Al-Risala · February 1987

A scandal involving arms for Iran

Al-Risala, February 1987, pp. 36–41

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایران نے سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں خفیہ کھاتے نے کھول رکھے ہیں۔ کے ذریعہ وہ مغربی ملکوں سے بھاری قیمت دے کر ہتھیار خرید تا ہے ۔ ٹائم کے مطابق ، اس دوران اسرائیل نے ایران کے ہاتھ ۲۲ ملین ڈالر کے امریکی ہتھیار فروخت کیے۔ یہ ہتھیار امریکہ کی اصل قیمت کے لحاظ سے ۱۲ ملین ڈالر کے تھے ۔ اس طرح اسرائیل نے تقریباً ۲۵۰ فی صد زیادہ قیمت اسرائیل نے اصل رقم (Exact amount) امریکہ (سی آئی اے) کو ادا کی اور باقی رقم خود رکھ لی :

Israel sold Iran $ 12 million worth of weapons at a price that included a mark-up as high as 250%, or $ 42 million (p 20). جنیوا کی جس عمارت میں ایران نے ہتھیاروں کا یہ معاملہ کیا ، اس کی تصویر ٹائم (۱۵ دسمبر ۱۹۸۶ صفحہ ۱۳ پر دیکھی جا سکتی ہے ۔

ایران کے اپنے اعلان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل دونوں عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔ ان عظیم تر دشمنوں سے امام خمینی کا اتحاد ہو جاتا ہے ، مگر عراق کے صدام حسین سے ان کا

اتحاد نہیں ہو سکتا ، جب کہ وہ خود صلح کی اور اتحاد کی پیش کش کر رہا ہو۔ کیسا عجیب ہے وہ اسلام جو موجودہ زمانہ کے مجاہدین اسلام کے حصہ میں آیا ہے ۔

۱۹۸۲ میں سوئزرلینڈ کے ۷، ۵ بینکوں میں جو رقم جمع تھی ، وہ ہندوستانی سکہ میں 305,000 کروڑ روپے ہوتی ہے (ریڈرز ڈائجسٹ ، فروری ۱۹۸۴)

سوئزرلینڈ کا ایک طبقہ بینکوں میں خفیہ کھاتے رکھنے کے خلاف ہے۔ کیوں کہ اس سے ظالم حکمراں اور غلط ذرائع سے دولت حاصل کرنے والے دوسرے لوگ اپنی دولت کو چھپا کر دوبارہ اس کو باعزت طور پر استعمال کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔ ایک سوشل ڈیمو کریٹ نے بینک راز داری کو ختم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ کالا دھن ہمارے بینکوں کے علی بابا کے کھوہ میں غائب ہو جاتا ہے اور پھر وہ جائز دولت بن کر باہر آتا ہے تاکہ اس کو حسب منشاء استعمال کیا جا سکے : Black money disappears into the Ali Baba caves of our banks and emerges respectably white and ready for investment. سوئزر لینڈ یورپ کا ایک نسبتاً چھوٹا ملک ہے ۔ اس کو ساحل سمندر بھی حاصل نہیں ۔ سوئزرلینڈ کو اس کی کیوں نے عمل کا مزید حوصلہ دیا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ، خام مواد سے محرومی نے سوئزرلینڈ کو مایوس نہیں کیا۔ اس نے اپنی محنت سے اپنے یہاں نہایت اعلیٰ اور معیاری صنعتی بنیاد تعمیر کر لی۔ حتیٰ کہ وہ یورپ میں فی کس سب سے زیادہ آمدنی کا ملک بن گیا : Undismayed by a lack of raw material, the Swiss have constructed a high-quality, high-technology industrial base for Europe's highest per سوئزرلینڈ میں چار زبانیں (جرمن، فرنچ، اٹالین، رومانس) رائج ہیں ۔ یہاں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد نصف ملین ہے (کل تعداد کا ۱۷ فی صد) سوئزرلینڈ کی کل آبادی تقریباً ۳۴ لاکھ ۵۰ ہزار ہے ۔ صدفی صد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔

جنیوا زیادہ بڑا شہر نہیں ۔ آپ اگر چاہیں تو پیدل چل کر اس کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ سکتے ہیں ۔ بظاہر دیکھنے میں بھی وہ بہت زیادہ عظیم نظر نہیں آتا۔ اس کی تاریخ نے اس کو عظیم بنا دیا ہے ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اکثر بین الاقوامی اہمیت کے

واقعات جنیوا میں پیش آئے ۔

جنیوا، سرینگر کی مانند پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع ہموار میدان میں آباد ہے ۔ بعض خصوصیات کی وجہ سے یورپ کا ایک ممتاز شہر سمجھا جاتا ہے۔ اس کا رقبہ ۲۱۰ مربع میل (۲۸۰ کلومیٹر) ہے ۔ اس کی آبادی تقریباً ۳۲۰ ہزار ہے۔ جنیوا کی معاشی اور تہذیبی اہمیت اپنے رقبہ سے بہت زیادہ ہے ۔ سولھویں صدی تک جنیوا تنزّل کا شکار رہا ۔ اس کے بعد ۱۵۳۰ء سے اٹلی، جرمنی ، فرانس وغیرہ ملکوں کے نکلے ہوئے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ۔ اس سے جنیوا کو نیا خون (New blood) ملا اور اس کی ترقیاں شروع ہوئیں ۔ ان لوگوں نے غیر معمولی محنت سے یہاں گھڑی سازی ، پرنٹنگ اور دوسرے صنعتی میدانوں میں ملک کو آگے بڑھایا ۔ ہر قوم کی ترقی کے لیے ” نیا خون “ درکار ہوتا ہے ، خواہ یہ نیا خون اندر سے حاصل ہو یا باہر سے ۔ عیسائیت میں ریفارمیشن کی تحریک نے جنیوا میں اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اس شہر کو پروٹسٹنٹ روم (Protestant Rome) کہا جانے لگا۔ جنیوا کی مقامی آبادی میں پروٹسٹنٹ لوگ کسی قدر زیادہ ہیں ۔ مگر مجموعی آبادی میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک تقریباً نصف نصف ہیں ۔ میں میں نے بعض پروٹسٹنٹ چرچ اندر سے دیکھے ۔ وہ کیتھولک چرچ کے برعکس ، بالکل سادہ جیسے مسلمانوں کی مسجدیں سادہ ہوتی ہیں ۔

جنیوا کو ایک بین اقوامی شہر (International city) کہا جاتا ہے۔ یہاں ڈیڑھ سو سے زیادہ بین الاقوامی اداروں کے صدر دفتر ہیں ۔ اور اکثر بین الاقوامی اداروں کی شاخیں موجود ہیں۔ بین اقوامی حیثیت دینے میں اس کا بھی دخل ہے کہ یہاں تقریباً ماہ ۳۱ فی صد بیرونی افراد آباد ہیں ۔ واقعہ نے جنیوا کو ایک قسم کی عالمی حیثیت دیدی ہے ۔ فرانس کے سیاست داں ٹالی رینڈ (Talleyrand) نے کہا تھا کہ دنیا میں پانچ براعظم ہیں اور پھر جنیوا ہے ۔

There are five continents, and then there is Geneva. جنیوا میں دورِ جدید کے بعض انتہائی بڑے مفکر پیدا ہوئے ۔ مثلاً روسو اور والٹیئر ۔ اس بنا پر جنیوا کو یہ حیثیت بھی حاصل ہوئی کہ وہ اہلِ علم کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔

دورِ اول میں مسلمان جب اسپین کے راستہ سے یورپ میں داخل ہوئے تو وہ پیش قدمی

کرتے ہوئے سوئزرلینڈ تک بہو پہنچ گئے ۔ اسپین اور سسلی اور جنوبی اٹلی اور جنوبی فرانس میں انھوں نے باقاعدہ حکومتیں قائم کرلیں ۔ تاہم سوئزرلینڈ میں اس قسم کی کوئی حکومت قائم نہ ہوسکی ۔ سوئزرلینڈ میں عرب مسلمانوں کے داخلہ کے بارہ میں قدیم عربی کتابوں میں بہت کم معلومات اس سلسلہ میں زیادہ معلومات ان کتابوں میں ہیں جو عیسائی حضرات نے جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں لکھی ہیں۔ امیر شکیب ارسلان (۱۹۲۶ - ۱۸۶۹) جرمن اور فرانسیسی زبان جانتے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا۔ نیز انھوں نے ان یورپی علاقوں کے سفر کیے۔ اس کے بعد انھوں نے اس موضوع پر تین سو صفحات کی ایک کتاب (۱۳۵۲ ھ) عربی زبان میں لکھی ہے جس کا نام یہ ہے :

تاريخ غزوات العرب فى فرنسا وسويسرا وايطاليا وجزائر البحر المتوسط امیر شکیب ارسلان کی اس کتاب میں دوسری معلومات کے علاوہ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ انھوں نے اس میں ایک جرمن کتاب کا خلاصہ شامل کر دیا ہے جو خاص اسی موضوع پر لکھی گئی تھی ۔ اس کتاب کا جرمن نام یہ ہے :

Der einfall der Sarazenenen in die Schweiz, Von dr Ferdinand Keller سوئس انسائیکلوپیڈیا (Dictionaire historique et biographique de la Suisse) میں سراسین (Saracen) کے باب کے تحت بھی عربوں کے سوئزرلینڈ میں داخلہ کی بابت _ کافی معلومات درج ہیں ۔

امیر شکیب ارسلان نے اپنی تحقیق کے دوران خود سوئزرلینڈ کا سفر کیا تھا۔ اس سلسلہ میں وہ سوئزرلینڈ کے شہر سیون (Sion) گیے۔ وہاں سے دریافت کرتے ہوئے وہ ایک گاؤں میں بہو پہنچے جو پہاڑوں کے درمیان واقع ہے ۔ یہاں ایک بوڑھے واقف کار شخص نے انہیں بتایا کہ ہم سنتے آئے ہیں کہ اس گاؤں کے تمام باشندے یاکم ازکم ان میں سے کچھ عرب نسل سے ہیں (ان اهالي هذه القرية او بعضهم على الاقل هم من اصل عربی ، صفحه ۲۷۹ اس نے مزید بتایا کہ اس طرح کی اور بستیاں بھی سوئزرلینڈ میں پائی جاتی ہیں۔ سوئزرلینڈ کے بعض مقامات کے نام اب بھی عربی انداز

مثلاً علی العین (Allalin) اور الماجل (Almagell) وغیرہ۔ مغربی مورخین نے اپنی کتابوں میں عربوں کے سوئزرلینڈ میں داخلہ کی یہ تصویر پیش کی ہے کہ وہ یہاں لوٹ مار کرنے آتے تھے۔ چنانچہ خود امیر شکیب ارسلان نے اپنی مذکورہ کتاب میں اس طرح کے عنوانات قائم کیے ہیں ــــــــــ نزول العرب في بروفانس وغاراتهم من هنالك على سافواي وبييمونت، سويسرة، غارات العرب على سويسرة في اواسط القرن العاشر ـــ پروفیسر ہٹی نے اپنی کتاب (تاریخ عرب) میں سوئزرلینڈ میں قدیم مسلمانوں کے داخلہ کے بارہ میں ایک پیراگراف لکھا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ اغالبہ اپنی پیش قدمی کے دوران صرف اٹلی کے ساحل تک نہیں رکے ۔ ۸۶۹ء میں انھوں نے مالٹا کو فتح کر لیا۔ اٹلی اور اسپین سے ان کے حملے دسویں صدی میں الپائن کے دروں کے ذریعہ وسط یورپ تک پہنچے تھے۔ الپ کے علاقہ میں متعدد عمارتیں اور دیواریں ہیں جن کو سیاحوں کی گائیڈ بک قدیم مسلمانوں کے حملوں سے منسوب کرتی سوئزرلینڈ میں کچھ جگہوں کے نام عرب اصل سے تعلق رکھنے والے نظر آتے ہیں، مثلاً گابی اور الگابی جو بظاہر الجابی (محصل) کی بدلی ہوئی صورت ہے :

