Al-Risala · December 1987

سرّشقائنا فینا

Al-Risala, December 1987, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن وحدیث میں نہایت واضح طور پر یہ بات بتائی گئی ہے کہ مسلمانوں پر جب بھی کوئی مصیبت آئے گی تو ان کی اپنی داخلی کمزوریوں کی بنا پر آئے گی۔ باہر کی کوئی طاقت انہیں کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں علماءِ اسلام نے یہ کیا کہ جب بھی مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئی تو انھوں نے خود مسلمانوں کو یہ نصیحت کی کہ تم اپنی اندرونی خرابیوں کی اصلاح کرو، کیوں کہ اپنی اندرونی خرابیوں کی اصلاح کر کے ہی تم بیرونی خطرات سے بچ سکتے ہو۔ ۱۷۳۹ میں ایرانی حکمراں نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا اور دہلی کے مسلمانوں کو لوٹا اور ان کا قتل عام کیا۔ یہ بے حد سخت لمحہ تھا۔ لوگوں نے وقت کے بزرگ حضرت مرزا مظہر جانجاناں سے اس کی شکایت کی۔ انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ نادر شاہ پر ذمہ داری ڈال کر اس کو لعنت ملامت کرنے لگیں۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ فرمایا کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہماری اپنی ہی بداعمالیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے، اس لیے سب سے زیادہ اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف یہ دراصل خود ہمارے برے اعمال ہیں جنھوں نے نادر کی صورت اختیار کر لی ہے: شامت اعمال ما صورت نادر گرفت ماہنامہ الفرقان (جولائی ۱۹۸۰ء) میں مولانا محمد منظور نعمانی کی ایک تقریر شائع ہوئی بارہ صفحات کی یہ تقریر خاص اسی موضوع پر ہے۔ اس میں مولانا موصوف فرماتے ہیں: "قرآن وحدیث کی روشنی میں یقین ہے کہ آج ہم مسلمانوں پر جو مصیبتیں جہاں بھی آرہی ہیں اور جو مظالم ہو رہے ہیں وہ سب ہماری بداعمالیوں اور نافرمانیوں کے نتائج ہیں۔ حقیقت کو قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے : وما ظلمناهم ولكن كانوا انفسهم يظلمون ۔ ایک حدیث قدسی کے الفاظ ہیں : انما هي اعمالكم احصيها لكم۔ بدقسمتی سے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جن مشکلات میں مسلمان مبتلا ہیں ان سے نجات پانے کے لیے ان کے ناخداشناس اور دین سے بے بہرہ قائد ورہنما ان قوموں کے طور طریقوں سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ایمان سے محروم ہیں۔ قرآن سے ہدایت اور رہنمائی حاصل کرنے الّرسالہ دسمبر ۱۹۸۰ء

کرنے کا ان کو خیال بھی نہیں آتا ، خدا کے لیے اس طریقہ کو بدلیے ورنہ حالات بد سے بد تر ہوتے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہم پر ظلم نہیں ہورہا ہے ۔ ظلم ہورہا ہے۔ میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ یہ ظلم اس ظلم کے نتیجہ میں ہورہا ہے جو ہم اپنے اوپر کر رہے ہیں۔ اگر ہم کسی اعتبار سے ظالم نہ ہوتے ، صرف مظلوم ہی ہوتے تو اللہ کی مدد آچکی ہوتی اور ہم پر ظلم کرنے والوں پر اللہ کی پکڑ آگئی ہوتی ۔ ایک اور ظلم ہم اپنے اوپر یہ کر رہے ہیں کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں کے لوگوں کو اپنا حریف اور دشمن سمجھ کر رہتے ہیں ، بجائے اس کے کہ ہم ان کو اللہ کا بندہ سمجھتے اور محبت و حکمت اور اخلاق کے ساتھ ان کو اللہ کی رحمت سے اور ہدایت سے اور جنت سے قریب کرنے کی کوشش کرتے “ (صفحہ ۱۹- ۲۱)

ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے ایک عربی پر چہ نکلتا ہے جس کا نام الرائد ہے ۔ اس پرچہ کے شمارہ ۱- ۱۶ ستمبر ۱۹۷۸ء میں ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے: سرشقائنا فينا (ہماری بدبختی کا راز ہمارے اندر ہے) اس مضمون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کی جڑ ان کی اپنی اخلاقی گراوٹ ہے ۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے : ان المسلمين فقدوا سيرتهم المثالية ..... فلو تصدى ای شخص للمعتود على الرذائل الخلقية كلها مجتمعة في امة لوجد افراد هذه الامة خير مثال لها على اختلاف الاجناس والالوان ( صفحه ۳)

اس عربی عبارت کا اردو ترجمہ خود ندوہ ہی کے دوسرے جریدہ تعمیر حیات (۲۵ اکتوبر ۱۹۸۷ صفحہ ۷) میں ان الفاظ میں چھپا ہے:

"اگر کوئی شخص تمام اخلاقی برائیوں کو یکجا طور پر دیکھنا چاہے تو اس کو سب سے واضح اور نمایاں مثال مسلمانوں ہی کی زندگی میں ملے گی ۔ رنگ ، نسل ، زبان اور علاقہ کے لحاظ سے ان میں خواہ کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو ، لیکن برائیوں کے قبول کرنے میں غیر معمولی اتفاق نظر آتا ہے! اسی بات کو مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے ان لفظوں میں بیان فرمایا : " مسلمانوں کی دنیوی مصائب و آفات اور عزت و دولت اور حکومت وغیرہ سے محرومی بھی ان کے برے اعمال کے نتائج اور تعلیمات قرآن و حدیث سے غفلت اور اعراض کے ثمرات ہیں “ (تعمیر حیات ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۸ء)

Printed page