Al-Risala · February 1987

Sicily for a time acknowledged the Fatimid

Al-Risala, February 1987, pp. 29–36

By Maulana Wahiduddin Khan

سسلی نے ایک وقت میں فاطمیوں کا اقتدار تسلیم کیا جو جنوا تک پھیلا ہوا تھا) میں نے کتاب کو دیکھنے کے بعد کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی۔ ڈاکٹر افضل اقبال نے جنوا (Genoa) کا ذکر کیا ہے۔ یہ جنوبی اٹلی کا ایک شہر ہے۔ جب کہ میرا سفر جنیوا (Geneva) کے لیے ہو رہا ہے جو سوئزرلینڈ میں واقع ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سسلی اور جنوبی اٹلی پر ایک زمانہ میں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔ مگر سوئزرلینڈ میں کبھی ان کی باقاعدہ حکومت قائم نہیں ہوئی ۔ لفظی اشتراک سے بعض اوقات بڑی عجیب غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔

دہلی سے سفر کا آغاز برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۲۰ سے ہوا۔ یہ جہاز ہانگ کانگ سے آتا ہے اور دہلی ہوتے ہوئے لندن جاتا ہے۔ ” ہم ایک لمبی پرواز پر روانہ ہو رہے ہیں ۔ ۹ گھنٹہ کے بعد ہم لندن ایئر پورٹ پر اتریں گے “ اس اعلان کے ساتھ ، دسمبر ۱۹۸۶ کی صبح کو ۳ بجے ہمارا جہاز فضا میں بلند ہوا۔ اس سفر کا بیشتر حصہ سونے میں گزرا، اس لیے سفر کی تکان کا زیادہ احساس نہیں ہوا۔ نیند بھی اللہ تعالیٰ کی کیسی عجیب نعمت ہے ۔ لوگ پاگل ہوتے ہیں، اکثر اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ دنیا میں اگر سب کچھ ہو، صرف نیند اس سے اٹھالی جائے تو تمام انسان اپنا ذہنی توازن کھودیں اور پوری دنیا ایک بہت بڑا پاگل خانہ بن کر رہ جائے ۔

لندن ایر پورٹ سے اگلی فلائٹ پکڑنے کے لیے ٹرمنل نمبر ۱ پر جانا تھا۔ میں ایئر پورٹ کی گاڑی سے روانہ ہوا تو وہاں میرے ساتھ چار آدمی اور بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ لوگ کسی مختلف زبان میں آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ کون سی زبان بول رہے ہیں۔ انھوں نے جو جواب دیا وہ مجھے ” جومن “ سنائی دیا۔ پہلی بار میری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ انھوں نے دہرایا تو میں سمجھا کہ وہ جرمنی کے رہنے والے ہیں اور جرمن زبان بول رہے

رہے ہیں ۔

اسی کا نام لہجےکا فرق ہے ۔ ہر گروہ کا لہجہ الگ الگ ہوتا ہے ۔ اس لیے الفاظ کی ادائیگی میں ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہو جاتا ہے ۔ اسی ایک لفظ کو کوئی جرمن کہتا ہے ، کوئی جومن ، کوئی جمن ۔ مگر معنوی اعتبار سے سب کی مراد ایک ہوتی ہے ۔ اسی کی روشنی میں اس حدیث کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے جس میں آیا ہے کہ قرآن سات حرفوں میں اترا ہے ۔ سے مراد تعدد ہے ۔ یعنی الفاظ کی ادائیگی (لہجہ) کے اعتبار سے قرات قرآن کے کئی طریقے ہیں ۔ یہ حدیث دراصل اسلام کی عالم گیریت کو بتاتی ہے ۔ اس ارشاد سے رسول اللہ کا مطلب یہ تھا کہ اسلام صرف مذہبی پیشواؤں (کلرجی) کا مذہب نہ ہوگا اور نہ وہ کسی ایک قوم میں محدود رہے گا ۔ وہ عمومی سطح پر پھیلے گا اور مختلف قبیلے اور قومیں اس کو قبول کریں اس لیے بالکل قدرتی بات ہے کہ لہجات کے اختلاف کی وجہ سے اس کی ادائیگی کے کئی طریقے ہو جائیں ۔

