Al-Risala · December 1987

قدیم مکہ اور جدید ہندوستان

Al-Risala, December 1987, pp. 24–27

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ جانتے ہیں کہ قدیم مکہ میں مشرکین کا غلبہ ہوتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے سامنے قرآن پیش کیا تو وہ اس کے سخت مخالف ہو گئے ۔ انہوں نے چاہا کہ آپ قرآن کی تبلیغ چھوڑ دیں ۔ سیرت ابن ہشام میں اس زمانہ کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اسلام قبول کیا ۔ ان کو شوق ہوا کہ وہ قرآن کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں ۔ وہ کعبہ گئے اور وہاں مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر سورہ رحمن بلند آواز سے پڑھنے لگے ۔ یہ سن کر مکہ کے مشرکین جب ان کو معلوم ہوا کہ پڑھنے والا قرآن کی آیتیں پڑھ رہا ہے تو وہ سخت غصہ ہو گئے ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کے چہرے پر مارنا شروع کر دیا (فجعلوا يضربون في وجهه' جزو اول صفحہ ۳۳۷) حضرت عبداللہ بن مسعود اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کا چہرہ سوجا ہوا تھا اور اس پر مار کے نشانات دکھائی دے رہے تھے ۔

اس طرح کے واقعات قدیم مکہ میں روزانہ پیش آتے تھے ۔ قرآن کی تعلیمات ان کے مزاج کے سراسر خلاف تھیں ۔ اس لیے وہ اس کے سخت دشمن بن گئے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ مکہ چھوڑ دیں اور مکہ سے باہر چلے جائیں ۔

قدیم مکہ میں پیغمبر اسلام کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کو اگر آج کل کی زبان میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ " مکہ کے مشرک سرداروں نے قرآن کی اشاعت پر پابندی لگادی " قدیم مکہ میں اگر کوئی اخبار ہوتا تو وہ اس واقعہ کی سرخی انہیں الفاظ میں قائم کرتا ۔ پابندی لگانے کی یہ اسکیم پوری طرح عمل میں آئی ۔ وہ اس حد تک موثر ثابت ہوئی کہ پیغمبر اسلام کو قرآن سمیت مکہ چھوڑ دینا اس کے بعد آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ چلے گئے ۔ مکہ کو قرآن سے خالی کر دیا گیا۔ اب دوسری مثال لیجیے اس واقعہ کے چودہ سو سال بعد ۱۹۸۵ میں ہندوستان میں اسی نوعیت کا مگر اس سے بالکل مختلف واقعہ پیش آتا ہے ۔ حیدر آباد کے ایک شخص چاند مل جو پڑا

نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن کے خلاف ایک رٹ پٹیشن داخل کیا ۔ اس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ قرآن تشدد کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے اس کی اشاعت اور تقسیم کو قانونی طور پر ممنوع قرار دے دیا جائے ۔

کلکتہ ہائی کورٹ کی خاتون جج پدما خستگیر نے ۱۸ اپریل ۱۹۸۵ کو یہ پٹیشن سماعت کے لیے منظور کرلیا۔ مگر اس کے فوراً بعد اس کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں ۔ حتیٰ کہ مغربی بنگال کی ریاستی حکومت اور ملک کی مرکزی حکومت ، دونوں نے قرآن پر پابندی لگانے کی کوشش کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ مرکزی وزیر قانون مسٹر اشوک سین فوراً سفر کر کے دہلی سے کلکتہ اٹارنی جنرل مسٹر پارس رام اور مغربی بنگال کے ایڈوکیٹ جنرل مسٹر ایس کے اپاریہ نے اس کے خلاف عدالت میں زبردست وکالت کی۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جسٹس پدما خستگیر نے خاموشی سے اس کیس کو اپنے زیر سماعت مقدمات کی فہرست سے خارج کر دیا ۔ اس کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی ہدایت کے تحت مسٹر جسٹس بی سی باسک (B.C. Basak) نے اس مقدمہ کی سماعت کی۔ ۱۳ مئی کو پہلی ہی پیشی میں اپنا ابتدائی فیصلہ دے دیا۔ اس کے بعد ۱۷ مئی کو آخری فیصلہ دیتے ہوئے پٹیشن کو قطعی خارج کر دیا۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں لکھا: Courts cannot sit in judgment on holy books like the Koran عدالتوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ قرآن جیسی مقدس کتابوں کے بارے میں فیصلہ کرنے بیٹھیں ۔ (ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی ، ۱۸ مئی ۱۹۸۵)

