نے " عملی پروگرام " کی بابت سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح معروف قسم کا عملی پروگرام شروع نہیں کرسکتے۔ ہر عملی پروگرام کے لیے ضروری ہے کہ جن لوگوں کے درمیان اس کو اٹھایا گیا ہے۔ ان کو ذہنی طور پر اس کے لیے تیار کر لیا گیا ہو۔ لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ " اسلام خطرہ میں " اور " مسلمان خطرہ میں " کے عنوان کے تحت اقدامات کرتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے لیے کوئی ذہنی زمین بنانے کی ضرورت نہیں۔ تو بنی بنائی موجود ہے۔ موجودہ مسلمان مختلف اسباب کے تحت جھنجھلاہٹ اور احساس مظلومی کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ اب کوئی شخص جب خطرہ کی گھنٹی بجا تاہے تو یہ بات عین انکے مزاج کے مطابق اس قسم کے نعروں سے ان کی منفی نفسیات کو غذا ملتی ہے۔ وہ حق در حقوق اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دل کھول کر اس کے لیے چندے دیتے ہیں۔ لیڈروں کی پرجوش تقریروں کو سننے کے لیے فوراً ان کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔

مگر ہم کو جو کام کرنا ہے وہ خالص تعمیری کام ہے۔ لوگ خارجی خطروں میں جی رہے ہیں،

جب کہ ہمیں ان کے اندر داخلی خطرے کا احساس پیدا کرنا ہے۔ لوگ انھیں احتساب غیر پر بلاتے ہیں۔ ہم انھیں احتساب خویش پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ اب چونکہ ہمارے موافق ذہنی زمین مسلمانوں کے اندر موجود نہیں ہے ، اس لیے ہمارا کام ذہنی زمین تیار کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ دوسروں کو ذہنی زمین تیار کرنے کے جھنجھٹ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ وہ کسی بھی دن ایک نعرہ لے کر کھڑے ہو سکتے ہیں اور صبح و شام میں ان کے گرد ایک بھیڑ جمع ہو جائے گی۔ ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مظلوم کی پکار سیدھی خدا تک پہنچتی ہے اور عرش الہی کو ہلا دیتی ہے۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں مظلوم ہیں ۔ وہ پچاس برس سے ہر روز خدا سے دعا کرتے ہیں مگر اب تک ظالموں کا کچھ نہیں بگڑا۔ اب تک ان کی مظلومیت ختم نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ حدیث میں جس " مظلوم " کا ذکر ہے ، وہ ایسا شخص ہے جو یک طرفہ طور پر مظلوم بنا دیا گیا ہو، دوطرفہ عمل کے نتیجہ میں مظلوم ہونے والوں کا ذکر اس حدیث میں نہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان یک طرفہ قسم کے مظلوم نہیں ہیں۔ ان کا معاملہ دوطرفہ ہے۔ یعنی مسلمانوں نے بھی دوسروں کے ساتھ ظلم کیا اور دوسروں نے بھی ان کے ساتھ ظلم کیا۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کیے ہوئے ظلم سے زیادہ ظلم دوسروں کی طرف سے پائیں۔ بہر حال وہ دوطرفہ ایسے لوگ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتے۔

مسلمان اگر ایسا کریں کہ نہ تو اپنی طرف سے کسی ظلم کا آغاز کریں اور نہ دوسروں کے ظلم کے بعد ان کے خلاف کوئی جوابی ظلم کریں تو ان کی مظلومیت یک طرفہ ہوگی ۔ ایسی حالت میں اگر وہ خدا کو پکاریں گے تو بلاشبہ عرش الہی ان کی پکار سے ہل جائے گا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے بارے میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ بھارتی سرکار کے میں نے کہا کہ اس کا ثبوت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوئی کانکریٹ ثبوت نہیں البتہ میں نے کہا کہ محض شبہہ کی بنیاد پر کسی کے خلاف الزام لگانا حرام ہے۔ گویا کہ میرے خلاف ان کا الزام تو ابھی غیر ثابت شدہ ہے۔ مگر خود وہ لوگ دلیل کے بغیر اس قسم کا الزام لگا کر خود اپنے آپ کو فعل حرام کا مجرم ثابت کر رہے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ جو لوگ اس قسم کا الزام لگاتے ہیں وہ یقینی طور پر اندھے ہیں۔

