عبد الرحمن الداخل يعود الى الاندلس
Al-Risala, December 1987, pp. 27–30
By Maulana Wahiduddin Khan
(عبد الرحمن الداخل اسپین میں واپس آتا ہے) یہ ڈاکٹر عفیف بھنسی کا مضمون ہے ۔ مخصوص تقریب میں شرکت کے لیے اسپین گئے تھے ۔ واپس آکر انہوں نے یہ مفصل مضمون شائع کیا ہے ۔
عبد الرحمن الداخل اُموی خاندان کا ایک شہزادہ تھا ۔ وہ ۱۱۳ ھ (۷۳۲ میں پیدا ہوا۔ اس کی عمر بیس سال کی تھی کہ عباسیوں نے دمشق کی اُموی خلافت پر غلبہ حاصل کر لیا ۔ یہ واقعہ ۵۷۰ء اس کے بعد وہ بنو امیہ کے افراد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کرنے لگے ۔ نوجوان عبدالرحمن نے بھاگ کر دریائے فرات کے کنارے ایک باغ میں پناہ لی ۔ عباسیوں کے سپاہی وہاں بھی پہنچ گئے۔ عبدالرحمن فرات میں کود گیا اور تیر کر دریا کے دوسری طرف نکل گیا ۔
اس کے بعد وہ بھیس بدل کر سفر کرتا رہا ۔ وہ دمشق سے فلسطین پہنچا۔ وہاں سے مصر گیا پھر تیونس پہنچا جو افریقہ کا ایک ساحلی ملک ہے ، وہاں سے وہ ایک کشتی پر سوار ہوا اور سمندری سفر کرتے ہوئے اسپین کے اس ساحلی مقام پر اترا جس کو المونیکر (Almunecar) کہا جاتا ہے ۔ اسپین تک پہنچنے میں اس کو پانچ سال لگ گئے ۔ وہ ۱۳۸ ھ (۷۵۶ ء) میں اسپین کی زمین میں داخل ہوا ۔
یہی عبدالرحمن الداخل اموی وہ شخص ہے جس نے اسپین میں عرب سلطنت قائم کی اور یورپ میں تہذیب کے عہد کا آغاز کیا۔ اسپین کا فاتح طارق ابن زیاد ہے مگر اسپین میں باقاعدہ مسلم سلطنت قائم کرنے والا عبدالرحمن الداخل ہی تھا ۔
اسپین میں مسلمانوں نے ۸ سوسال تک حکومت کی۔ پھر ان کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے ان کو مغلوب کر لیا ۔ اس کے بعد عیسائیوں نے ایک ایک مسلمان کو یا تو قتل کر دیا یا اسپین سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔ اسپین سے ہر مسلم نشان کو بالکل مٹا دیا گیا ۔ ۱۹۸۵ میں عبد الرحمن الداخل کی وفات کو بارہ سو سال پورے ہوئے ہیں ۔ سے اس سال المونیکر (اسپین) میں اس عرب حکمراں کی ۱۲۰۰ سو سالہ برسی منائی گئی ۔ یہ مقام سمندر کے کنارے غرناطہ سے قریب ہے ۔ غرناطہ اسپین کی آخری مسلم سلطنت کی راجدھانی تھا ۔ تاریخی تقریب میں اسپین کے ممتاز افراد اور عرب کے علماء اور سفراءشریک ہوئے ۔ اس کی صدارت اسپین کی ملکہ سوفیا نے کی۔ عبد الرحمن الداخل نے اسپین میں ۳۲ سال تک حکومت کی ۔ اور پھر اسی ملک میں اس کا انتقال ہوا۔
اس تقریب کے موقع پر جو مختلف کارروائیاں ہوئیں ان میں سے ایک کارروائی یہ تھی کہ عبد الرحمن الداخل کا ایک بہت بڑا اسٹیچو تیار کیا گیا اور اس کو المونیکر میں سمندر کے کنارے ایک پر فضا مقام پر لگایا گیا ۔ اس اسٹیچو کا فوٹو ماہنامہ العربی (جون ۱۹۸۵) میں شائع ہوا ہے۔ میں عبد الرحمن الداخل اپنے داہنے ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے کھڑا ہے اور پر اعتماد چہرے کے ساتھ اسپین کی سرزمین کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ اسٹیچو کے نیچے العربی نے یہ الفاظ لکھے ہیں : تمثال عبد الرحمن الداخل في المنكب من الخلف یعنی المونیکر میں عبد الرحمن الداخل کے اسٹیچو کی تصویر پیچھے کی طرف سے ۔ اسپین میں مسلمانوں کی حکومت آخری طور پر۱۴۹۲ء(۸۹۷ھ) (۸۹۷ھ) میں ختم ہوئی ۔ اس کے بعد وہاں کی عیسائی حکومت نے مسلمانوں پر سخت ترین مظالم شروع کیے ۔ مسلمان یا تو اسپین سے بھاگ گیے یا انہیں قتل کر دیا گیا ۔ ۸۰۰ سالہ حکومت کے بعد اسپین سے ایک ایک مسلمان کا خاتمہ کر دیا گیا ۔ اس کے بعد سے اسپین سب سے بڑا مسلم دشمن ملک بنا ہوا تھا۔