فاضل جج نے اپنے ۸ صفحات کے فیصلے میں مزید لکھا :

Banning of the Koran would amount to abolition of the Muslim religion itself, as it could not exist without the Koran. Such action is unthinkable. Further, it would take away the seculararity of India and violate Article 25 of the constitution which guarantees all people freedom of conscience and right to profess, practise and to propagate religion. The Times of India (New Delhi) May 18, 1985 قرآن پر پابندی لگانا خود مسلمانوں کے مذہب کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ کیوں کہ قرآن کے بغیر

اس کا وجود ممکن نہیں ۔ اس طرح کی کارروائی ناقابلِ قیاس ہے۔ مزید یہ کہ یہ ہندوستان کے سیکولرزم کو ختم کر دے گا اور دستور کی دفعہ ۲۵ کے خلاف ہوگا۔ جو کہ تمام باشندوں کو ضمیر کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے اور عقیدہ اور عمل اور مذہبی تبلیغ کا آزادانہ حق تسلیم کرتی ہے۔ زمانہ کا فرق یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ قدیم مکہ اور جدید ہندوستان میں یہ فرق کیوں ہے۔ ہے کہ قدیم مکہ کے لوگوں نے قرآن پر پابندی لگانا چاہا اور وہ اس میں پوری طرح کامیاب ہو گئے۔ اس کے برعکس جدید ہندوستان میں کچھ افراد کی طرف سے قرآن پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی۔ مگر خود حکومت اور عدالت نے پابندی لگانے کے اس منصوبہ کی شدید مخالفت کی اور آخر کار اس کو مکمل طور پر رد کر دیا گیا۔

اس فرق کی وجہ زمانہ کا فرق ہے ۔ قدیم زمانہ مذہبی تشدد کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں دوسرے مذہب کو برداشت نہیں کیا گیا۔ اور موجودہ زمانہ میں ہر مذہب کے لیے آزادی کا حق تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ قدیم رواج کے مطابق یہ بالکل جائز تھا کہ ایک شخص اگر قومی مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرے تو اس پر روک لگائی جائے ۔ اس پر سختیاں کی جائیں ۔ حتیٰ کہ اس کو مار ڈالا جائے ۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو فکری اور علمی انقلاب ہوا ہے ، اس نے انفرادی آزادی کو آخری حد تک مقدس قرار دے دیا ہے ۔ اب ہر شخص کے لیے یہ حق بلا شرط تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ آزاد ہے کہ جو مذہب چاہے اختیار کرے ، جس مذہب پر چاہے عمل کرے اور جس مذہب کو چاہے پرامن طور پر اس کی تبلیغ کرے ۔ یہ موجودہ زمانہ میں ہر آدمی کا ایک مسلمہ حق ہے ۔ مذہبی تشدد کے دور میں قرآن پر پابندی لگادی گئی تھی ۔ مگر مذہبی آزادی کے دور میں اس پر پابندی لگانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی ۔ یہ واقعہ دونوں زمانوں کے فرق کی ایک واضح مثال ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج دنیا کے حالات اس سے بالکل مختلف ہیں جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے قدیم مکہ میں پائے جاتے تھے ۔

دورِ جدید کی اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے یہاں ہم ایک اور واقعہ کا حوالہ دیں گے ۔

واقعہ کا تعلق اسپین سے ہے ۔ یہ واقعہ بھی اسی سال پیش آیا ۔ یعنی ۱۹۸۵ کے آغاز میں ۔ یہ واقعہ عربی مجلہ " العربی " میں تفصیل کے ساتھ باتصویر انداز میں شائع کیا گیا ہے ۔

Printed page