Al-Risala · December 1987

جدید امکانات

Al-Risala, December 1987, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسی دریافتیں اکثر واقعاتی حادثہ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں۔ سائنس کی تاریخ بتاتی ہے کہ بعض اوقات اچانک ایک دھماکہ پیش آتا ہے۔ یہ دھماکہ بظاہر ایک ناخوش گوار حادثہ مگر اس ناخوش گوار حادثہ میں ایک خوش گوار پہلو نکل آتا ہے۔ کیوں کہ وہ قدرت کے ایک امکان کو بتاتا ہے ۔ اس دھماکہ کے ذریعہ سائنس داں فطرت میں چھپی ہوئی ایک طاقت کو دریافت کرتا ہے اور اس کو استعمال کر کے انسانی تمدن کو آگے لے جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انفجاری مادہ (Explosive) کی ابتدائی دریافت اسی طرح ایک حادثہ کے ذریعہ ہوئی ۔ اس اتفاقی حادثہ میں اگرچہ کچھ جانی نقصان ہوا ۔ مگر اسی حادثہ کے ذریعہ انسان نے اس عظیم طاقت کو دریافت کیا جس نے سائنس کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ قرآن پر پابندی لگانے کی ناکام کوشش ایسا ہی ایک واقعہ مئی ۱۹۸۵ میں ہندوستان میں ہوا۔ سائنسی اعتبار سے نہیں بلکہ مذہبی اعتبار سے ۔ یہ واقعہ کلکتہ ہائی کورٹ کا وہ مقدمہ تھا جس کے ذریعے قرآن کی اشاعت کو اس ملک میں قانونی طور پر بند کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ بظاہر یہ ایک ناپسندیدہ واقعہ تھا۔ مگر اس ناپسندیدہ واقعہ سے ایک عظیم الشان بھلائی نکل آئی۔ اس نے اتفاقی طور پر بتایا کہ موجودہ زمانہ میں کس طرح اسلامی دعوت کے نئے امکانات کھل گئے ہیں۔ یہ واقعہ گویا اس تاریخی حقیقت کا عملی اعلان تھا کہ دنیا اب مذہبی پابندی کے دور سے گزر کر مذہبی آزادی کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔

یہ ایک بے حد اہم واقعہ ہے ۔ اس کی غیر معمولی اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ جدید ہندوستان کے اس واقعہ کو قدیم عرب کے اسی قسم کے واقعہ سے ملا کر دیکھا جائے اور دونوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے ۔

Printed page