اس کے باوجود
Al-Risala, February 1987, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۱ نومبر ۱۹۸۶ کی صبح کو میرے ساتھ ایک " حادثہ " پیش آیا ۔ میری عینک ایک بھول کی وجہ سے پتھر کے فرش پر گر پڑی۔ اس کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ تھوڑی دیر کے لیے مجھے جھٹکا لگا۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں تو ہمیشہ یہی ہوگا کہ یہاں پتھر کا فرش بھی رہے گا اور نازک شیشہ بھی اس لیے اس دنیا میں حفاظت اس کا نام نہیں ہے کہ چیزیں کبھی نہ ٹوٹیں۔ اس دنیا میں حفاظت یہ ہے کہ ٹوٹنے کے باوجود ہم چیزوں کو محفوظ رکھ سکیں۔ محرومی کے درمیانی واقعات پیش آنے کے باوجود ہم اپنے آپ کو آخری محرومی سے بچائیں ۔
گلاب کا پھول کتنا خوبصورت ہوتا ہے۔ اس کو پھولوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ جس ڈالی میں گلاب کا نازک پھول کھلتا ہے ، اسی ڈالی میں سخت کانٹے بھی لگے ہوئے یہ قدرت کا قانون ہے۔ ہمارے لیے ناممکن ہے کہ ہم پھول کو کانٹے سے جدا کر سکیں ۔ ہمیں کانٹے کے باوجود پھول کو لینا ہوگا۔ ہم اس دنیا میں کانٹے کے بغیر پھول کو نہیں پا سکتے ۔
یہ زندگی کا ایک سبق ہے جو فطرت کی خاموش زبان میں ہمیں دیا جارہا ہے۔ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں " باوجود " کا اصول کار فرما ہے۔ یہاں ناخوش گواریوں کے باوجود خوش گواری کو قبول کرنا پڑتا ہے ، یہاں " نہیں " کے باوجود اس کو " ہے " میں تبدیل کرنا ہوتا ہے ۔
یہی اس دنیا کا عام اصول ہے ۔ یہاں کامیابی اس کا نام ہے کہ آدمی ناکامیوں کے باوجود کامیابی تک پہنچنے کا راستہ نکالے۔ یہاں تجارت یہ ہے کہ گھاٹے کے باوجود نفع حاصل کیا جائے ۔ یہاں آگے بڑھنا یہ ہے کہ پیچھے ہٹنے کے واقعات پیش آنے کے باوجود آگے کا سفر جاری رکھا جائے ۔ اس دنیا میں کھونے کے باوجود پانے کا نام پانا ہے ۔ صرف ان لوگوں کے درمیان قائم ہوتا ہے جو اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا فن جانتے ہوں ۔