لندن سے جنیوا کا سفر برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۴۲۴ کے ذریعہ ہوا ۔ جہاز میں مشہور ہفتہ وار اکانومسٹ (The Economist) کا شمارہ ۶ دسمبر ۱۹۸۹ء پڑھا ۔ اس میں ایک مضمون ایران ۔ عراق کے مسئلہ کے بارے میں تھا ۔ ایڈیٹر نے مختلف وجوہ بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ ایران کا مسئلہ مغرب کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ ایران کے مقابلہ میں عراق کی انسانی طاقت صرف ایک تہائی اس لیے یہ بظاہر نا ممکن ہے کہ عراق اس جنگ سے فاتح ہو کر نکلے ۔ مزید یہ کہ جنگ ہمیشہ نہیں رہ سکتی ۔ وہ کبھی نہ کبھی ختم ہوگی ۔ آنے والے وقت کے پیش نظر مغرب کو ضرورت ہے کہ وہ ایران کے بارہ میں اپنی پالیسی پر ٹھنڈے طریقہ سے غور کرے :

That is why the west needs to be thinking coolly about an Iran policy. زندہ لوگ دشمنی کے ساتھ دوستی کرنا بھی جانتے ہیں ۔ جب کہ مردہ لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب وہ ایک رخ پر چل پڑیں تو اس سے پھرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا ۔ جہاز کے اندر برٹش ایرویز کا ماہانہ میگزین ہائی لائف (Highlife) تھا ۔

کے نیچے حسب معمول یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

یہ دسمبر ۱۹۸۶ کا پرچہ تھا جو آرٹ پیپر کے ڈیڑھ سو صفحات پر نہایت عمدہ چھپا ہوا تھا۔ مگر وہ مفت دیا جا رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دراصل میگزین نہیں بلکہ ایک قسم کا اشتہار پورا پرچہ اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ تاہم انھوں نے پرچے پر ہما را تحفہ‘‘ کا لفظ نہیں لکھا، بلکہ "آپ کی اپنی کاپی" لکھا۔ یہ وہ تجارتی زبان ہے جو موجودہ زمانہ میں پیدا جدید تجارتی اصول یہ ہے کہ "میں" کو حذف کرکے "آپ" کا استعمال کیا جائے ہر آدمی کو طبعاً اپنی ذات سے دل چسپی ہوتی ہے، دوسرے سے کسی کو دلچسپی نہیں ہوتی۔ کی کامیابی اسی نفسیات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ ایک تاجر نے کہا کہ تجارت میں سب سے کم اہم لفظ "میں" ہے اور سب سے زیادہ اہم لفظ "آپ"۔

دنیا کا نقشہ اپنے سامنے رکھیے تو دہلی سے یورپ کی طرف جاتے ہوئے جنیوا پہلے نظر آئے گا اور لندن اس کے بعد۔ گویا دہلی سے لندن جا کر جنیوا آنے کے لیے ہمیں دوبارہ پیچھے کی طرف سفر

اس کی وجہ "کنکٹنگ فلائٹ" کا مسئلہ ہے۔ دہلی سے جنیوا کے لیے براہِ راست پرواز نہیں اگر آپ قریبی راستہ سے دہلی سے جنیوا کے لیے روانہ ہوں تو راستہ میں جہاں آپ جہاز بدلیں گے وہاں سے فوری طور پر آپ کو دوسرا جہاز نہیں ملے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اگلے جہاز کے انتظار میں آپ کو درمیانی ہوائی اڈہ پر لمبی مدت تک پڑے رہنا ہو گا۔ مگر لندن دنیا کا سب سے بڑا ہوائی مرکز ہے۔ یہاں سے ہر جگہ کے لیے کم سے کم وقت میں جہاز مل جاتے ہیں۔ دہلی سے سیدھے راستہ کے ذریعہ جنیوا جانے میں ہمیں زیادہ وقت لگتا۔ جب کہ لندن کے راستہ سے جانے میں نسبتاً کم وقت لگا۔ لینن نے کہا تھا کہ "ہندوستان کا وہ راستہ قریب ہے جو لندن ہو کر جاتا ہے۔ " اسی طرح ہمارے لیے جینیوا کا وہ راستہ زیادہ قریب تھا جو لندن ہو کر گیا۔ ________ کبھی دور کا راستہ قریب ہوتا ہے ، اور قریب کا راستہ دور ہو جاتا ہے۔