میں تمام تر تعمیری باتیں ہوتی ہیں ۔ آپ ساری تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی نہیں بتا سکتے کہ ایک شخص تخریب کاروں کا ایجنٹ ہو، اس کے باوجود وہ اپنی قوم کو تعمیری بنیاد پر اٹھانے کی کوشش کرے۔

ایک صاحب نے کہا کہ میں برابر الرسالہ پڑھتا ہوں۔ آپ کی تمام کتابیں پڑھ چکا مجھے آپ کی باتوں سے صد فی صد اتفاق ہے۔ مگر بعض لوگ آپ کے بارے میں طرح طرح کی قابل اعتراض باتیں بیان کرتے ہیں جن سے ذہن خلجان میں پڑ جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہاں آپ نے میری کئی تقریریں سنی ہیں۔ کیا آپ نے ان میں کوئی خلاف بات پائی۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ ہر مہینہ میرے دو رسالے (اردو، انگریزی) نکلتے ہیں، کیا ان میں آپ کو کوئی خلاف بات ملی۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ میری تقریبا پچاس کتابیں چھپ چکی ہیں، کیا ان میں آپ نے کوئی خلاف بات پائی۔ کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ بس تو پھر آپ اس قسم کے لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کر دیجئے ۔ شخص سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر آپ سے لغو باتیں کہتا ہے اس سے کہیے کہ تم جھوٹے ہو۔ اگر تم کو اعتراض کرنا ہے تو مطبوعہ باتوں کی بنیاد پر اعتراض کرو۔ سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کیا ہوا تمہارا اعتراض سراسر نا قابل لحاظ ہے۔ وہ خود تمہاری شرپسندی کو ثابت کرتا ہے نہ کہ کسی دوسرے شخص کے غلط کار ہونے کو۔

ایک ایڈیٹر صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک خاص موضوع پر اپنے رسالہ کا نمبر نکالنے والے تھے اور چاہتے تھے کہ میں اس موضوع پر ایک مضمون لکھ کر انھیں دوں۔ نے کہا کہ یہ میرے لیے مشکل ہے ، کیوں کہ فرمائشی مضمون لکھنا مجھ کو نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ آپ تو اتنے زیادہ مضامین لکھتے ہیں کہ الرسالہ میں صرف آپ کے مضامین ہوتے ہیں، اور اسی طرح وہ دس سال سے نکل رہا ہے۔ پھر ایک مضمون لکھنا آپ کے لیے کیا مشکل ہے۔ میں نے کہا کہ میرے لکھنے کا طریقہ اس سے مختلف ہے جو دوسروں کا ہوتا ہے۔ لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ حسب ضرورت ایک موضوع مقرر کیا اور اس پر لکھنا شروع کر دیا۔ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ میرا مضمون میرے مطالعہ کی ضمنی پیداوار (By-product) ہوتا ہے۔

میں جب کوئی چیز پڑھتا ہوں ۔ خواہ قرآن و حدیث پڑھوں یا اور کوئی چیز پڑھوں تو مطالعہ کے دوران ذہن کسی خاص پہلو کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ بس اس کو میں کاغذ پر لکھ لیا کرتا یہی میرا مضمون ہے ۔ میرے تمام مضامین " آمد " ہوتے ہیں نہ کہ " آورد " اس طرح ہر روز کثیر تعداد میں مضامین ذہن میں وارد ہوتے ہیں اور ان کو میں لکھتا رہتا ہوں ۔ یہ مضامین اکثر الرسالہ کی ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ایسے مضامین جو الرسالہ میں نہیں چھپے ، اس وقت بھی میرے پاس اتنے زیادہ ہیں کہ اگر میں مرجاؤں تو ایک آدمی ان مضامین کی بنیاد پر اگلے دس برس تک انشاء اللہ اسی طرح رسالہ کو جاری رکھ سکتا ہے ۔

جلگاؤں ریاست مہاراشٹر کا ایک ضلع ہے ۔ ۱۹ ویں صدی سے پہلے اس کی کوئی اہمیت نہ تھی ۔ اس کے بعد خاندیش کے علاقہ میں روئی کی کاشت شروع ہوئی ۔ کہ خاندیش روئی کی فصل پیدا کرنے کا ممتاز علاقہ بن گیا ۔ اس واقعہ نے جلگاؤں کو اہمیت یہاں کپڑے کی صنعت وجود میں آئی ۔ اولاً ہینڈ لوم اور اس کے بعد پاور لوم نے جلگاؤں کو صنعتی مقام بنا دیا ۔

