Al-Risala · February 1987

ایک حقیقت

Al-Risala, February 1987, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک " مولوی صاحب " بستی میں آئے اور لوگوں کے سامنے تقریر کی۔ انھوں نے پہلے یہ کیا کہ لوگوں کو نماز روزہ کی فرضیت کی طرف توجہ دلائی۔ اس کے بعد اپنے مدرسہ کے لیے چندہ کی اپیل شروع کر دی۔ تقریر ختم ہوئی تو لوگ خاموشی سے اٹھ اٹھ کر چلے گئے۔ کوئی شخص بھی نہ تھا جس کے اندر یہ ارادہ جاگا ہو کہ آئندہ وہ نماز روزہ کی پابندی کرے گا اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق زندگی گزارے گا۔

سامعین میں سے ایک شخص کسی قدر بے باک تھا۔ اس نے کھڑے ہو کر کہا : مولوی صاحب، جب آپ کو مدرسہ کا چندہ ہی مانگنا تھا تو سیدھے سیدھے مانگا ہوتا۔ پھر آپ کو وعظ و تبلیغ کا ڈھونگ رچانے کی کیا ضرورت تھی۔ مولوی صاحب نے اگر چہ قرآن و حدیث سنایا تھا اور نماز روزہ کے بارہ میں شریعت کا حکم بتایا تھا۔ مگر جب انھوں نے اسی کے ساتھ اس میں چندہ کا مطالبہ بھی شامل کر دیا تو سننے والے کی نظر میں ان کی تقریر صرف چندہ کا مطالبہ بن کر رہ گئی۔ نماز روزہ کی تبلیغ کی حیثیت سے ان کی تقریر کی اہمیت ختم ہوگئی۔ اپنے نزدیک انھوں نے نماز روزہ کی اپیل کی، مگر سننے والوں کے نزدیک وہ صرف چندہ کی اپیل تھی اور بس۔

آج اس طرح کے بے شمار سفیر ہمارے مدرسوں اور دارالعلوموں کی طرف سے مقرر وہ روزانہ بستیوں بستیوں میں جاتے ہیں اور وہاں لوگوں کے سامنے تقریریں کرتے مگر ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ ان سفیر صاحبان کی تقریروں سے کسی شخص کے اندر بھی دینی انقلاب نہیں آیا۔ کسی کے اندر بھی نماز روزہ کی زندگی پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس مثال تبلیغی جماعت کی ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ تبلیغی جماعت کی کوششوں سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ نمازی بن گئے۔ اور بے دینی کو چھوڑ کر دینی زندگی گزارنے لگے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ مدرسوں کے سفیر ایک طرف دینی تقریر کرتے ہیں اور دوسری طرف چندہ کی اپیل کرتے ہیں۔ وہ دینے والے

بھی ہیں اور ”مانگنے والے“ بھی۔ جب کہ تبلیغی جماعت چندہ کی کوئی بات نہیں کرتی۔ دیتی ہے، وہ مانگتی نہیں۔

یہی فرق ہے جس کی بنا پر مدرسوں کے سفیر ناکام ہیں اور تبلیغ کے لوگ کامیاب۔ آپ کسی کے سامنے دینے والے اور مانگنے والے دونوں بن کر جائیں تو اس کو آپ صرف مانگنے والے نظر آئیں گے، دینے والے کی حیثیت سے آپ کی تصویر اس کی نظر میں اوجھل ہو جائے گی۔

تبلیغی جماعت نے جو طریقہ مسلمانوں کے سلسلہ میں اختیار کیا وہی طریقہ غیرمسلموں کے سلسلہ میں بھی لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر ہمیں غیر مسلموں کو ” قرآن “ دینا ہے تو اس سے پہلے، ہمیں اپنی تمام مانگوں کو چھوڑنا ہوگا۔ آج ہمارے تمام لیڈر غیر مسلموں کے مقابلہ میں احتجاج اور حقوق طلبی کی مہم چلا رہے ہیں۔ خدا کے پیغمبر اپنی مخاطب قوموں سے کہتے تھے کہ لا اسئلکم علیہ من اجر (میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا) اس کے برعکس مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اسئلکم علیہ من اجر (میں اس پر تم سے اجر کا طالب ہوں) کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر کوئی مسلم رہنما یہ کرے کہ وہ ایک ہاتھ سے وزیر اعظم کو شکایات اور مطالبات کا میمورنڈم دے اور دوسرے ہاتھ سے قرآن کا ایک نسخہ بھی انھیں پیش کر دے تو یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مذاق ہوگا کہ خدا کی کتاب کو غیر مسلم حکمران تک پہنچانا۔

