Al-Risala · December 1987

حصہ دوم

Al-Risala, December 1987, pp. 32–35

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے ، یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے ( فان مع العسر يسراً ان مع العسر يسراً ، الانشراح )

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی مشکل صرف مشکل نہیں ہوتی۔ ہر مشکل میں ایک آسانی موجود ہوتی ہے۔ ہر ڈس ایڈوانٹیج میں ایک ایڈوانٹیج کا پہلو چھپا ہوا ہوتا ہے ۔ جس طرح کانٹے کے ساتھ پھول ہوتا ہے ، اسی طرح ہر ناکامی اپنے ساتھ کامیابی کا ایک نیا امکان لیے ہوئے ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی زیادہ سخت ہو جائیں اس دنیا میں آدمی کے لیے مایوسی کا کوئی سوال وہ از سر نو عمل کر کے دوبارہ اپنے حالات کو بہتر بنا سکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا عقل کا امتحان ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کے لیے سب سے زیادہ اہم شرط بالغ نظری ہے۔ یہاں وہ شخص یا گروہ کامیاب ہوتا ہے جو ظاہری مشکل کے اندر چھپی ہوئی آسانی کو دیکھ لے ۔ جو ناموافق حالات (Disadvantage) میں موافق پہلو (Advantage) کو دریافت کرلے ۔

اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ مومن کی ہوشیاری سے بچو ، کیوں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے ( اتقوا فراسة المومن فانه ينظر بنور الله ) خدا کی نگاہ دور رس نگاہ ہے۔ وہ واقعہ کے تمام پہلوؤں کو دیکھ لیتی ہے اور جو واقعہ کے تمام پہلوؤں کو دیکھ لے اس کی طاقت کا کوئی ٹھکانا نہیں ۔

اصل یہ ہے کہ ایک انسانی نگاہ ہوتی ہے اور ایک ربانی نگاہ۔ انسانی نگاہ محدود ہوتی ہے اور ربانی نگاہ لا محدود ۔ عام انسان خدا کے فیض سے محروم ہوتا ہے اس لیے وہ کسی چیز کو صرف انسانی نگاہ سے دیکھ پاتا ہے ۔ ایسا آدمی کسی واقعہ کے صرف سطحی پہلو کو دیکھتا ہے۔ اگر وہ بظاہر اپنے کو مشکل حالات میں پائے تو شکایت کا دفتر لے کر بیٹھ جائے گا۔ وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ مگر مومن خدا کے فیض کو پائے ہوئے ہوتا

ہے اس لیے اس کو ربانی نگاہ حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ حقیقتوں کو بہت دور تک دیکھتا ہے ۔ کسی چیز کے سطحی پہلو میں نہیں اٹکتا بلکہ وہ اس کو اس کی گہرائی تک جان لیتا ہے۔ قرآن کی آیت (ان مع العسر یسرا) کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مومن عُسر میں یسر کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ مشکل میں آسانی کا راز پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکایت اور احتجاج مومن کا طریقہ نہیں ۔ مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تاریکی میں روشنی کا راز دریافت کرے اور اعتماد کے ساتھ اپنی منزل کی طرف چل پڑے ۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے نگاہ ربانی کو کھو دیا ہے وہ چیزوں کو صرف نگاہ انسانی سے دیکھنا جانتے ہیں، وہ چیزوں کو نگاہ ربانی سے دیکھنا یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے معاملات میں صرف عمر کے پہلو کو دیکھتے ہیں، وہ اپنے معاملات میں یسر کے پہلو کو نہیں دیکھ پاتے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا شکایت اور احتجاج میں مبتلا ہونا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اُس چیز سے محروم ہیں جس کو حدیث میں فراست مومن کہا گیا ہے ۔

قرآن کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں جو مقدمہ دائر کیا گیا تھا اُس کے بارے میں ہمارے تمام لکھنے والوں نے لکھا اور ہمارے تمام بولنے والوں نے اس پر کلام کیا۔ مگر ہر ایک کو صرف اس کا تاریک پہلو نظر آیا۔ ہر ایک اس کو ظلم اور تعصب کا واقعہ قرار دے کر اس کے خلاف چیخ پکار کرتا رہا۔ مجھے کوئی قابل ذکر مسلمان نہیں معلوم جس نے اس واقعہ میں اس کے روشن پہلو کو دیکھا ہو۔ جس نے یہ دریافت کیا ہو کہ ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کو خارج کر کے اس حقیقت کا قانونی اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اس واقعہ میں صرف مذہبی تعصب نظر آیا۔ وہ اس میں مذہبی آزادی کے پہلو کو نہ دیکھ سکے۔ یہی معاملہ اسپین کا ہے ۔ اسپین میں مسلمان دوبارہ آباد ہورہے ہیں۔ عبد الرحمن الداخل کو دوبارہ مقام دیا گیا ہے۔ میں نے اس واقعہ کا ذکر بعض تعلیم یافتہ مسلمانوں آپ تعجب کریں گے کہ ان کا جواب یہ تھا کہ یہ عیسائیوں کی کوئی نئی سازش معلوم ہوتی کیسی عجیب بات ہے کہ ایک واقعہ میں کھلا ہوا روشن پہلو ہے مگر وہ لوگوں کو نظر نہیں آتا۔