لندن میں شہر کے اندر جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ البتہ ہوائی جہاز میں اڑتے ہوئے پورے

لندن کا منظر صاف دکھائی دیا۔ لندن میں ۱۶۶۶ء میں زبردست آگ لگی تھی۔ اس میں لندن کا دو تہائی حصہ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔ ۸۶ گرجا گھر بالکل کھنڈر ہو گئے۔ اس کے بعد بعض ماہرینِ تعمیر نے یہ نقشہ بنایا کہ لندن کی نئی تعمیر میں اس کی سڑکیں زیادہ چوڑی کر دی جائیں۔ مگر مالکانِ زمین کو معاوضہ دینے کے لیے اس وقت ضروری رقم حکومت کے پاس موجود نہ تھی۔ اس لیے اس منصوبہ پر صرف جزئی عمل ہو سکا۔ تاہم گرجا گھروں کی نئی تعمیر پر اہلِ لندن نے زبردست طاقت سینٹ پال کے عظیم گرجا گھر کی تعمیرِ ثانی میں پورے ۳۵ سال لگ گئے۔ وہ ۱۷۱۱ء میں دوبارہ بن کر مکمل ہوا۔ تاہم یہ تین سو سال پہلے کی بات ہے۔ آج کے لندن میں (گرجا چرچ) کے مقابلہ میں دوسری چیزیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ۱۱۵۰۰ ، ۷ سکھ آباد ہیں اور پورے ملک میں ان کے تقریباً ۵۰ گوردوارے ہیں۔ ہندو مذہب کو ماننے والوں کی تعداد ایک لاکھ ۵۰ ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ میں انھوں نے بھی تقریباً ۵۰ مندر بنائے ہیں۔ ہندو مراکز کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مذہبی رسوم کی ادائیگی کے علاوہ سماجی اور تہذیبی خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔

برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۵ لاکھ ہے جس میں زیادہ تعداد پاکستان اور بنگلہ دیش کے باشندوں کی ہے۔ لندن ایرپورٹ کی ایک ملازم خاتون مجھے "مسلمان" صورت دیکھ کر مجھ سے مخاطب اس نے اپنا نام ماریہ بیگ بتایا۔ اس نے کہا کہ وہ اصلاَ پر تگالی ہے۔ اس نے اسلام قبول کر کے مسٹر بیگ سے نکاح کر لیا ہے۔ مسٹر بیگ پاکستانی ہیں۔ اور لندن میں بحیثیتِ انجینئر کام کرتے برطانیہ میں تقریباً ایک ہزار مسجدیں ہیں۔ لندن میں بہت بڑا اسلامک سینٹر اور مسجد ہے۔ کی شاندار تصویر (الدعوة (ریاض ۸ دسمبر ۱۹۸۶ء کے ٹائٹل کے آخری صفحہ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ۷ دسمبر کی دوپہر کو ہم جنیوا اتر گئے۔ یہاں ایرپورٹ پر ایک عجیب قصہ پیش آیا۔ مطابق وہاں کانفرنس کے منتظمین کو ڈبلیو سی آر ایل (WCRL) کا کارڈ لے کر موجود رہنا چاہیے تھا تاکہ میں فوراً انھیں پالوں اور وہ ہوٹل تک میری رہنمائی کر سکیں۔ مگر جب میں ایرپورٹ سے باہر آیا تو وہاں اس قسم کی کوئی علامت مجھے نظر نہ آئی۔ کچھ دیر کے لیے میں عجیب الجھن میں پڑ گیا۔ ایک صاحب سے ذکر کیا تو انھوں نے ایرپورٹ سے ہوٹل انٹرکانٹیننٹل کو ٹیلی فون کیا۔