اگر ہم واقعۂ دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو ہم کو اول مرحلہ میں یہ جان لینا چاہیے کہ دوسری قوموں تک خدا کے دین کا پیغام پہونچانے کے لیے ہمیں خدائی اخلاقیات کی سطح پر آنا پڑے گا۔ یعنی یک طرفہ عمل کے ذریعہ انھیں خدا کے دین رحمت کا مخاطب بنانا، بغیر اس کے کہ کسی بھی معاملہ میں ہم ان کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں، یا ان کے ساتھ حقوق طلبی کی مہم میں مشغول ہوں ۔

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ اس لیے یہ قدرتی بات ہے کہ اس دنیا میں ہمارے کچھ مادی اور تہذیبی مسائل ہوں۔ لیکن اگر ہمیں خدا کے یہاں داعی کا کریڈٹ لینا ہے تو ہمیں اپنے

مسائل کا ذمہ دار خود اپنے آپ کو قرار دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے مسائل کو اپنی داخلی کوششوں کے ذریعہ حل کرنا ہوگا نہ یہ کہ ایک یا دوسری وجہ بتا کر ہم اپنی مدعو اقوام کے خلاف مطالبا تی مہم شروع کر دیں۔

غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے، ہمیں ان کے مقابلہ میں وہی کرنا ہوگا جو مسلمانوں کے سلسلہ میں تبلیغی جماعت کر رہی ہے۔ یعنی یک طرفہ قربانی کے ذریعہ ان کے سامنے بالکل بے غرض بن جانا۔ اگر ہم اس ملک میں " مانگنے والے" بنے ہوئے ہوں تو عین اسی وقت ہم انھیں " دینے والے " نہیں بن سکتے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو غیر مسلموں کے لیے بھی اتنا ہی صحیح ہے جتنا مسلمانوں کے لیے ۔ اصل یہ ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے ، اسی طرح داعی بننے کی بھی ایک قیمت ہے۔ مسلمان ابھی تک اس ملک میں داعی نہیں بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک اس کی قیمت ادا نہیں کی۔ داعی بننے کی قیمت کیا ہے ۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی مدعو کی نظر میں آخری حد تک بے غرض بن جائے ، خواہ اس کے لیے اسے کتنی ہی بڑی قربانی دینی ہو اور اسے کچھ بھی مدعو کی نظر میں اس کی ایک ہی تصویر ہو۔ اور وہ داعی کی تصویر ہو۔ نظر میں داعی کا مقام حاصل کرنے کے لیے وہ یک طرفہ طور پر مدعو سے اپنے تمام قومی اور مادی جھگڑے ختم کر دے ۔

مدعو سے قومی نزاع کھڑی کرنا ، مدعو سے مادی مطالبات کرنا، حتی کہ تہذیبی تشخص حاصل کرنے کے نام پر مدعو کے مقابلہ میں احتجاج کی مہم چلانا، یہ سب دعوتی مصالح کے سراسر خلاف ہے ۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو داعی اپنے داخلی عمل کے زور پر حاصل کر سکتا ہے ۔ اور جس چیز کا حصول خود اپنے عمل کے ذریعہ ممکن ہو اس کے لیے مدعو سے احتجاج و مطالبہ کی مہم چلانا دعوتی شریعت میں جائز نہیں ۔ ایسا ہر فعل دعوت کے امکانات کو ذبح کرنے کے ہم معنی ہے۔ جو لوگ ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہوں وہ نہ اللہ کی نگاہ میں داعی قرار پا سکتے ہیں اور نہ بندوں کی نگاہ میں ۔

Printed page