مقبول دین
Al-Risala, February 1987, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور قیامت میں وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا (ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه وھو في الآخرة من الخاسرين )
عام طور پر اس کی تشریح یہ کی جاتی ہے کہ اسلام آخرت میں نجات کا ذریعہ اس لیے بنے گا کہ وہ سب سے کامل دین ہے۔ اس کا رسول سب سے افضل رسول ہے۔ کتاب سب سے زیادہ بابرکت کتاب ہے۔ آیت کی یہ تفسیر قرآنی تفسیر نہیں ۔ یہ ایک مضبوط بات کو کمزور دلیل سے ثابت کرنا ہے۔
قرآن میں دوسرے مقام پر ہے کہ خدا اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں (ان الله ليس بظلام للعبيد) مذکورہ تفسیر قرآن کے اس بیان کی تردید ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسانی نسل کے ایک حصہ اور دوسرے حصے کے درمیان فرق کے لیے پیغمبر آخر الزماں کے ظہور سے پہلے پیدا ہونے والوں کو اس نے کم درجہ کا دین دیا اور جو لوگ پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد پیدا ہوئے ان کو برتر دین عطا فرمایا۔ یہ بات یقینی طور پر خدا کی شان کے خلاف ہے۔ خدا اپنی رحمت کی تقسیم میں کبھی ایسا امتیازکرنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نجات کا ذریعہ اس لیے ہے کہ اب وہی ایک محفوظ دین ہے۔ پچھلے دور میں آنے والے دین بھی اپنے زمانہ میں اتناہی مقبول دین تھے جتنا کہ اسلام آج مقبول مگر جب ان کی آسمانی کتابوں میں تحریف ہو گئی۔ ان کے حاملین نے ان میں کمی بیشی کردی تو اب وہ خدا کی ہدایت کو جاننے کا مستند ذریعہ نہ رہے۔ اسلام مکمل طور پر ایک محفوظ دین ہے اس لیے وہ خدا کی ہدایت کو جاننے کا مستند ذریعہ ہے۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر پچھلے تمام دین بعد کے زمانہ میں رد کر دیے گئے اور صرف اسلام ہدایت کے ذریعہ کی حیثیت سے باقی رہا۔
اسلام اور دوسرے ادیان میں اصلی فرق یہ ہے کہ اسلام محفوظ ہے اور دوسرے ادیان غیر محفوظ ۔