Al-Risala · December 1987

وسیع تبدیلیاں

Al-Risala, December 1987, pp. 35–41

By Maulana Wahiduddin Khan

صلیبی جنگوں (Crusades) کے بعد یورپ کے عیسائی علماء اسلام کی تعلیمات اور اس کی تاریخ کو بگاڑ کر پیش کرتے تھے۔ مگر سائنس کے زور سے انیسویں صدی میں ایک نیا دور شروع ہوا ۔ سائنس میں جن چیزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے ان میں قطعیت (Exactness) کی بے حد اہمیت ہوتی ہے ۔ اس طرح سائنس کے اثر سے جدید قوموں میں قطعی طرزِ فکر

(Exact thinking) کو ترقی ہوئی اور حقیقت پسندی کا انداز پیدا ہوا۔

اس حقیقت پسندانہ طرزِ فکر کا اثر تمام شعبوں پر پڑا۔ اور اسی طرح اسلام کے مطالعہ پر چنانچہ اب یہ ذہن پیدا ہوا کہ اسلام کی تعلیمات اور اس کی تاریخ کو ویساہی لیا جائے جیسا کہ وہ ہیں۔ اس کے بعد استشراق (Orientalism) کا ایک نیا دور شروع ہوا جس میں اسلام کو زیادہ حقیقی انداز میں پیش کیا جانے لگا۔

روس اور چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد ابتدائی دور میں مذہب کے خلاف سخت ردِ عمل پیدا ہوا تھا مگر اب وہاں بھی عالمی دباؤ کے تحت اعتدال پیدا ہو رہا ہے اور مذہب کو دوبارہ آزادی دی جا رہی ہے ۔ قدیم زمانہ میں ایک مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے خلاف صرف مناظرہ بازی کرنا جانتے تھے ۔ آج عالمی سطح پر بے شمار مشترک اجتماعات ہو رہے ہیں جن میں ہر مذہب کے لوگ اپنی تعلیمات کو پیش کرتے ہیں اور دوسرے مذہب کے لوگ اس کو سنجیدگی کے ساتھ سنتے ہیں۔ خود مجھے ایسے کئی اجتماعات میں شرکت کا اتفاق ہوا ہے ۔ دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں عربی زبان اور اسلامیات کے شعبے بہت بڑے پیمانے پر کھولے گیے ہیں جن میں خالص علمی اور تاریخی انداز میں اسلام کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ مغربی دنیا کے غیر مسلم علماءبڑی تعداد میں عربی زبان پڑھ رہے ہیں ۔ وہ مغربی زبانوں میں قرآن وحدیث کے ترجمے کر رہے ہیں ۔ وہ قدیم عربی کتابوں کو ایڈٹ کر کے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کرتے وہ اسلام کے بارے میں تاریخی اور تحقیقی کتابیں لکھ رہے ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں جس طرح سواری ، خبر رسانی اور صنعت و زراعت میں زبردست تبدیلی ہوئی ہے ۔ اسی طرح افکار و خیالات کے اعتبار سے بھی آج کی دنیا میں زبردست تبدیلی ہوئی ہے۔

یہ تبدیلی بین اسلامی دعوت کے حق میں ہے ۔ اس تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ جو کام پہلے سخت رکاوٹوں کے درمیان انجام دینا پڑتا تھا اس کو سہولتوں اور آسانیوں کے درمیان انجام دیا جائے ۔ جو کام پہلے بے اعترانی کے ماحول میں کیا جاتا تھا وہ اب اعتراف کے ماحول میں کیا جائے ۔ جو کام پہلے ہٹ دھرمی کی فضا میں کرنا پڑتا تھا

اس کو اب معقولیت کی فضا میں کیا جاسکے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے زبردست امکانات کھل گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے موجودہ زمانہ میں ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسلامی دعوت کا کام شروع کیا جاسکے۔ اور ہر قسم کے جدید وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اس کو آخری حد تک پہنچایا جائے ۔ آج ساری دنیا کے مسلمانوں کو غیر اقوام سے ظلم اور تعصب کی شکایت ہے ۔ شکایتی ذہن کا یہ نتیجہ ہے کہ انھیں جدید دنیا کے وہ دوسرے پہلو نظر نہیں آتے جو عین انھیں حالات میں اسی دنیا کے اندر موجود ہیں اور جو ہمارے لیے زبردست امید کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