ہر ترقی کے لیے ایک زمین در کار ہوتی ہے ۔ جب تک موافق زمین فراہم نہ کی جائے ، کسی بھی قسم کی کوئی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔

جلگاؤں میں ہر سال سارہ جنگ گینیش اتسو کا جلوس نہایت دھوم سے نکلتا ہے ۔ اسی زمانہ میں ایک دو دن کے فرق سے مسلمانوں کا محرم کا جلوس بھی نکلتا ہے ۔ ہندوؤں کو محرم کے جلوس کے راستہ ( روٹ ) پر اعتراض ہوتا ہے اور مسلمانوں کو ہندوؤں کے جلوس کے راستہ (روٹ ) پر ۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان تناؤ بڑھتا ہے اور فساد کی صورت پیدا ہو جاتی ہے ۔

۱۹۸۵ میں یہاں کے کلکٹر نے دونوں فرقوں کے لوگوں کی میٹنگ بلائی اور ان کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ دونوں فرقے اپنے اپنے جلوس کا راستہ ( روٹ ) بدل دیں ۔ اپنے جلوس کا راستہ بدلنے پر راضی ہو گئے مگر ہندو صاحبان اپنے جلوس کا راستہ بدلنے پر راضی نہیں

وقت پر جب جلوس نکلا اور وہ چلتا ہوا اسلام پورہ کے علاقہ کی مسجد کے پاس پہنچا تو وہاں کے مسلمانوں میں تناؤ پیدا ہو گیا۔ لوگوں نے طیش میں آکر چاہا کہ باہر نکلیں اور جلوس کو روکیں ۔ نے دوبارہ کہا کہ آپ لوگ اپنے گھروں میں ٹھہریئے، ہم کو اس مسئلہ سے نمٹنے دیجئے۔ کلکٹر کی بات مان لی اور جلوس کے سامنے نہیں آئے۔ جلوس مسجد کے سامنے رکا ہوا تھا اور اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ مثلاً جس کو ہونا پاکستان ، اس کو بھیجو قبرستان ۔ یا ہندی، ہند و ہندوستان ملا بھاگو پاکستان ۔ کلکٹر نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اعلان کیا کہ آپ لوگ پانچ منٹ کے اندر آگے بڑھ جائیے، ورنہ آپ کے اوپر لاٹھی چارج کر دیا جائے گا۔ ایک طرف مجمع اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں میں مشغول رہا۔ دوسری طرف کلکٹر نے گھڑی کی سوئی کو دیکھنا شروع کیا۔ گھڑی کی سوئی نے بتایا کہ پانچ منٹ پورے ہو گئے، کلکٹر نے فوراً پولیس کو لاٹھی چارج کا آرڈر اس کے بعد پولیس نے جلوس کو مارنا شروع کیا۔ یہ " پولیس ایکشن " اتنا سخت تھا کہ سارا جلوس بھاگ کھڑا ہوا اور سڑک بالکل خالی ہو گئی۔

ایسے مواقع ملک کے مختلف حصوں میں پیش آتے ہیں۔ ان میں مسلمان یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ صبر اور حکمت کا ثبوت نہیں دے پاتے ، وہ خود لڑنے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ اگر ایسے مواقع پر وہ صبر اور حکمت کا ثبوت دیں تو ہر جگہ وہی کہانی دہرائی جائے جس کا ایک نمونہ جلگاؤں کے مذکورہ واقعہ میں نظر آتا ہے ۔

۹ اپریل کی شام کو جلگاؤں سے اورنگ آباد کے لیے واپسی ہوئی۔ اورنگ آباد کا فاصلہ بذریعہ روڈ ۱۶۰ کلومیٹر ہے۔ جلگاؤں سے اورنگ آباد آتے ہوئے عصر کی نماز راستہ میں ادا کی گئی۔ میرے ساتھیوں کی رائے ہوئی کہ کھلی جگہ پر نماز ادا کی جائے ایک جگہ سڑک کے کنارے ٹیوب ویل لگا ہوا تھا۔ یہاں گاڑی روک کر ہم سب نے وضو کیا اور کھیت میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی ۔

