Widow-burning a national disgrace
Al-Risala, December 1987, pp. 16–19
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر گجرال نے ستی پر اظہار خیال کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا ہے کہ بیوہ کو جلانے کا بے ہودہ عمل جس کو پر لطف طور پرستی کہا جاتا ہے ، راجستھان کے ایک دور دراز گاؤں میں پیش آیا ۔ واقعہ نے ظاہر کیا ہے کہ قرون وسطیٰ کی وحشیانہ رسم ہمارے ملک میں آج بھی زندہ ہے۔ گجرال نے ستی کے احیار کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کو ہمیں جرأت مندانہ طور پر ختم کر دینا چاہیے ، قبل اس کے کہ فنڈمنٹلزم کوئی تشددانہ رخ اختیار کرلے۔ یہاں تک مسٹر گجرال بالکل صحیح راستہ پر نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا قلم غلط پٹری پر چلا جاتا ہے جب کہ وہ غیر ضروری طور پر " ہندو فنڈمنٹلزم " کے ساتھ "مسلم فنڈمنٹلزم" کو بریکٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے فنڈمنٹلزم کی اصطلاح پسند نہیں میرے نزدیک یہ ایک متعصبانہ اصطلاح ہے نہ کہ حقیقۃً علمی اصطلاح۔ تاہم اس لفظی بحث کو نظر انداز کرتے ہوئے میں اصل مسئلہ کے بارے میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ مسٹر گجرال کے آرٹیکل کے جس پیراگراف پر اس وقت مجھے اظہار خیال کرنا ہے ، اس
کے الفاظ یہ ہیں :
مسلم بنیاد پرست اس میں کامیاب ہو گئے کہ وہ ہمارے لیڈروں کو دھمکا کر ایک قانون بنوالیں جس کے تحت انھیں یہ روایتی حق مل جائے کہ وہ اپنے فرقہ کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ بدسلوکی
مسٹر گجرال نے یہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں بھی ’’ سستی‘‘ جیسی غیر معقول تعلیمات موجود ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خود انتہائی غیر معقول بات ہے کہ اسلام کے بارے میں اس قسم کا بے ثبوت ریمارک دیا جائے ۔
مسٹر گجرال نے جس قانون کا حوالہ دیا ہے ، اس سے ان کی مراد مطلقہ مسلم خواتین سے متعلق قانون The Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Bill 1986 مگر اس قانون کی کسی بھی دفعہ میں وہ بات نہیں جس کو فاضل مضمون نگار نے واوین کے ساتھ درج کرنا پسند کیا ہے ۔ یعنی مسلم مطلقہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی ۔ مذکورہ قانون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ایک مسلم عورت کو طلاق ہو جائے تو عدت گزارنے کے بعد سے دوسرا نکاح ہونے تک اس کے ماہانہ خرچ کی ذمہ داری ، عام حالات میں اس کے سابق شوہر پر نہ ہوگی ۔ بلکہ مطلقہ عورت کی وراثتی جائداد سے یا اس کے رشتہ داروں کے ذریعہ اس کے گزارہ کا انتظام کیا جائے گا ۔ اور اگر بالفرض کسی واقعہ میں ایسا انتظام نہ ہو سکے تو متعلقہ ریاست کا وقف بورڈ اس کو ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا ۔ اور مجسٹریٹ بذریعہ قانون اس کا نفاذ عمل میں لائے گا ۔
اس انتظام کو بدسلوکی (Maltreatment) کس طرح کہا جا سکتا ہے ۔ یہ تو ایک زیادہ بہتر اور زیادہ معقول بندوبست ہے ، نہ کہ کسی قسم کی بدسلوکی ۔ کیونکہ سابق شوہر بے روزگار یا کم آمدنی والا ہو سکتا ہے ، یا وہ طلاق کے بعد وفات پا سکتا ہے ۔ جب کہ دوسری صورت میں یہ ضمانت ہے کہ عورت کے اخراجات کی بقدر ضرورت فراہمی آخر مدت تک جاری رہے گی ۔