انھیں مظاہر میں سے ایک بہت نمایاں مظہر یہ ہے کہ آج بھی ہر روز ہزاروں کی تعداد میں دوسری قوموں کے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ افریقہ کے صرف ایک ملک روانڈا میں پانچ سال کے اندر ۲۵ ہزار آدمیوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔ فرانس میں کیتھولک عیسائیوں کے بعد اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب بن چکا ہے ۔ برطانیہ ، امریکہ، جاپان میں ہر جگہ روزانہ کثرت سے لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی خبریں آ رہی ہیں ۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں میں عالی شان اسلامی مرکز بن رہے ہیں ۔ روم جو کسی وقت اسلام دشمنی کا سب سے بڑا مرکز تھا، وہاں عین شہر کے اندر بہت بڑی مسجد اور اسلامک سنٹر تعمیر کیے اسپین کے نومسلموں نے غرناطہ سے ایک اخبار جاری کیا ہے جس کا نام ہے: Pais Islamico اسپین کے نومسلم ڈاکٹر عمر فاروق عبد اللہ نے ۱۹۸۴ میں حج کا فریضہ ادا کیا ۔ موقع پر انہوں نے ایک انٹرویو (یقین انٹرنیشنل کراچی، ۲۲ مئی ۱۹۸۵) میں بتایا کہ جنرل فرانکو (۱۹۷۵ - ۱۸۹۲) کے بعد اسپین کے حالات بہت بدل گئے ہیں ۔ اب غرناطہ میں بہت بڑا اسلامک سنٹر بنایا گیا ہے۔ وہاں ہر شہر میں مسلمان نظر آنے لگے ہیں ۔ میں پانچ سو اسپینیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسپین کے موجودہ ذمہ دار کھلے ذہن کے لوگ ہیں اور روادار نقطہ نظر رکھتے ہیں ؛

غرض ساری دنیا میں آج اسلام کی مسلسل اشاعت ہو رہی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آج بھی نظریاتی اعتبار سے اقدام کی پوزیشن میں ہے ۔ آج جب کہ مسلمان ہر جگہ مغلوب ہو رہے ہیں ، عین اسی وقت اسلام ہر جگہ دلوں پر فتح حاصل کر رہا ہے ۔ مسلمان اگر اسلام کی جدید تاریخ کے اس دوسرے پہلو کو دیکھ سکیں تو وہ پائیں گے کہ جن حالات کے خلاف وہ فریاد و ماتم میں مشغول ہیں وہ حالات انہیں کرنے کا عظیم الشان پرو گرام دے رہے ہیں ۔ ایک بیرونی سفر کے دوران مجھے ایک جاپانی نومسلم سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ کہا کہ جاپان میں اسلام کی اشاعت کے زبردست امکانات ہیں مگر اس امکان سے ابھی تک پورا فائدہ نہیں اٹھایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جاپانیوں کے سامنے تو بس سادہ طور پر ان کی اپنی زبان میں اسلام پیش کر دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ان کی اکثریت اسلام قبول کرلے گی ۔ انھوں نے کہا کہ جا پانی لوگ تو بالقوہ مسلمان ہی ہیں : ایک انٹرنیشنل سیمنار میں میری ملاقات ایک مسلمان پروفیسر سے ہوئی جو کناڈا کی ایک یونیورسٹی میں استاد ہیں ۔ انھوں نے مغربی دنیا کے جدید امکانات کو بتاتے ہوئے کہا کہ کناڈامیں اسلامی دعوت کے زبردست مواقع ہیں ۔ حتیٰ کہ وہاں اسلامی دعوت کا کام خود حکومت کے مالی تعاون سے اعلیٰ پیمانہ پر کیا جاسکتا ہے ۔ کناڈاکی حکومت ہر پر امن اسکیم میں اپنے شہریوں کی مدد کرتی ہے ۔ مزید یہ کہ وہ اس تعاون کی قیمت اس شکل میں وصول نہیں کرتی کہ وہ ہماری کار کردگی میں غیر ضروری مداخلت کرے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس امکان سے دوسرے مذاہب کے لوگ بہت بڑے پیمانہ پر فائدہ اٹھارہے ہیں مگر مسلمان ابھی تک اس سے محروم ہیں کیوں کہ مسلمانوں نے سیاسی چیخ پکار کو کام سمجھ رکھا ہے ۔ صلح حدیبیہ کا پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے مظالم سے تنگ آکر مکہ چھوڑ دیا اور مدینہ

کی طرف ہجرت فرمائی۔ تاہم مکہ والوں کا غصہ ختم نہیں ہوا۔ انھوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے اسلام کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔ اب مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان جنگ پر جنگ ہونے لگی۔ ہر طرف جنگی فضا پیدا ہو گئی۔ اس جنگی فضا کی وجہ سے اسلام کا دعوتی کام تقریباً ٹھپ ہو گیا۔

ہجرت کے چھٹے سال ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عربوں کے پاس اسلام کے لیے نفرت اور تعصب کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلسل جنگی حالات کے نتیجے میں اسلامی تاریخ معطل ہو کر رہ گئی۔ بظاہر اسلام کے لیے ملک میں کوئی روشن امکان نظر نہیں آتا تھا۔

مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے خصوصی فیضان سے یہ جان لیا کہ اس ظاہر کے اندر ایک اور باطن چھپا ہوا ہے۔ اوپر کی سطح پر اگر چہ نفرت اور تشدد نظر آرہا ہے مگر نیچے کی سطح پر اسلام کے لیے انتہائی روشن امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ آپ کی ربانی بصیرت نے آپ کو یہ بتایا کہ اگر کسی طرح جنگی حالات ختم کر دیے جائیں تو اندر کی تہہ میں چھپے ہوئے امکانات ابھر آئیں گے اور اسی جغرافیہ میں اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی جہاں وہ بظاہر ختم ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