ہوٹل والوں نے بتایا کہ یہاں سے کئی آدمی رسیو کرنے کے لیے جاچکے ہیں۔ آپ دوبارہ اٹھیں ایئر پورٹ پر تلاش کریں۔ اس کے بعد مزید چل کر دیکھا تو وہ وہاں کارڈلیے ہوئے میرے انتظار میں کھڑے تھے۔

قصہ یہ تھا کہ وہ لوگ دوسرے گیٹ پر تھے اور میں ایک اور گیٹ سے باہر آیا۔ ہوتا ہے کہ آدمی ایک مقام پر اپنے مطلوب کو نہ پا کر مایوس ہوجاتا ہے، حالاں کہ اگر وہ تلاش کرے تو وہ پائے گا کہ اس کا مطلوب دوسرے مقام پر خود اس کے انتظار میں کھڑا ہوا ہے۔ جنیوا میں میرا قیام انٹرکانٹیننٹل ہوٹل میں تھا۔ میرے کمرہ کا نمبر ۵۲۱ تھا۔ جو پبلسٹی لٹریچر رکھا ہوا تھا، اس میں کافی لٹریچر عربی میں بھی نظرآیا ’’سویسرا‘‘ نام کی ایک مکمل گائیڈ بک عربی زبان میں موجود تھی۔ اس کے علاوہ مختلف کا غذات پر عربی زبان میں اندراجات نظر آئے ۔ مثلاً ایک دو ورقہ میں ہوٹل کا تعارف کرایا گیا تھا۔ اس میں لکھا ہوا تھا: اکثر من 80 فندق فخم حول العالم (ساری دنیا میں ہمارے ۸۰ سے زیادہ بڑے ہوٹل ہیں) کمرہ کے باتھ روم میں پلاسٹک کی ایک تھیلی میں نہانے کی ٹوپی (Shower cap) رکھی ہوئی تھی۔ کے اوپر مختلف زبانوں میں اندراجات تھے ، اسی کے ساتھ اس پر عربی میں غطاء للرأس بھی لکھا ہوا تھا۔ کمرہ میں لمبے شیشے کی کھڑکی پر عربی میں لکھا ہوا تھا : يرجى قفل النافذة عند تشغيل تكييف الهواء مع الشكر براہ کرم ایئرکنڈیشنر چلانے کے وقت کھڑکی کو بند رکھیں۔ جنیوا میں عرب لوگ کافی یہ عربیت اسی کی بنا پر ہے ۔

ہوٹل کے کمرہ میں ایک بہت عمدہ چھپا ہوا جر نل تھا۔ جس میں تصویروں کے ذریعہ دکھایا گیا تھا کہ اس ہوٹل کو کس قسم کے لوگوں کی میزبانی کا موقع ملتا رہتا ہے۔ میں وزیر اعظم ہندوستان راجیو گاندھی، صدر انڈونیشیا جنرل سو ہار تو ، سلطان بن عبد العزيز (سعودی عرب) اور دوسری بہت سی ممتاز شخصیتوں کے نام شامل تھے۔

یہ ہوٹل مختلف طریقوں سے اپنے اعلیٰ میزبانوں کو متاثر کرتا ہے۔ مثلاً اس کے ایک با تصویر نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ جرمنی کا ایک ممتاز شخص (Udo Lattek) اپنی پارٹی کے ساتھ

اس ہوٹل میں ٹھہرا ۔ اتفاق سے انھیں تاریخوں میں اس آدمی کی برتھ ڈے تھی ، ہوٹل والوں نے عین اس تاریخ کو اچانک برتھ ڈے کا کیک اس کو پیش کر کے اسے حیرت میں ڈال دیا :