البتہ اس میں موہوم سازش کا امکان انھیں بخوبی دکھائی دے رہا ہے ۔

یہ صورت حال بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک قسم کے ذہنی فاقہ (Intellectual starvation) سے دوچار ہیں ۔ وہ نہایت شدید قسم کے فکری افلاس میں مبتلا ہیں ۔ انھوں نے یہ صلاحیت کھودی ہے کہ وہ واقعات کا گہرا تجزیہ کر سکیں ۔ وہ چیزوں کو اس کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں سے جانچ کر ان کے بارے میں صحیح فیصلہ کر سکیں ۔ حالات کے ظاہری طوفان کے ساتھ اس کے تہہ میں پائی جانے والی پرسکون لہروں کو بھی دیکھ لیں اور گہری معرفت کے ساتھ اپنے سفر کی سمت متعین کریں ۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے جو کچھ لکھ رہے ہیں اور بول رہے ہیں وہ مشترک طور پر صرف ایک ہے ۔ دوسروں کے خلاف چیخ پکار ۔ مسلمانوں کے کسی بھی بیان کو دیکھیے ، کسی بھی ملک میں جا کر ان سے ملاقات کیجیے ۔ ان کی کسی بھی کانفرنس میں شرکت کیجیے ۔ ایک ہی ذہن کام کرتا ہوا نظر آئے گا ۔ آج دنیا بھر کے مسلمانوں کے ذہن پر یہ چھپا ہوا ہے کہ کچھ اسلام دشمن قومیں ہیں جو ان کو ستارہی ہیں ۔ غیر قوموں کا ظلم ، ان کا تعصب اور ان کی سازش یہی وہ چیزیں ہیں جن کو آج کے مسلمان جانتے ہیں ۔ ان کے سوا کسی اور چیز کی انھیں خبر

۵۰ سال پہلے امیر شکیب ارسلان نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم (مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے اور دوسرے لوگ کیوں آگے ہوگئے) مگر اس لمبی مدت میں مسلمانوں کے قائدین اس سوال کا کوئی جواب اس کے سوا دریافت نہ کرسکے کہ وہ دوسروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کرتے رہیں ۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں صرف عصر کو دیکھنے کے ماہر بنے ہوئے ہیں وہ یُسر کو دیکھنے کے ماہر نہ بن سکے ۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی بربادی کا اصل سبب ظالموں کا ظلم نہیں بلکہ خود مسلمانوں کا اپنا ذہنی افلاس ہے ۔ مسلمان اپنے غلط ذہن کی وجہ سے اس قیمتی فکری غذا سے محروم ہو رہے ہیں جو ان کے چاروں طرف خدا نے ان کے لیے مہیا کر رکھی ہے ۔ وہ اعلیٰ ترین مواقع کے

کنارے کھڑے ہو کر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے لیے آگے بڑھنے کا کوئی موقع نہیں۔ کو دیکھ رہے ہیں مگر وہ امکانات کو نہیں دیکھتے۔ ان کی نگاہ "کیا ہے" پر اٹکی ہوئی ہے۔ "کیا ہو سکتا ہے" تک ان کی نگاہ ابھی نہیں پہنچی۔

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصہ میں بتایا گیا ہے کہ ایک بڑے میدان میں فرعون نے مصر کے جادوگروں کو جمع کیا۔ ان جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں میدان میں ڈالیں ۔ جادو کے زور سے یہ رسیاں اور لکڑیاں سانپ کی طرح میدان میں دوڑنے لگیں ۔ دیکھ کر حضرت موسیٰ کے دل میں ڈر پیدا ہوا۔ بشری تقاضے کے تحت انہیں یہ محسوس ہوا کہ سانپوں کی اس فوج کا مقابلہ وہ کس طرح کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرو مت، تمہیں تمہارے ہاتھ میں جو عصا ہے اس کو ڈال دو۔ یہ عصا ان کے تمام سانپوں کو نگل جائے گا ۔ کامیابی تمہارے لیے ہے نہ کہ ان کے لیے۔ اس ہدایت کے تحت حضرت موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا ۔ اچانک یہ عصا تمام سانپوں سے بڑا سانپ بن گیا۔ جب وہ میدان میں چلا تو جادوگروں کے تمام سانپ اس طرح ختم ہو گئے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ (طٰہٰ - 69 تا 44)

مسلمانوں کا حال موجودہ زمانہ میں بلا تشبیہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص عصائے موسیٰ اپنے بغل میں لیے ہوئے ہو اور پھر بھی سانپوں سے ڈرتا ہو۔ کسی کو اللہ نے معجزاتی طاقت دے رکھی ہو مگر وہ جادوگروں کے جادو اور نظر بندوں کی نظر بندی کو دیکھ کر کانپ رہا ہو ۔ جیسے خدا کا قانون پوری طرح کسی کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہو مگر وہ انسانوں کے جھوٹے فریب کو دیکھ کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے۔

Printed page