حالات کے اسی مطالعہ سے وہ چیز برآمد ہوئی جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ حقیقتاً مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی حالات کو ختم کرنے کے لیے یہ کیاکہ مشرکین کے ہر مطالبہ کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ فریق ثانی جب ضد پر تلا ہوا ہو تو فریق اول کے لیے نارمل حالت پیدا کرنے کی ایک ہی صورت ہوتی ہے۔ یہ کہ وہ فریق ثانی کی ضد کو یک طرفہ طور پر

موجودہ زمانہ میں اسلام کی تاریخ دوبارہ اسی مقام پر پہنچ گئی ہے۔ جہاں وہ صلح حدیبیہ کے وقت ہجرت کےچھٹے سال پہنچی تھی ۔ موجودہ زمانہ میں تقریباً پوری مسلم دنیا دوسری قوموں کے نفرت اور تشدد کا شکار ہو رہی ہے۔ مسلمان بھی اس کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری مسلم دنیا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان

بے فائدہ لڑائیاں جاری ہیں ۔ یہ لڑائی کہیں لفظی احتجاج کی صورت میں ہے اور کہیں ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں ۔ بظاہر آج کی دنیا میں اسلام بے جگہ ہے ۔ آج کی دنیا کے پاس اسلام کے لیے نفرت اور بیزاری کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔

لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو حقیقی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے ۔ بھی عین وہی صورت حال ہے جو دور اول میں صلح حدیبیہ کے وقت تھی ۔ اس کی ایک واضح علامت کثرت سے لوگوں کا اسلام قبول کرنا ہے ۔ موجودہ زمانہ کے مخالف اسلام حالات کے اندر موافق اسلام حالات چھپے ہوئے ہیں ۔ اصل مسئلہ صرف ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کا ہے ۔ اگر ہم اس حکمت عملی کا ثبوت دے سکیں جو رسول اور اصحاب رسول نے صلح حدیبیہ کے وقت استعمال فرمائی تھی تو یقینی ہے کہ دوبارہ بہت بڑے پیمانہ پر وہی نتائج اسلام کے حق میں نکلیں گے جو دور اول میں صلح حدیبیہ کے بعد نکلے تھے ۔

اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کے لیے ایک قربانی کی ضرورت ہے ۔ صورت حال (Situation) کو استعمال (Avail) کرنے کے لیے ہمیشہ قربانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آج مسلمانوں کو یہی قربانی دینی ہے ۔ یہ قربانی وہی ہے جو صلح حدیبیہ کے وقت رسول اور اصحاب رسول نے دی تھی ۔ یعنی تمام جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے معتدل فضا پیدا کرنا ۔

مسلمان آج تمام دنیا میں ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہیں ۔ چنانچہ وہ اپنی مدعو قوموں سے قومی اور مادی جنگ چھیڑے ہوئے ہیں ۔ یہی جنگ دعوت کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے ۔ اس کی وجہ سے داعی اور مدعو کا رشتہ حریف اور رقیب کے رشتہ میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ دوسری اقوام سے اپنے تمام قومی اور سیاسی جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تاکہ داعی اور مدعو کا رشتہ بحال ہو ۔ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان وہ معتدل فضا پیدا ہو جس میں آدمی دوسرے کی بات سنتا ہے اور اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کرتا ہے ۔

موجودہ زمانہ میں ایک طرف وہ امکانات ہیں جو جدید تبدیلیوں کے نتیجہ میں اسلام

کے حق میں پیدا ہوئے ہیں اور دوسری طرف کشمکش اور ٹکراؤ کی وہ فضا ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ساری دنیا میں جاری ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل کرنا ہے جو سنت چھٹی ہجری میں صلح حدیبیہ کی شکل میں ظاہر ہوئی تھی۔ یعنی غیر مسلم اقوام سے کشمکش اور ٹکراؤ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دینا۔ اقوام کی طرف سے ڈالی جانے والی تکلیفوں کو یک طرفہ طور پر پی جانا۔ اگر مسلمان اس قربانی کا حوصلہ کر سکیں تو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کی موجودہ فضا اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ اس کے بعد جو چیز بچے گی وہ وہی دوسری چیز ہے جس کو ہم نے اسلامی دعوت کے جدید امکانات کہا ہے۔ نفرت کی فضا ختم ہوتے ہی نیچے کی تہہ میں چھپے ہوئے امکانات سامنے آجائیں گے۔

جس دن ایسا ہوگا اسی دن اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی ، ایک ایسی تاریخ جس کے لیے خدا نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ اختتام تک پہنچنے سے پہلے کہیں

Printed page