دور تک کھلا میدان تھا جس میں جگہ جگہ درخت اُبھرے ہوئے تھے۔ ان کے آگے پہاڑوں کی بلندیاں نظر آتی تھیں۔ اوپر آسمان اپنی ساری وسعتوں کے ساتھ پھیلا ہوا تھا۔ ماحول اپنی اتھاہ عظمتوں کے ساتھ انسانی عجز کی یاد دلا رہا تھا۔ ایسے آفاقی ماحول میں جب

اللہ کے چند بندے "اللہ اکبر" کہتے ہوئے سجدے میں گر پڑیں تو یہ ایسا منظر ہوتا ہے جیسے کائنات کی خاموشی کو زبان مل جائے، جیسے بے شعور مخلوق اور باشعور مخلوق دونوں اپنے خالق کا اقرار کرنے کے لیے ہم آہنگ ہو گئے ہوں۔

جلگاؤں سے اورنگ آباد جاتے ہوئے راستہ میں اجنتا کے غار آتے ہیں۔ کا وہ قدیم صنعت دیکھی جس کو قرآن میں الذین جابوا الصخر بالواد کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی پہاڑ کی چٹانوں کو تراش کر گھر یا مورت وغیرہ بنانا۔ قدیم زمانہ کی صنعتوں میں سے ایک صنعت یہ بھی بھی۔ اجنتا کے غاروں کے بارے میں خود لکھنے کے بجائے میں مولانا اکبر الدین متاسمی کے الفاظ نقل کرتا ہوں جنھوں نے اجنتا کے مشاہدہ کے بعد مجھے ایک خط میں لکھا تھا :

" جلگاؤں سے واپسی میں اجنتا ایک مقام ہے جہاں کے غار بہت مشہور ہیں وہ دیکھنے کا یہ بدھ مذہب کا کسی زمانے کا بہت بڑا سنٹر معلوم ہوتا ہے۔ یہاں کل ۳۲ غار ہیں جن میں گو تم بدھ کے کئی ہزار مجسمے مختلف انداز سے تراشے اور اتارے گیے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اجنتا کے اس مقام پر جو آبادی ہے وہ مسلم اکثریتی آبادی ہے جہاں سیاسی اور معاشی طور پر مسلمان چھائے ہوئے ہیں۔ سرپنچ اور دیگر سیاسی عہدے مسلمانوں کے ہاتھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کسی وقت دعوتی کام ہوا تھا جس کی وجہ سے یہاں کی فضا بدھ مذہب کے ماحول میں تھی مسلم فضا بن گئی۔ یہاں ایک تاریخی مسجد ہے۔ جاہ اول نے بنائی تھی۔ بڑی شاندار اور لمبی چوڑی مسجد ہے۔ خوبصورت کمانیں کشادہ صحن مسجد کو با وقار بنائے ہوئے ہیں۔ یہاں عشاء کی نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ نماز کے بعد جب منبر (خطبہ جمعہ کی جگہ پر نظر پڑی تو وہاں "تذکیر القرآن " رکھی ہوئی تھی۔ امام مسجد صاحب سے ان سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ تفسیر یہاں ہر روز بعد نماز فجر سنائی جاتی یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ لوگوں میں تذکیر کی غذا حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو رہا ہے ۔ اللهم زد فزد "

اورنگ آباد میں میرا قیام صوبیدار گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ یہاں ایک لطیف پیش آیا

میں اپنے کمرہ کے باتھ روم میں داخل ہوا تو وہاں کوئی چیز حرکت کرتی ہوئی نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک بڑا سا مینڈک تھا۔ میں نے گیسٹ ہاؤس کے آدمی سے کہا کہ یہاں باتھ روم میں ایک اس نے جواب دیا: ہاں، یہاں چوں کہ چاروں طرف باغ ہیں، اس لیے کبھی کبھی باہر سے مینڈک آ جایا کرتے ہیں۔

ایک سال پہلے دہلی میں اشوک ہوٹل کے کمرے میں یہ واقعہ پیش آیا تھا کہ وہاں کیڑے رینگتے ہوئے نظر آئے جس کی وجہ سے ایک امریکی وفد ہوٹل چھوڑ کر چلا گیا۔ اور رنگ آباد کا گیسٹ ہاؤس اور دہلی کا اشوک ہوٹل دونوں حکومت کی ملکیت ہیں۔ آخر سرکاری اداروں ہی میں کیوں اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ " پبلک سیکٹر" کو ہندوستان میں "پرائیویٹ سیکٹر" کے لیے بطور نمونہ قائم کیا گیا تھا۔ مگر اب پرائیویٹ سیکٹر ہی پبلک سیکٹر کے لیے نمونہ بن

