Al-Risala · February 1987

Because, unlike me, Rolex never needs a rest.

Al-Risala, February 1987, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

گھڑی ایک بہت چھوٹی چیز ہے ، مگر وہ ایک بہت بڑی چیز کی یاد دلاتی ہے ۔ اور وہ خدا کا عظیم الشان نظام ہے ۔ زمین ہر لمحہ گھومتی ہے ، وہ کبھی آرام نہیں کرتی ۔ اسی طرح اس دنیا کی تمام

چیزیں ہر آن متحرک ہیں تاکہ وہ انسان کی ضروریات پوری کریں۔ انسان جب سوتا ہے اس وقت بھی کائنات کا کارخانہ اس کے لیے چلتا رہتا ہے اور جب جاگتا ہے اس وقت بھی۔ انسان کو خبر ہو یا نہ ہو وہ اپنے آپ مسلسل حرکت میں ہے تاکہ انسان کی تمام ضرورتیں فراہم کرے ۔ کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جس نے اس عجیب "کائناتی گھڑی" کو بنا کر کھڑا کر دیا۔

کانفرنس میں مختلف ملکوں کے تقریبا ۱۰۰ آدمی شریک ہوئے ۔ ہر مذہب کے نمائندہ نے اپنے مذہب میں مذہبی آزادی کی اہمیت بتائی۔ پھر مختلف ملکوں میں مذہبی آزادی کی عملی صورت حال پر اظہار خیال ہوا۔ اس کے بعد یورپ، ایشیاء، افریقہ، امریکہ کے الگ الگ گروپ بنائے گئے۔ نے اپنے اپنے براعظم کے اعتبار سے مذہبی آزادی کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ اس تبادلہ خیال کا خلاصہ ایک مختصر رپورٹ کی صورت میں کانفرنس کے عام اجتماع میں پیش کیا گیا۔

موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے اجتماعات اور کانفرنسوں کا زمانہ ہے۔ دنیا بھر میں ہر روز مختلف قسم کے اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان اجتماعات میں مسلمانوں کی دینی شخصیتوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے مگر مسلمانوں کی دینی شخصیتیں عام طور پر صرف مسلمانوں کے اجتماعات میں شرکت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں ان کے اسفاربھی صرف وہاں کے بسنے والے مسلمانوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کو مسلمانوں کے علاوہ بار بار غیر مسلم صاحبان کے اجتماعات میں شرکت اور خطاب کے مواقع ملے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ اجتماعات یہ ہیں : 1- آل مذاہب کانفرنس بگور نومبر 1959 وشو دھر سمین الٰہ آباد مئی 1960 ورلڈ فیلوشپ آف ریلیجنز نئی دہلی فروری 1965 انٹرنیشنل سیمینار آن ریلیجن نئی دہلی دسمبر 1973 مسلم کرسچین ڈائیلاگ طرابلس (لیبیا) فروری 1976 6- اسمبلی آف دی ورلڈ ریلیجنز نیو یارک (امریکہ) نومبر 1985 کونسل فار دی ورلڈ ریلیجنز بنگلور جون 1986 ورلڈ کونسل آن ریلیجس لبرٹی جینیوا (سوز لینڈ) دسمبر 1986

شعبه اکی دمی غلام جپانی ملتان مطبوعات اخلاص ملکر غلام جیلانی ملتان مطبوعات اخلاص ملکر صفحات ۲۸۰ ۲۸ روپے صفحات ۱۴۴ ۲۵ روپیہ ملکی و عالمی منظر نامه ، خا کی عظمت کا بیان احسان دین خان اضافة لمحفة الكتب التاريخية والآثرية قرآن ایک کتابِ ہدایت ھے، اسی سے تمام انسانوں کی رہنمائی اور نجات کا راستہ دکھایا گیا ھے، ابو لیسین خان مطبوعات اسلامی برکل قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے۔ وہ اُسی ابتدائی صورت میں کامل طور پر محفوظ ہے جیسا کہ وہ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اُترا تھا۔ نے قرآن کے پیغام کو اِتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ جب بھی وہ دُنیا کے سامنے اپنی اصلی شکل میں لایا جائے گا وہ اقوامِ عالم کو مسخر کرلے گا۔ خدا کو پا سب سے بڑی حقیقت کو پا نا ہے۔ کوئی آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو بدل دیتی ہے۔ وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ ، اس کا عمل اور اس کی تمام کارروائیاں ایک ایسے انسان کی کارروائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔

ہدیہ : ۲۵ روپیہ ہدیہ : ۲۰ روپیہ مکتبہ الرساله سی ۲۹ نظام الدین ویسٹ نئی دہلی ۱۱۰۰۱۳

خبرنامه اسلامی مرکز ۔

الرسالہ (انگریزی) کے اجراءاور انگریزی کتب کی اشاعت سے پہلے ہمارے اور غیر اردو داں طبقہ کے درمیان ایک قسم کا مواصلاتی فصل قائم تھا ۔ اب خدا کے فضل سے وہ فصل ٹوٹ چکا ہے ۔ انگریزی الرسالہ اور انگریزی تراجم کے ذریعہ وسیع تر حلقہ میں اسلامی مرکز کا پیغام مسلسل پہنچ رہا ہے ۔ عام انگریزی دانوں کے علاوہ خواص کی طرف سے بھی اس کی اطلاعات برابر ملتی رہتی ہیں۔ حال میں ہم کو ملیشیا کے پرائم منسٹر ڈاکٹر مہاتیر بن محمد (Dr. Mahathir Bin Mohammad) کا خط مورخہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۶ ملا ہے انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے لکھا ہے :

I scanned through the book 'Mohammad: The Prophet of Revolution' and find it very lucid and interesting. My congratulations to you on your contribution to Islamic thought. الرسالہ کو اللہ تعالیٰ ایسے عجیب طریقوں سے پھیلا رہے ہیں کہ پیشگی طور پر اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر ایک صاحب ظہران (سعودی عرب) سے اپنے خط مورخہ دسمبر ۱۹۸۶ میں لکھتے ہیں کہ میرا تاثر یہ ہے کہ الرسالہ کا اندازِ فطرت کے عین مطابق ہے۔ وجہ ہے کہ جو کوئی بھی اس کو ایک مرتبہ دیکھ لیتا ہے، متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ دو دن پہلے کی بات ہے، میں پوسٹ بکس سے الرسالہ انگریزی لیے چلا آ رہا تھا۔ لفٹ میں اس کو دیکھ رہا تھا کہ ایک صاحب کی نظر اس کے پہلے صفحہ پر پڑی جس میں لکھا ہوا تھا : What is sympathy. Sympathy is your pain in my heart. ان صاحب نے اس کو دیکھ کر فوراً کہا :

Printed page