اب اسی ملک میں ۱۹۸۵ میں یہ واقعہ ہوتا ہے کہ وہاں قدیم مسلم فاتح کی یاد منائی جاتی ہے ۔ اور اس کی مستقل یادگاریں قائم کی جاتی ہیں ۔ ایسا ہونا ایک بے حد غیر معمولی بات ہے ۔ ایک ختم شدہ تاریخ پھر سے اپنے آپ کو دہرارہی ہے ۔ تاریخ کے مٹے ہوئے صفحات دوبارہ انہیں
لوگوں کے ہاتھوں سے لکھے جارہے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے ان کو مٹادیا تھا علمی اور تاریخی نقطہ نظر ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اس کی وجہ جدید انقلاب ہے۔ جدید ذہنی انقلاب نے قدیم طرز کے تعصب کا خاتمہ کر دیا ہے۔ جدید ذہن کے تحت وہ ماضی دوبارہ دلچسپی کا موضوع بن گیا ہے جو اس سے پہلے صرف نفرت اور فراموشی کا موضوع بنا ہوا تھا۔ متعصبانہ طرزِ فکر نے جس چیز کو رد کر دیا تھا تاریخی طرزِ فکر نے اس کو قبول کر لیا۔ العربی کے مضمون نگار نے لکھا ہے : ونظر الاهمية عبد الرحمن وعهد اسپین کے تمدن کی تاریخ میں عبدالرحمن اور عہد الخلافة فى تاريخ حضارة الاندلس خلافت کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے وہاں کے رأى المسئولون فى الاندلس اليوم انه موجودہ ذمہ داروں نے محسوس کیا کہ یہ ایک اہم من الاهمية توضيح اعمال ضرورت ہے کہ بنوامیہ کے اس بہادر اور عظیم وشخصية هذا الحاكم الاموى حکمران کی شخصیت اور اس کے کارناموں کو الشجاع والعظيم (صفحه ١٦٦) نمایاں کیا جائے۔
موجودہ زمانہ میں عقلیت کا غلبہ ہے۔ آج کا انسان ہر معاملہ میں عقلی نقطہ نظر (Rational approach) کو پسند کرتا ہے ۔ اس نقطہ نظر نے جدید انسان کے تمام معاملات پر گہرا اثر ڈالا ہے ۔ اسی میں سے وہ تبدیلی بھی ہے جس کی ایک مثال ہندوستان اور اسپین کے ان واقعات میں نظر آتی ہے جن کو ابھی ہم نے بیان کیا ۔
جدید انسان پر جب عقلی نقطہ نظر کا غلبہ ہوا تو اس کو یہ بات بالکل بے معنی معلوم ہوئی کہ اسپین کی مسلم حکومت کے آٹھ سو سال جو ایک تاریخی حقیقت ہیں ان کو نظر انداز کیا جائے ۔ یہ کہ یہ آٹھ سو سالہ دور محض حکمرانی کا دور نہ تھا بلکہ وہ ایک شاندار تہذیب کا دور تھا۔ اس دور میں پیدا ہونے والی تہذیب ہی بالآخر یورپ کی جدید تہذیب کی بنیاد بنی ۔ کی جدید نسل پر جب عقل طرزِ فکر کا غلبہ ہوا تو انہوں نے محسوس کیا کہ مسلم تاریخ کو نظر انداز کر کے وہ خود اپنی تاریخ کے ایک اہم باب کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ غیر عقلی نقطہ نظر نے جس واقعہ کو نفرت کے خانہ میں ڈال رکھا تھا۔ عقلی نقطہ نظر نے اس واقعہ کو دلچسپی کے خانہ میں ڈال دیا۔
پہلے جو چیز صرف غیر کی نظر آتی تھی وہ اب خود اپنی چیز نظر آنے لگی ۔ یہی معاملہ ہندوستان کا بھی ہے ۔ ہندوستان میں بعض انتہا پسند لوگ ایسے موجود ہیں جو اپنے متعصبانہ ذہن کی وجہ سے قرآن پر پابندی لگا دینا چاہتے ہیں ۔ مگر یہاں کا جو تعلیم یافتہ طبقہ ہے ، جو ملک کو ترقی کی طرف لے جانا چاہتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ قرآن پر پابندی لگانا ساری دنیا میں اپنے کو فکری اچھوت بنا لینے کے ہم معنی ہوگا ۔ کیوں کہ آج کا تعقل پسند انسان آزادی خیال کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے ۔ عقیدہ اور مذہب کی آزادی آج کی دنیا کا ایک تسلیم شدہ اصول ہے ۔ عالمی فکر کا یہی دباؤ ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی عدالت اور حکومت نے قرآن پر پابندی لگانے کی تحریک کو خود ہی کچل دیا ۔