The Management surprised him with a birthday cake. تاجر اپنی تجارت میں اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ وہ یک طرفہ اخلاقیات کے ذریعہ اپنے گاہک کے دل کو جیت لے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دعوت حق کا بھی ہے۔ حق کے داعی کو بھی یک طرفہ عمل کے ذریعہ مدعو کے دل کو جیتنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر کسی کے اندر وہ گہرا اثر پیدا فہمیں ہو سکتا جو ایک آدمی کو اپنے راستہ کی تبدیلی پر مجبور کر دے۔

" سوئزر لینڈ " کے نام سے غالباً سب سے پہلے میں اس وقت واقف ہوا جب کہ ابھی میری کم عمری کا زمانہ تھا اور میرے گھر والوں نے مجھے ایک آٹومیٹک گھڑی پہننے کے لیے دی۔ اس پر سوئس گھڑی (Swiss Watch) لکھا ہوا تھا۔ اس سے میرے ذہن پر یہ تصور قائم ہو اکو سوئزر لینڈ گھڑیوں کا ایک مگر بعد کی معلومات نے صرف جزئی طور پر اس کی تصدیق کی۔ بعد کو معلوم ہوا کہ سوئزرلینڈ اسی درجہ میں گھڑیوں کا ملک ہے جس درجہ میں عرب اونٹوں یا کھجوروں کا ملک ۔ میری یہ گھڑی کنچی دیے بغیر اپنے آپ چلتی تھی ۔ اپنی کم عمری کی بنا پر اس وقت میں نے یہ سمجھا کہ وہ شاید نبض کی حرکت سے چلتی ہے۔ یہ غلط نہی اس وقت رفع ہوئی جب کہ کچھ عرصہ بعد گھڑی بند اس وقت میں نے اس کو ایک گھڑی ساز کو صفائی کےلیے دیا ۔ اس نے کھول کر دکھایا کہ گھڑی کے اندر ایک خاص طرح کا پہیہ نما پرزہ ہے جو ایک تہائی کے بقدر کٹا ہوا ہے ۔ یہ پہیہ ہاتھ کی حرکت سے برابر گھومتا رہتا ہے اور گھڑی کو کوک دیتا رہتا ہے ۔ اس پرزہ کو روٹر (Rotor) کہا جاتا ہے۔ آٹومیٹک گھڑی کی قدیم تکنیک تھی۔ اب نئے قسم کی آٹومیٹک گھڑیاں بازار میں ملنے لگی ہیں۔ کے اس واقعہ نے مجھے ہمیشہ کے لیے یہ سبق دیدیا کہ کسی چیز کے بارہ میں محض قیاس سے کوئی رائے قائم نہیں کرنا چاہیے۔ صحیح رائے وہ ہے جو مکمل معلومات کی بنیاد پر قائم کی جائے۔ سوئزرلینڈ کے ایک شہر لی لاکل (Le Locle) کے چوراہے پر ایک نوجوان کا اسٹیچو لگا ہوا یہ ڈینیل جین ریچرڈ (Daniel Jean-Richard) کا اسٹیچو ہے۔ وہ ۱۶۷۲ میں پیدا ہواور ۱۷۳۱ میں اس کی وفات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار گھوڑے کا ایک انگریز تاجر ادھر سے گزرا

اس نے مذکورہ نوجوان کے والد کو اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی مرمت کے لیے دی۔ نوجوان نے منت سماجت کر کے یہ گھڑی اس سے مانگ لی۔ اس چھوٹی سی مشین سے اس کو اتنی دلچسپی ہوئی کہ وہ ایسی ہی ایک نئی مشین بنانے میں لگ گیا۔ ۱۸ مہینے کی لگاتار محنت کے بعد اس نے ویسی ہی ایک نئی گھڑی بنا لی۔ اس طرح ۱۷۰۵ میں باقاعدہ طور پر سوئزرلینڈ میں گھڑی کی صنعت قائم ہوئی۔ یعنی عین اس وقت جب کہ ہندوستان میں اور نگ زیب عالمگیر کی حکومت (۱۷۰۷ - ۱۶۵۸) کا آخری زمانہ تھا ۔ اگر چہ ”ترقی یافتہ سوئزرلینڈ“ کو دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہا، مگر ایک شخص کی قربانی اور ہوش مندی نے پوری قوم کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔

اب اس معاملہ میں اس کے برعکس مثال لیجیے۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب تلاش ہند (Discovery of India) میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے مغل امراء بہ کثرت گھڑیاں استعمال کرتے پرتگالی، اور بعد میں انگریز ہندوستان میں یہ گھڑیاں لاتے تھے۔ گھڑیوں کا استعمال مغل امراءکے تکلفات میں شامل تھا۔ تاہم اس وقت کے ہندوستان میں نہ کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کمانی کی گھڑیاں (Spring clocks) جو یورپی تاجر ہندوستان میں لا کر فروخت کرتے ہیں، وہ کیسے بنتی ہیں، نہ ایسی گھڑیاں کبھی یہاں بنائی گئیں۔ مغل دور کے ہندوستان میں میکانکی رجحان (Mechanical bent) کی یہ کمی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ (صفحہ ۷۵، ۷۴)

سوئزرلینڈ ارباب سرمایہ کی پناہ گاہ ہے ۔ سوئزرلینڈ کے بینکوں میں کھاتہ کھولنے کے لیے وہ پابندیاں نہیں ہیں جو دوسرے ملکوں میں ہوتی ہیں۔ یہاں ہر آدمی کھاتہ کھول سکتا ہے، خواہ وہ سوئزرلینڈ کا شہری ہو یا نہ ہو۔ مزید یہ کہ یہاں خفیہ کھاتے کھولنے کے نہایت وسیع امکانات ہیں۔ یہاں کے بینکوں میں ایسے کھاتے کھولنے کی سہولت ہے جن سے مطلوبہ رقم صرف خفیہ نمبر یا لفظ بنا کر نکالی جاسکتی ہے ۔ ان خفیہ کھاتوں کا علم بینک کے اسٹاف کے دو افراد کو ہوتا ہے۔ اس لیے تاکہ اگر ایک شخص موجود نہ ہو تو دوسرا شخص فوراً اس کی تعمیل کر سکے ۔ اس نظام نے دنیا بھر کے ارباب دولت (بادشاہوں، سیاسی لیڈروں، صنعت کاروں وغیره) کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ سوئزرلینڈ کے بینکوں میں بھاری رقم کے خفیہ کھاتے کھول سکیں ۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ سوئزرلینڈ کے بینکوں میں جمع شدہ ہندوستانی باشندوں کی رقوم تقریباً

ساڑھے تیرہ ارب روپے تک پہنچ چکی ہے ۔

سوئٹزر لینڈ کے خفیہ کھاتے نا جائز دولت جمع کر کا محفوظ ترین ذریعہ بن گئے ہیں ۔ کھاتوں کے ذریعہ جاسوسوں اور تخریب کاروں کو رقمیں فراہم کی جاتی ہیں ۔ اخبارات میں یہ خبر آئی تھی کہ ۱۹۸۵ میں ایران نے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں ۱۲ ملین ڈالر جمع کیے اور اس کے ذریعہ سے خفیہ طور پر امریکی ہتھیار خریدا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ امریکی ہتھیار اسرائیل کے راستہ سے ایران پہنچے ۔ ٹائمز آف انڈیا ۲۳ نومبر ۱۹۸۶ ، صفحہ ۱۶ )

ہمارے جہاز میں دوسرے اخبارات ورسائل کے ساتھ امریکہ کا ٹائم میگزین بھی موجود تھا۔ ٹائم نے پہلے ۲ سال میں ۷۲ کور اسٹوری چھاپی ہے ۔ اس کی اشاعت ۸ دسمبر ۱۹۸۶ میں اس کی ۴۷ ویں کور اسٹوری تھی۔ یہ ایران کے لیے امریکی ہتھیار کی سپلائی کے بارہ میں تھی اور اس کا عنوان تھا :

Printed page