Al-Risala · December 1987

بُرا گمان

Al-Risala, December 1987, pp. 6–4

By Maulana Wahiduddin Khan

یا أيهَا الذین آمنوا اجتنبوا كثيراً من اے ایمان والو، بہت سے گمان سے بچو۔ الظن إنّ بعض الظن إثم (الحجرات ۱۲) بعض گمان گناہ ہیں ۔

گمان (ظن) بڑی تقسیم میں دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک حسن ظن جو جائز ہے اور دوسرا سوء ظن جو حرام ہے (ان الظن علی اقسام: منها ما يجب اتباعه وهو حسن الظن، ومنها ما يحرم اتباعه كسوء الظن ، التفسير المظهری) مفسر طبری نے إنّ بعض الظن اثم کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے مومن کو اس سے منع فرمایا کہ وہ دوسرے مومن کے حق میں بُرا گمان کرے ( کرے(نھی اللہ عزوجل المومن ان یظن بالمومن شرا) ایک ہے عین واقعہ یا عین مشاہدہ کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ اور ایک ہے قیاس اور استنباط کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ اس معاملہ میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو تو ایسی رائے صرف عین واقعہ یا عین مشاہدہ کی بنیاد پر قائم کی جاسکتی البتہ اگر اچھی رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو تو دونوں طریقوں کی بنیاد پر رائے قائم کرنا جائز حدیث میں یہاں تک ارشاد ہوا ہے کہ اذا ظننت فلا تحقق یعنی اگر کسی شخص کے بارہ میں تمہیں کوئی بُرا گمان ہو جائے تو اس کی تحقیق میں نہ پڑو، بلکہ اس کو اپنے ذہن سے نکال دو۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے ولید بن عقبہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس شخص کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : ہم کو تجسس سے روک دیا گیا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز بالکل ظاہر ہو جائے گی تو ہم اس پر مواخذہ کریں گے (قیل له هذا فلان تقطر لحيته خمرا ۔ فقال عبد الله رضی الله عنه قد نهينا عن التجسس ولكن ان یظھر لنا شئ ناخذ به)، حضرت عمر فاروق نے فرمایا : ہمارے مومن بھائی کی زبان سے کوئی بات نکلے تو تم ہرگز اس کو برے معنی میں نہ لوجب کہ تم اس کو اچھے معنی میں بھی لے سکتے ہو (الا تظنن بكلمة خرجت من اخيك المومن خيرا وانت تجد لها في الخير محملا ، تفسير ابن كثير)

(رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میں اپنے کسی مومن بندے کو کسی مصیبت میں مبتلا کروں اور وہ اس پر صبر کرے اور آنے جانے والوں سے اس کی شکایت نہ کرے تو میں اس کو اپنی قید سے آزاد کر دیتا ہوں۔ پھر میں اس کے گوشت کو دوسرے بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو دوسرے بہتر خون سے بدل دیتا ہوں۔ پھر وہ نئے نئے کام کرنے لگتا ہے ۔ ایک آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا وہ ہے جو کوئی شخص خود اپنے آپ کو بناتا ہے۔ پہلا آدمی روایتی آدمی ہے۔ وہ خاندان اور ماحول کے زیر اثر کام کرتا ہے۔ مگر دوسرا آدمی ایک ارتقا یافتہ آدمی ہے۔ وہ ایک ایسا آدمی ہے جس کے اندر عظیم انقلاب برپا ہو چکا ہے ۔

یہ نیا آدمی کس طرح بنتا ہے۔ یہ نیا آدمی حالات کے درمیان بنتا ہے ۔ موجودہ دنیا میں آدمی پر طرح طرح کے ناموافق حالات پیش آتے ہیں ۔ ان ناموافق حالات میں آدمی جو رد عمل پیش کرتا ہے اسی سے یہ متعین ہوتا ہے کہ کوئی آدمی کیسا آدمی بنے گا۔ ایک رد عمل یہ ہے کہ ناموافق حالات آدمی کے اندر شکایت کی نفسیات پیدا کریں۔ وہ ان کے خلاف لوگوں سے شکایت اور احتجاج کرنے لگے۔ ایسے آدمی کی شخصیت کبھی ارتقا نہیں کر سکتی۔ وہ جہاں ہے وہیں پڑی رہے گی ۔

دوسرا آدمی وہ ہے جو مصیبتوں پر صبر کرتا ہے ۔ ناموافق حالات اس کے سکون کو برہم نہیں دوسروں کے ظلم سے اس کے اندر نفرت کا جذبہ نہیں بھڑکتا۔ حالات کی شدت اس کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا نہیں کرتی۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوگا کہ ناموافق حالات میں پڑنے کے بعد اس کے اندرونی شخصیت ابھر آئے گی۔ اس کا صبر اس کو ایک ارتقا یافتہ انسان بنا دے گا۔

Printed page