The Aghlabids did not limit their operations to the Italian coasts. In 869 they captured Malta. From Italy and Spain piratical raids in the tenth century extended through the Alpine passes into mid-Europe. In the Alps are a number of castles and walls which tourists' guides attribute to the invasion of the Saracens. Certain Swiss place-names, such as Gaby and Algaby (al-jabi?, tax collector) which appear in Baedeker's Switzerland, may possibly be of Arabic origin. Philip K. Hitti, History of The Arabs, Macmillan, London, 1968. p. 605 مسلمان اغالبہ اور فاطمیہ کے دور میں سوئزرلینڈ میں داخل ہوئے۔ مگر یہاں ان کی کبھی حکومت قائم نہ ہو سکی۔ اگر چہ بعض مسلم مصنفین نے یہاں قیام حکومت کا دعویٰ کیا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب نے اپنی کتاب تعارف اسلام (An Introduction to Islam) میں لکھا ہے کہ عباسی دور میں تیونس کے گورنر کو دعوت دی گئی کہ وہ سسلی کی خانہ جنگی میں مداخلت کرے۔ اس کے بعد تیونس کے مسلم گورنر نے جزیرہ سسلی پر قبضہ کر لیا۔ مزید وہ اٹلی کے بڑے حصہ پر بھی قابض ہو گیا۔ حتیٰ کہ مسلمان

پیش قدمی کرتے ہوئے روم کی دیواروں تک پہنچ گئے۔ اس زمانہ میں فرانس کا جنوبی حصہ اور اسی کے ساتھ سوئٹزرلینڈ کا قابل لحاظ حصہ بھی مسلم سلطنت میں شامل کر لیا گیا : The south of France was annexed as also a considerable part of Switzerland (p. 246). مگر سوئٹزرلینڈ کے بارہ میں یہ بات تاریخ سے ثابت نہیں ہوتی ۔

دسمبر ۱۹۳۱ میں ایک سفر کے دوران مہاتما گاندھی جنیوا آئے تھے۔ انھوں نے وکٹری ہال (Victory Hall) میں ایک تقریر کی ۔ اس کا موضوع تھا : سچائی خدا ہے (Truth is God) اس کا ذکر کرتے ہوئے لوئی فشر نے لکھا ہے کہ لانہہب قسم کے لوگ گھنٹوں تک ان پر سوالات کی بوچھاڑ مگر مہاتما گاندھی نے کامل سکون کے ساتھ ان کا جواب دیا ، ان کے چہرہ کی ایک رگ بھی حرکت میں نہیں آئی :

He was heckled for hours by atheists and others. He answered them in perfect calm, not a muscle of his face twitching. Louis Fisher. The Life of Mahatma Gandhi Harper Row, New York, 1983, p. 293 موجودہ زمانہ کے بے شمار مسلم لیڈروں میں سے کسی ایک کے یہاں بھی برداشت کی یہ مثال نہیں ملتی ، یہی وجہ ہے کہ کسی ایک مسلم لیڈر نے بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کی جو مہاتما گاندھی نے موجودہ زمانہ میں حاصل کی ۔

سوئٹزرلینڈ کی ایک مشہور گھڑی ہے جس کا نام رولکس (Rolex) ہے ۔ اس کا اشتہار ایک میگزین میں نظر سے گزرا ۔ اشتہار میں گھڑی کے ساتھ ایک فلم پروڈیوسر (Placido Domingo) کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ گھڑی میرے لیے بہترین ہے ۔ کیوں کہ میرے طریقہ کے برعکس اس کو کبھی آرام کی ضرورت نہیں :

Printed page