Al-Risala · December 1987

نیا دور

Al-Risala, December 1987, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

صلح حدیبیہ دس سال کا نا جنگ معاہدہ تھا۔ صلح حدیبیہ کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار الگ رکھ دی اور اسلام کی فکری طاقت کو استعمال کیا۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا کہ مقابلہ کو جنگ کے میدان سے نکال کر فکر کے میدان میں لایا گیا۔ اس وقت تک انسان صرف یہ جانتا تھا کہ دو مختلف گروہوں کے درمیان فیصلہ جنگ کے میدان میں ہوتا ہے۔ مگر خدا کے رسول نے اپنے عمل سے دکھایا کہ یہ فیصلہ فکر و نظریہ کے میدان میں بھی ہوتا ہے۔ اور فکر و نظریہ کے میدان میں ہونے والا فیصلہ جنگ کے میدان میں ہونے والے فیصلے سے زیادہ کامیاب ہے۔

صلح حدیبیہ محض ایک وقتی تدبیر نہ تھی جو قدیم زمانہ کے قبیلہ قریش سے نمٹنے کے لیے اختیار کی گئی۔ اس کی حیثیت اس سے زیادہ ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک سیاہ دروازہ کھولنا تھا۔ اس کے ذریعہ سے آپ نے ایک طرف اسلام کی ناقابل تسخیر فکری قوت کا مظاہرہ فرمایا۔ اور دوسری طرف تاریخ میں پہلی بار ایک نئے دور کا آغاز کیا جس کی تکمیل موجودہ زمانہ میں پہنچکر ہوئی ہے۔

تمام قدیم زمانوں میں یہ ایک جائز بات سمجھی جاتی تھی کہ ایک حکمراں اپنی مسلح فوجوں کو لے کر دوسرے ملک میں داخل ہو جائے اور قتل و خوں ریزی کے ذریعہ اس پر قبضہ کرلے۔ یہ تمام تر ایک جدیدظاہر ہ ہے کہ اس قسم کی جارحیت کو بین اقوامی جرم سمجھا جاتا ہے ۔ اور بین اقوامی مسائل کو گفت وشنید کے ذریعہ ہے اس کام کی بادیفیت ہے وہ مبح جا رہا ہے ۔ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

میں اختلاف مہم ہو گیا ہوتا ہے کہ پاکستان کا نظام سیاست پتا پر آراء کا اظہار پشیمانی بین اقوامی زندگی میں ہتھیار کے بجائے نظریے کا استعمال تمام تر پیغمبر اسلام کی دین ہے۔ زمانہ کا یہ عالمی مزاج در حقیقت اس انقلابی لہر کی تکمیل ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں چودہ سو سال پہلے شروع کی گئی تھی۔ پیغمبر اسلام نے سب سے پہلے قوموں کے درمیان یہ سوچ پیدا کی۔ پھر آپ نے اس اصول پر عمل کر کے اس کو ایک زندہ واقعہ کی حیثیت دے دی۔ اس کے بعد یہ طرز فکر تاریخی لہر میں شامل ہو گیا ۔ وہ برابر بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ موجودہ فکری انقلاب کی صورت میں اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ تاریخ کا یہ انقلاب عین ہمارے حق میں ہے ۔ " حدیبیہ " کے وقت جو موقع وقتی صلح کے ذریعہ حاصل کیا گیا تھا ، اب اس نے ایک پورے دور کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس انقلاب نے ہمارے لیے ہمیشہ سے زیادہ وسیع پیمانہ پر یہ امکان کھول دیا ہے کہ ہم ایک موافق فضا میں اسلام کی اشاعت کا کام کریں اور اسلام کی فکری طاقت کو استعمال کر کے دوبارہ اس کو دنیا کا غالب دین انک طاق مقام آذرین اور اسلام کی روح و تمدن کا نشان رکھ

Printed page