۱۰ اپریل کی صبح کو واپس آتے ہوئے اورنگ آباد ائیر پورٹ میں داخل ہوا تو سیکیورٹی چک پر ایک شخص پولیس کی وردی میں کھڑا ہوا تھا۔ حسب معمول اس نے "چیکنگ" کی۔ اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان مندرجہ ذیل مکالمہ ہوا۔

آپ کہاں رہتے ہیں آپ کا نام کیا ہے السلام علیکم (مصافحہ کرتے ہوئے) " میرا نام عثمان علی خان ہے۔ میرے لیے دعا فرمائیے۔ مذکورہ آدمی کی شخصیت پولیس کی وردی میں چھپی ہوئی تھی۔ مگر جیسے ہی اس نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے السلام علیکم کہا، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ پولیس کی وردی کے اندر سے ایک نیا انسان نکل آیا ہے ۔ اسی طرح ہر انسان کے اندر ایک اور انسان چھپا ہوا ہے۔ انسان کو آپ ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔ مگر دوسرا انسان صرف اس وقت سامنے آتا ہے جب کہ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آکر اس کا پردہ پھاڑ دے۔

میں سونے اور جاگنے کی کیفیت کے درمیان اپنی سیٹ پر تھا کہ اناؤنسر کی آواز کان میں آئی : اب سے کچھ عرصے بعد ہمارا و مان دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترے گا مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی کہنے والا کہہ رہا ہو کہ " اب سے کچھ عرصے بعد تمہارا جنازہ قبر میں اترے گا " یہ سوچ کر بدن پر کپکپی طاری ہو گئی۔ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ دل سے دعا نکلی کہ خدایا، آپ نے خیریت کے ساتھ دلی پہنچا دیا ہے، اسی طرح خیریت کے ساتھ آخرت کی بہترین منزل تک پہنچا دیجئے ۔ ہر سفر بالاخر موت پر ختم ہونے والا ہے۔ مگر لوگ ہر سفر اس طرح کرتے ہیں گویا کہ وہ زندگی کی منزل پر پہنچ رہے ہیں۔

سفر سے واپسی کے بعد جناب ایس اے ناصر صاحب کا خط (۱۳ اپریل ۱۹۸۷)

موصول ہوا ہے۔ ان کا وطن جا منیر ہے۔ مگر وہ جلگاؤں کے ایک کالج میں استاد ہیں ۔ چنانچہ وہ زیادہ تر جلگاؤں میں رہتے ہیں۔ وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں: یہاں جلگاؤں میں آپ نے لوگوں کے دلوں میں تشنگی بڑھادی ، جو اتنا کم وقت یہاں مل سکا۔ آئندہ انشا اللہ نئے عزم کے ساتھ کام ہو گا۔ جامنیر میں تو آپ لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا کر گیے۔ آپ کی جامنیر کی تقریر کیسٹ سے کاغذ پر نقل کر لی گئی ہے اور اخبار کو برائے اشاعت بھیج دی گئی ہے۔ نظر ثانی کر کے اس کو کتابچہ کی شکل میں چھپوالیں تو بہت بہتر ہوگا۔ یہ تقریر کچھ سمجھہ دار لوگوں نے کیسٹ سے سنی تو کہنے لگے کہ ایسا پروگرام تو جلگاؤں میں ہونا چاہیے تھا ۔ وہ دوبارہ خواہش ظاہر کر رہے ہیں کہ یہاں پوری تیاری کے ساتھ پروگرام ہو" پروفیسر این جی قاضی (اورنگ آباد) اپنے خط مورخہ ۱۵ مئی ، ۱۹۸۷ میں لکھتے ہیں: ’’جامنیر میں بعد نماز عصر آپ نے نماز کی حقیقت پر جو روح پر ور بیان دیا، واقعی بے حد اس سے نہ صرف آنکھیں نم تھیں بلکہ دل و دماغ بھی رشد و ہدایت کی ضیا سے منور اور میں تو اپنے آپ میں ایک انقلابی تبدیلی محسوس کر رہا تھا۔ نیشنل انٹیگریشن اور اسلام پر جامینیر میں آپ نے جو خطاب عام فرمایا اور جس انداز سے حقیقت کو پیش کیا ، اس سے تعلیم یافتہ طبقہ خصوصاً غیر مسلم بے حد متاثر ہوئے "

Printed page