روپ کنور کی ستی کے بعد اس موضوع پر مختلف لوگوں نے تحقیقات کی ہیں۔ بمبئی یونین آف جرنلسٹس (BUJ) نے اس سلسلے میں ایک اسٹڈی ٹیم مقرر کی۔ یہ ٹیم تین تعلیم یافتہ ہندو خواتین پر وہ اکتوبر ۱۹۸۷ میں دیورا اگئی اور تمام حالات کی تحقیق کرکے اپنی رپورٹ مرتب کی ۔ کے بعد یو این آئی نے اس رپورٹ کو نشر کیا۔ ہندوستان ٹائمز (۲۱ اکتوبر ، ۱۹۸۷) نے اس رپورٹ کواپنے صفحہ اول پر شائع کیا ہے۔ اس کے مطابق رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے : اسٹڈی ٹیم نے پایا کہ ستی کی روایت جو آزادی کے بعد سے ۳۸ جانیں لے چکی ہے ، اس کا اصل سبب راجپوت سماج میں عورتوں کی حیثیت ہے۔ مہلا کانگریس کی جنرل سکریٹری سودھا رائنا نے ٹیم کو بتایا کہ ایک راجپوت بیوہ کے لیے زندگی گویا ختم ہو جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیوہ سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ زمین پر سوئے ، وہ گوشت نہ کھائے ۔ کچھ رنگوں کا استعمال نہ کرے۔ کی تقریبات سے دور رہے۔ خاندان کے ہر مرد کے اقدامات کو برداشت کرے۔
یہ ایک ہلکا سا نقشہ اس صورت حال کا ہے جو ہندو سماج میں بیوہ عورت کے ساتھ پیش آتا ہے ۔ ہندو روایات کے مطابق، بیوہ عورت کی دوسری شادی نہیں ہو سکتی ۔ مزید یہ کہ وہ شادی کے بغیر رہ کر بھی ہندو سماج میں با عزت زندگی کی امید نہیں رکھتی۔ ایسی حالت میں ہندو سماج میں بیوہ ہونے کے بعد ستی ہونے کا رواج شاید اس لیے بھی پڑا کہ عورت نے اس کو نسبتا آسان سمجھا کہ وہ تا حیات ” جلنے کی مصیبت اٹھانے کے بجائے ایک ہی دن میں جل کر ختم ہو جائے ۔ مگر اسلامی روایات کے مطابق اس قسم کا کوئی بھی مسئلہ مسلم بیوہ یا مسلم مطلقہ کے لیے نہیں۔ ایسی حالت میں مسلم مطلقہ کے معاملے کا تقابل ہندو بیوہ کی ستی سے کس طرح کیا جاسکتا ہے ۔
مسلمان بیوہ یا مطلقہ کے لیے دوسرے نکاح کا راستہ پوری طرح کھلا ہوا ہے۔
قانون وراثت کے تحت خاندان کی جائیداد میں حصہ دار ہے۔ وہ بیوہ یا طلاق کے بعد بھی پوری طرح با عزت زندگی گزار سکتی ہے۔ اسلامی اصول بیوہ اور غیر بیوہ یا مطلقہ اور غیر مطلقہ کے درمیان درجہ کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں کرتا۔
ایسی حالت میں مسلم مطلقہ کے لیے سابقہ شوہر سے گزارہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کہ گزارہ لینے کا جو مقصد ہے وہ سابقہ شوہر سے گزارہ لیے بغیر اسے پوری طرح حاصل ہے۔ شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس (945 .A.I.R. 1985-S.C) میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اس کے لیے گزارہ کا دعویٰ برائے ضرورت نہ تھا، بلکہ برائے انتقام تھا۔ ورنہ شاہ بانو کی ضرورت اس کے میکہ میں اس کے بغیر ہی بخوبی طور پر پوری ہو رہی تھی۔ (مسلم عورت کے بارے میں اسلام کے قانون کی تفصیل کے لیے دیکھیے : خاتون اسلام)
مسٹر گجرال نے اپنے مضمون میں نہایت نامناسب طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں بھی ستی “ جیسی ناشائستہ تعلیمات موجود ہیں۔ اس کا ثبوت ان کے نزدیک ”مسلم فنڈ منٹلمم “ کا یہ عمل ہے کہ اس نے مسلم مطلقہ عورت کو اس کے سابقہ شوہر سے گزارہ نہ دلانے کا قانون بنوایا۔ مگر ان کا یہ حوالہ ان کی سنجیدگی کو مشتبہ کرتا ہے۔ نے مذکورہ قانون کو اس کی اصل صورت میں بیان نہیں کیا۔ اور اس کی وجہ بظاہر یہی ہے کہ قانون کو اس کی اصل صورت میں بیان کرنا ان کے مفید مطلب نہیں تھا۔ فنڈ منٹلزم اور مسلم فنڈ منٹلزم دونوں کو برابر کی چیز ثابت کرنا چاہتے تھے۔ مگر یہ واضح ہے کہ ” بیوہ کو آگ میں جلانا “ اور ” مطلقہ کو اس کے سابقہ شوہر سے گزارہ نہ دلانا “ دونوں برابر کے واقعات نہیں ہیں۔ اس لیے مضمون نگار کو گزارہ (Maintenance) کی جگہ بدسلوکی (Maltreatment) کا لفظ لکھنا پڑا ۔ تاکہ ہندو فنڈ منٹلزم اور مسلم فنڈ منٹلزم دونوں برابر کی چیز دکھائی دینے لگیں۔
اس طرح مضمون نگار نے خود ہی اسلام کی صداقت کا بالواسطہ اعتراف کر لیا۔ کی صداقت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کو اس وقت تک نشانہ تنقید بنانا ممکن نہ ہو جب تک اس کو بگاڑ کر خود ساختہ شکل میں پیش نہ کیا جائے ۔