Al-Risala · February 1987

Where from you get this magazine?

Al-Risala, February 1987, pp. 44–49

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے یہ سن کر فوراً انھیں وہ رسالہ دے دیا اور طریقہ بتا دیا کہ آپ اس طرح اس کو انڈیا سے منگا سکتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ الرسالہ ضمیر میں ایک قسم کا بھونچال مچا دیتا ہے اور آدمی اس کی ہر تحریر کا تقابل اپنے آپ سے کرنے لگتا ہے۔ میرے لیے الرسالہ بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ میرے سوچنے کے انداز کا رُخ بدل چکا ہے۔

۳- اسلامی مرکز کا مشن اللہ کے فضل سے دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ ہر طبقہ کے لوگ مرکز کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ۱۹۸۶ء کو کناڈا کے ایک پروفیسر (Dr M. Darrol Bryant) اسلامی مرکز میں آئے اور کئی گھنٹے تک صدر اسلامی مرکز سے تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات اور الرسالہ (انگریزی) کے بارہ میں غیر معمولی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ۴- الرسالہ اپنے قارئین میں کس قسم کا ذہن بنا رہا ہے، اس کا اندازہ مختلف طریقوں سے ہوتا ایک صاحب اپنے خط (۹ دسمبر ۱۹۸۶ء) میں لکھتے ہیں کہ حسن پور میں بہت سے لوگ الرسالہ کی آمد کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔ اور میرے بہت سے دوست اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز فرمائے۔ آپ نے ہمیں اسلام سے متعارف ہمیں محبت کرنا سکھایا ہے۔ الرسالہ کا پڑھنے والا کوئی بھی کسی سے نفرت نہیں کرتا۔ یہ آپ ہی کی دین ہے۔

نانڈیر سے مولانا عبد التمیر صاحب لکھتے ہیں کہ یہاں قارئین الرسالہ کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ۳۰ نومبر ۱۹۸۶ء کو قارئین الرسالہ کا ایک اجتماع ہوا۔ اس اجتماع کا عنوان تھا، موجودہ دور میں الرسالہ کی اہمیت و افادیت۔ نانڈیر کے علاوہ دوسرے قریبی مقامات کے لوگ بھی اس میں شریک ہوئے۔ یہ اجتماع توقع سے زیادہ کامیاب رہا۔ ہم نے محسوس کیا کہ کم از کم فکری اور نظریاتی طور پر بہت سے لوگ بلکہ بہت سے علماء اس تحریک سے متفق ہو رہے ہیں ۔

۶- الرسالہ (نومبر ۱۹۸۶ء) میں ”ایک تقاضا“ کے عنوان کے تحت ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ میں کہا گیا تھا کہ آج یہ ضرورت ہے کہ اسلام کے شرعی قانون کو وقت کے علمی اور عقلی معیار پر مدلل کر کے پیش کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں قارئین الرسالہ کی طرف سے متعدد خطوط موصول ہوئے ہیں کہ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے اسلامی مرکز نے کیا کیا ہے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ صدر اسلامی مرکز نے اس سلسلہ میں کافی تحقیق اور جدوجہد کے بعد خاص اس موضوع پر ایک کتاب تیار کی ہے، جو ”خاتونِ اسلام“ کے نام سے چھپ گئی ہے۔

قائین الرسالہ کی طرف سے مختلف قسم کے سوال نامے آتے رہتے ہیں اور صدر اسلامی مرکز ان کا جواب دیتے ہیں۔ اس قسم کے ایک سوال نامہ کا جواب اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔ آئندہ بھی انشاء اللہ اس قسم کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ایک صاحب ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ان کے ذریعہ سے جو لوگ الرساله خرید ر ہے تھے، ان میں سے کچھ افراد نے خریداری بند کر دی۔ صاحب ایجنسی کو فوری طور پر خیال ہوا کہ اس کے بقدر ایجنسی کی تعداد میں کمی کر دیں۔ مگر بعد کو ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ دفتر کو خط لکھنے سے پہلے نئے افراد کے اندر خریدار تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ انھوں نے نئے لوگوں کو الرساله دکھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی نئے خریدار بن گئے۔ حتی کہ انھیں اپنی ایجنسی میں الرسالہ کی تعداد کم کرنے کے بجائے اس کی تعداد میں اضافہ کا خط دفتر الرساله کو یہ ایک مفید تجربہ ہے۔ دوسرے صاحبان ایجنسی کو بھی اپنے حلقہ میں اس کا تجربہ کرنا چاہیے ۔

