Al-Risala · March 1988

دشمن میں دوست

Al-Risala, March 1988, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر سید عبد اللطیف (۱۹۷۱-۱۸۹۱) کرنول (دکن) میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے انگریز ترجمۂ قرآن اور دوسری خدمات کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ وہ مقامی ہائی اسکول میں اپنے والد کی اطلاع کے بغیر داخل ہو گئے تھے۔ والد کو انگریزی اور انگریزی تعلیم سے سخت نفرت تھی۔ ان کو معلوم ہوا تو غصہ ہو گئے اور درشت لہجے میں پوچھا کہ انگریزی پڑھ کر کیا کرے گا۔ دبلے پتلے، پست قامت لڑکے نے جواب دیا: انگریزی پڑھ کر قرآن کا ترجمہ انگریزی زبان میں کروں گا۔ ۱۹۱۵ء میں انھوں نے بی اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ ۱۹۲۰ء میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں انگریزی کے استاد مقرر ۱۹۲۲ء میں ان کے لیے نیا تعلیمی موقع پیدا ہوا جب کہ جامعہ عثمانیہ کے چار استادوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ بھیجنا طے پایا اور ان کے لیے ریاست کی طرف سے 30 ہزار روپے کا بلا سودی قرض منظور کیا گیا ۔ ان میں سے ایک سید عبد اللطیف بھی تھے۔

لندن پہنچ کر وہ وہاں بی اے (آنرز) میں داخلہ لینا چاہتے تھے۔ مگر کنگس کالج کے صدر شعبۂ انگریزی اور دوسرے انگریز اساتذہ آپ کی صلاحیت سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ آپ کو بی اے اور ایم اے سے مستثنیٰ کرتے ہوئے براہ راست پی ایچ ڈی کرنے کی اجازت دے دی۔ آپ کے مقالہ کا عنوان ”اردو ادب پر انگریزی ادب کے اثرات“ طے پایا۔ مقالہ کی تیاری کی مدت تین سال مقرر کی گئی تھی۔ آپ نے دو سال ہی میں پی ایچ ڈی کے مقالہ کی تکمیل کر لی۔ کنگس کالج کے ذمہ داروں نے اس کو منظور کرتے ہوئے ڈاکٹریٹ کا مستحق قرار دیا۔ سید عبد اللطیف مقررہ مدت سے ایک سال پہلے ڈاکٹر ہو کر حیدرآباد یہاں آپ کو فوراً جامعہ عثمانیہ کا پروفیسر بنا دیا گیا۔ (انجمن، از حسن الدین احمد آئی اے ایس)

۱۹۲۲ء میں انگریز کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا تھا۔ مگر اسی دشمن نے مسلمان طالب علم کے ساتھ فیاضی کا وہ معاملہ کیا جس کی مثال مسلم اداروں میں بھی مشکل سے ملے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ”دشمن انسان“ کے اندر بھی ”دوست انسان“ موجود ہوتا ہے۔ مگر اس دوست انسان کو وہی لوگ پاتے ہیں جو دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر انسانوں سے معاملہ کرنا جانتے ہوں۔

Printed page