Al-Risala · November 1987

Human Rights and Value Education.

Al-Risala, November 1987, pp. 34–48

By Maulana Wahiduddin Khan

منتظمین کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز اس سیمینار میں شریک ہوئے اور مذکورہ موضوع پر اسلامی نقطۂ نظر سے ایک تقریر کی ۔ عام طور پر لوگوں نے اس کو پسند کیا۔ ۲- دہلی (بھوجلہ پہاڑی) میں ۳ اگست ۱۹۸۷ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس اجتماع میں علاقہ کے تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے ۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے ایک تقریر تقریر کا موضوع تھا: ملی تعمیر کے لیے علم کی اہمیت۔ تقریر میں یہ بتایا گیا کہ علم یا تعلیم کا اصل مقصد سروس حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد قوم کے افراد کو باشعور بنانا ہے۔ مختلف تاریخی مثالوں کے ذریعہ بتایا گیا کہ علمی شعور کس طرح قوموں کی ترقی اور کامیابی میں مددگار ہوتا ہے۔

۳- ایک صاحب جو دوحہ (قطر) میں بحیثیت استاد کام کر رہے ہیں اپنے خط (۱۳ جولائی ۱۹۸۶) میں لکھتے ہیں : یہاں لائبریری میں "مذہب اور جدید چیلنج" نظر آئی۔ یَتَحدّ یٰ تمام مکتبات میں موجود ہے۔ پچھلے جمعرات کو حسن اتفاق سے ریڈیو پر آپ کی تقریر ” حج کی اجتماعی اہمیت " سامعہ نواز ہوئی ۔ پوری تقریر میں نے ٹیپ کرلی ۔ اور یہاں اپنے طلبہ کو کلاس میں سنائی۔ عرب طلبہ نے کہا : یہ نام ہمارے یہاں اب میں الاسلام یتحدی خرید کر ان میں تقسیم کرنے والا ہوں (ڈاکٹر

۴- انڈین ریلوے اسٹاف ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک میگزین نکلتا ہے جس کا نام ہے سنگتین ۔ اس میں بیک وقت انگریزی اور ہندی مضامین ہوتے ہیں۔ میگزین میں الرسالہ کے مضامین نمایاں طور پر انگریزی اور ہندی زبانوں میں شائع کیے مثال کے طور پر جنوری ۱۹۸۷ میں صفحہ ۳ پر اور اپریل ۱۹۸۷ میں صفحہ ۴ یہ میگزین گورکھپور سے شائع ہوتا ہے۔

۵- ایک صاحب جو نسلًا انگریز ہیں۔ انھوں نے عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔

اور اردو اور فارسی اور پشتو زبانیں سیکھیں۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ نے ”اسلامی تعلیمات“ کے ایک باب (آدمی کا امتحان) کے بارے میں اپنا تاثر حسب ذیل الفاظ میں روانہ کیا ہے:

ایک صاحب اپنے خط ۱۸ جولائی ۱۹۸۷ میں غازی پور سے لکھتے ہیں: الرسالہ پابندی سے برابر موصول ہو رہا ہے۔ میں الرسالہ پڑھنے کے بعد متعدد لوگوں کو دے دیا کرتا ہوں جو کہ اس کا مطالعہ بڑے ذوق شوق کے ساتھ کرتے ہیں اور بحمد اللہ اس کے مطالعہ کے بعد میں نے لوگوں میں بڑی تبدیلیاں محسوس کیں۔ سوچنے سمجھنے اور بحث کرنے کا ان کا انداز یکسر بدل گیا۔ یہ ایک خاموش انقلاب ہے جو ایک خوب صورت انداز میں لوگوں کی زندگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ خوش گوار تبدیلی بے حد مفید اور عظیم ثابت ہوگی (ڈاکٹر ایس ایچ صدیقی)

ایک صاحب اپنے خط (۲۹ جولائی ۱۹۸۷) میں لکھتے ہیں: الرسالہ کے ذریعہ ہم ایک عظیم فتنہ سے بچے، میرا دل، جس میں پہلے تعصب کی بھٹیاں جلتی رہتی تھیں، الحمد للہ اس میں اب اللہ کی توفیق سے دوسروں کے لیے خیر خواہی ہے۔ اللہ میری کوتاہیوں سے درگزر فرمائے (شاد حسین، سرینگر)

اسلامی مرکز کے فکر کی مزید اشاعت کے لیے یہ مہم شروع کی گئی ہے کہ ملک کے بڑے بڑے انگریزی اخبارات میں خطوط شائع کرائے جا رہے ہیں. اس قسم کے متعدد خطوط قومی روزناموں میں چھپ چکے ہیں اور خدا کے فضل سے ان کا اچھا اثر مرتب ہو رہا ہے۔

مسٹر جے ایف ریبرو (ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ، پنجاب ) نے صدر اسلامی مرکز کا ایک آرٹیکل (مطبوعہ ٹیلی گراف) پڑھا جس کا عنوان تھا :

Only goodness can cure the evil of communalism مسٹر ریبرو نے اس کو (Very interesting article) قرار دیتے ہوئے اپنے خط مورخہ ۱۰ اگست ۱۹۸۷ء میں لکھا ہے :

It is a difficult solution, but constant efforts should be made by the leaders to solve problems in the suggested manners اسلامی مرکز کے فکر کو خدا کے فضل سے یہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اس کو وہرانے لگے ہیں۔ تھوڑے سے لوگ حوالہ کے ساتھ اور بیشتر لوگ حوالہ کے بغیر ۔ دوسری قسم میں ایک تعداد ان لوگوں کی ہے جو الفاظ اور ترتیب کے معمولی فرق کے ساتھ اس کو اپنی تحریروں کے درمیان شامل کر لیتے ہیں ۔ دوسرے لوگ دہ ہیں جو سیدھے سیدھے ہماری تحریر کو اپنے نام سے شائع کر رہے ہیں ۔ یہ اسلامی مرکز کے فکر کی غیر معمولی مقبولیت کا ثبوت ہے ۔

صدر اسلامی مرکز نے ۱۳ اگست ۱۹۸۷ کو نئی دہلی کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ خطاب کا موضوع تھا : سچائی کیا ہے اور ہم کس طرح اسے پا سکتے ہیں ۔ میں سب تعلیم یافتہ لوگ تھے ۔ اکثریت غیر مسلم صاحبان کی تھی ۔ ایک صاحب نے الرسالہ کے منتخب مضامین کو گجراتی زبان میں چھاپنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سلسلہ کی پہلی کتاب چھپ گئی ہے اور حسب ذیل پتے سے مل سکتی ہے :

Printed page