ایک صاحب لکھتے ہیں " پیغمبر انقلاب " بدست ہوئی ر جس کے مطالعہ نے پیغمبر آخرالزمان صل اللہ علیہ وسلم کا بہترین نقش میرے ذہن پر چھوڑا۔ اس سے قبل سیرت پاک پر مولاناشبلی نعمانی کا پہلا حصہ پڑھا تھا۔ جس سے حضور پاک کی عملی زندگی کا پورا خاکہ ذہن میں آگیا تھا۔ آپ کی تصنیف نے علمی اور تاریخی پیرائے میں جس واقعات کی تشریح کی وہ قابلِ مبارکباد ہے۔ الرساله کے مسلسل مطالعہ سے یہ بات مجھ پر خصوصی طور پر واضح ہو چکی ہے کہ آپ کا اندازہ نشہ قرآن کے مطلوب انسان کی مکمل ترجمانی ہے۔ یہ مسلمانوں سے منفی نفسیات کو چھوڑ کر مثبت رد عمل اپنانے کی دعوت دیتا ہے ۔ آپ کا مشن وہی ہے جس کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسوۂ حسنہ میں ظاہر فرمایا۔ بخدا آپ کی تصنیفات پڑھنے کے بعد زندگی میں نئی تازگی، امنگ اور جینے کا ولولہ پیدا ہوا ہے۔ اسلام اور قرآن کے تعلق سے جتنے شکوک وشبہات تھے رفتہ رفتہ دور ہو رہے ہیں۔ اسلام کو علمی اور فلسفیانہ انداز میں پیش کرنے کی کم ہی کوشش کی گئی ہے۔ میری طرح سائنس کے طالب علم جو ہر بات کو تجربہ اور ریسرچ کے پیمانہ میں دیکھنے کے عادی ہیں اور ہمارا تعلیمی نظام جو سیکولر ذہن ایسے حالات میں آپ کا لٹریچر بہت مفید ہے۔ ( (پر بھنی ، جون ۱۹۸۶)

مکرمی جناب حکیم عبدالقیوم صاحب ، لکھنو السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط مورخہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۶ ملا۔ آپ نے میرے بیان کی تردید میں تین مسلمانوں کی مثالیں پیش کی ہیں جنھوں نے قرآن کو مسزاندرا گاندھی کے سامنے "تحفہ" پیش کیا تھا۔ عرض ہے کہ آپ نے الرساله نومبر ۱۹۸۶ کا صفحہ ۴۲۔ ۴۳ غالباً زیادہ غور سے نہیں پڑھا ورنہ آپ کو معلوم ہو جاتا کہ میں نے جو لکھا ہے کہ کسی مسلم قائد نے مسزاندرا گاندھی کے سامنے خدا کی کتاب پیش نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی نے بطور تحفہ قرآن پیش نہیں کیا۔ بلکہ واضح طور پر میری مراد یہ ہے کہ قرآن کو جس طرح پیش کرنا تھا اس طرح پیش نہیں کیا۔ ایک کتاب جب کسی کو دی جائے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ پانے والا شخص واقعی معنوں میں اس کو لائق مطالعہ سمجھے ، دینے والا اس کتاب کے حق میں تجسس کی فضا پیدا کر سکے ۔ پریم نارائن گپتا کے ہاتھ میں جب اندرا گاندھی نے مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کو دیکھا تو " پر یم نارائن گپتا " کا نام ہی تجسس پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ مگر جب دینے والا " عبد الرحیم " ہو تو صرف نام مطلوبہ تجسس پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ایسی حالت میں لازمی طور پر کچھ مزید چیزوں کی ضرورت ہوگی۔ ۱- ہندوستان کے مسلمانوں نے اس ملک میں مسلسل جو قومی سیاست اختیار کر رکھی ہے اس کے نتیجہ میں وہ اس ملک میں صرف " مانگنے والی قوم " بن کر رہ گئے ہیں۔ اس ملک کے غیر مسلموں کی نظر میں مسلمانوں کی یہ تصویر باقی نہیں رہی ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جسے وہ دوسروں کو دے سکیں۔ مسلمانوں کو سب سے پہلے ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ اپنی اس تصویر کو بدلنا ہو گا ۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ان کی دی ہوئی کتاب غیر مسلم صاحبان کو قابل مطالعہ کتاب نظر آئے ۔

دوسری چیز فرد سے متعلق ہے۔ اس سلسلہ میں براہ کرم میری مطبوعہ تحریر کے ان الفاظ کو دوبارہ پڑھیں: "مسلم قائدین میں سے کوئی ایک بھی قائد نہیں جس نے ایسا کیا ہو کہ وہ اپنی رات کی تنہائیوں میں نمازیں پڑھ کر مسزاندرا گاندھی کی ہدایت کے لیے دعا کرے۔ صبح کو اٹھ کر وہ دو رکعت صلوۃ الحاجہ پڑھے اور رو رو کر اللہ سے مدد کی درخواست کرے ۔ اس کے بعد وہ قرآن کا ترجمہ لے کر مسٹر اندرا گاندھی کے یہاں جائے اور درد و سوز کے انداز میں ان سے گفتگو کر کے انھیں خدا کی کتاب پیش کرے ! " یہ آخری کم سے کم بات ہے جو کسی مسلمان فرد کو قرآن پیش کرنے والا بناتی ہے۔ اگر یہ آخری بات بھی نہ پائی جائے تو قرآن کو بطور تحفہ پیش کرنا موجودہ حالت میں صرف ایک مذاق ہے۔ اس کو خدا کی کتاب پیش کرنے کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔ (۲۲ دسمبر ۱۹۸۶)

مولانا وحید الدین خان دوسری کی شکات کر نا پکاو علاقات ہیں صرف اپنی تاری کا اعتراف ہوتا ہے

صدر اسلامی مرکز کرنے والے ہمیشہ اپنا کام آج کے دن کرتے ہیں اور نہ کرنے والے ہمیشہ اپنا کام کل کے دن

Printed page