Al-Risala · February 1987

سنت کے خلاف

Al-Risala, February 1987, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

جنوری ۷ ، ۱۹ کا واقعہ ہے ۔ شہر کی یک بس ایک بڑی مسلم تعلیم گاہ کے سامنے سے گذری۔ سے ایک مسلمان طالب علم بس کی زد میں آگیا اور اس کے نیچے دب کر ہلاک ہو گیا۔ حادثہ کی خبر سن کر تعلیم گاہ کے مسلم طلبہ وہاں آئے تو ڈرائیور بھاگ چکا تھا۔ البتہ بس سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔ طلبہ نے بس کو آگ لگادی۔ مزید انھوں نے یہ کیا کہ جو بس ادھر سے گزرتی اس کو روکتے اور آگ لگاتے۔ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کے لوگ آئے تو ان کو پتھر مار کر بھگا دیا۔ پولیس آئی تو انھوں نے پولیس پر بھی پتھر مارنے

اب پولیس کی باری تھی۔ پولیس غصہ میں بے قابو ہو کر طالب علموں کے اوپر ٹوٹ پڑی ۔ پاس ہتھیار تھے۔ اس نے نہ صرف یہ کیا کہ سڑک پر کھڑے ہوئے طالب علموں کو مارا بلکہ وہ ہاسٹل میں اور تعلیم گاہ کے کمروں میں گھس گئی ۔ اس نے سیکڑوں طالب علموں کو مار مار کر بری طرح زخمی کر دیا۔ اس طرح کے واقعات ہندوستان میں پچھلے ۴۰ سال سے مسلسل پیش آرہے ہیں۔ ان کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں مگر کہانی سب کی ایک ہے ۔ ایسا ہر واقعہ ہمیشہ مسلمانوں کی کسی اشتعال انگیز کارروائی سے شروع ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ مسلمانوں کے شدید جانی و مالی نقصان پر ختم ہوتا ہے۔ تمام واقعات کو شمار کیا جائے تو چالیس سال میں ان کی تعداد ۴۰ ہزار تک پہنچ چکی ہوگی۔ ایسا واقعہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کے تمام اصاغر اور اکابر بلا استثناء یہ کرتے ہیں کہ وہ ایک طرفہ طور پر پولیس اور انتظامیہ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ کوئی ایک بھی قابل ذکر شخص ایسا نہیں جو اس طرح کے معاملات میں مسلمانوں کو سمجھائے اور انھیں تنبیہ کرے ۔

ہمارے یہ تمام لیڈر بلاشبہ سنت کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔ اور حدیث کے مطابق، ہر بات جو سنت کے خلاف ہو وہ بدعت ہے ۔ اور ہر بدعت کا آخری انجام تباہی ہے ۔ پچھلی نصف صدی سے مسلمان جو کچھ بھگت رہے ہیں وہ سنت سے اسی انحراف کا نتیجہ ہے ۔ مسلمانوں کا مذکورہ عمل سنت سے انحراف کیوں ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجیے:

قال الامام احمد حد ثنا عمرو بن عاصم عن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی مسلمان کے عن جندب عن حذیفة عن النبی صلی الله لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ علیہ وسلم قال : لا ينبغي لمسلم ان يذل پوچھا گیا کہ کیسے کوئی شخص خود اپنے کو ذلیل کرے نفسه - قيل وكيف يذل نفسه - فقال : گا ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایسی بلا رکا سامنا يتعرض من البلاء لما لا يطيق۔ وكذا رواه کرے جس سے نمٹنے کی اسے طاقت نہ ہو۔ الترمذي وابن ماجه ۔

اس حدیث کی روشنی میں دیکھئے تو مذکورہ قسم کے واقعات میں پولیس یا اکثریتی فرقہ کی شکایت کرنا سراسر غیر مسنون فعل ہے ۔ ایسا ہر واقعہ خود اپنی غیر اسلامیت کی داستان ہے نہ کہ اغیار کے ظلم کی داستان۔ کیوں کہ اس ملک میں مسلمان جب اقلیت میں ہیں اور جب یہ معلوم ہے کہ مسلمانوں کی متشددانہ کارروائی کے بعد پولیس آئے گی۔ اور موجودہ حالت میں یہ بھی معلوم ہے کہ پولیس جب آئے گی تو وہ یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی مار پیٹ کرے گی اور مسلمان اس کو ہر گز روک نہ سکیں گے۔ ایسی صورت میں مذکورہ قول رسول کے مطابق ، مسنون طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ابتدائی اشتعال کا واقعہ نہ کریں۔ وہ ایسے آغاز سے اپنے آپ کو بچائیں جس کے متعلق معلوم ہے کہ اس کا انجام لازمی طور پر ان کے خلاف نکلے گا ۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔ (المومن لا يلدغ من جحر مرتین ) مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ایک ہی بل میں وہ روزانہ ہاتھ ڈالتے ہیں اور ہر روز اس سے ڈسے جاتے ہیں۔ کسی نادان شخص نے بھڑ کے چھتے میں صرف ایک بار ہاتھ ڈالا ہوگا۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ روزانہ بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈال رہے ہیں اور روزانہ اس کا انجام بھگت رہے ہیں ۔ کیا اس کے باوجود ان کا یہ دعویٰ درست ہو سکتا ہے کہ اسلام کو وہ اپنا دین وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول مانتے ہیں ۔ دین اور رسول کا مفہوم اگر وہی ہو جو لغت کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے تو ان کا دعوی درست نہیں ۔ اور اگر مسلمانوں کا اپنا کوئی علیحده لعنت ہو جس میں انھوں نے بطور خود ان الفاظ کا کوئی دوسرا مفہوم لکھ رکھا ہو تو البتہ ان کا دعوی درست ہو سکتا مگر مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ ایسے کسی لعنت کی قیمت ان کے اپنے نزدیک خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، خدا اور خلق کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں ۔

Printed page